ایران سعودی عرب کو غیر مستحکم کرکے مکہ، مدینہ پر قبضہ چاہتا ہے، یمنی سفیر کا دعویٰ

ایران سعودی عرب کو غیر مستحکم کرکے مکہ، مدینہ پر قبضہ چاہتا ہے، یمنی سفیر کا ...
ایران سعودی عرب کو غیر مستحکم کرکے مکہ، مدینہ پر قبضہ چاہتا ہے، یمنی سفیر کا دعویٰ

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان میں یمن کے سفیر محمد مطہر العشبی نے دعویٰ کیا ہے یمن کے ذریعہ ایران سعودی عرب کو غیرمستحکم کرکے مکہ مکرمہ اور مدینہ پر قبضہ جمانا چاہتا ہے ,یمن کے سفیر نے کہا یمن میں حوثی باغیوں کو سابق صدر عبداللہ صالح کی حمایت حاصل ہے۔

”روزنامہ نوائے وقت کے مطابق “انہیں بیرون ملک سے خاص طور پر ایران سے اسلحہ دیا جا رہا ہے۔ ان سے پوچھا گیا سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں مداخلت کرنے والا عرب اتحاد یمن میں اسلحہ کی سپلائی کو کیوں نہیں روک پا رہا تو یمنی سفیر نے کہا یمن کا دو ہزار کلومیٹر سمندری ساحل جس کے ذریعے اسلحہ یمن میں سمگل کیا جا رہا ہے، اسے روکنا ممکن نہیں۔

یمن کے سفیر سے استفسار کیا گیا کیا سعودی عرب اور یمن پاکستان سے ناراض ہیں اس نے یمن میں فوج نہیں بھیجی تو یمن کے سفیر نے کہا یمن اور سعودی عرب پاکستان کی پوزیشن کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ یمن کے سفیر نے ایک سوال پر کہا یمن میں تمام سیاسی جماعتوں اور دھڑوں نے مصالحت کےلئے اتفاق کر لیا تھا۔ حوثی باغی بھی مذاکرات میں شامل تھے۔ لیکن انہوں نے ایک خصوصی ایجنڈا کے تحت یمن میں اتفاق رائے سے حکومت بنانے کی مخالفت کر دی۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

باغیوں نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا۔ انہیں سابق یمنی صدر عبداللہ صالح کی حامی فوج کی بھی حمایت حاصل ہے۔ یمنی سفیر نے کہا خلیج تعاون کونسل کے ارکان نے یمن میں قیام امن کےلئے مصالحت کی کوشش کی تھی لیکن اس کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا گیا۔ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی فوجی مداخلت کا جواز پیش کرتے ہوئے یمن کے سفیر نے کہا سعودی عرب کے یمن میں اپنے مفادات ہیں جن کا وہ تحفظ کرنا چاہتا ہے۔

سعودی عرب نے ہمیشہ یمن کی اقتصادی امداد کی ہے۔ اس وقت بھی جو بحران ہے اس میں سعودی عرب یمن کی امداد کر رہا ہے۔ وہاں ادویات بھیج رہا ہے۔ یمن کے بحران کو حل کرنے کےلئے اقوام متحدہ کی کوششوں کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے یمن کے سفیر نے کہا اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے ایسا ایک اجلاس یمن کے بارے میں منعقد کیا اور ایک قرارداد کی منظوری دی لیکن باغیوں نے اس قرارداد پر بھی عملدرآمد نہیں کیا۔

پاکستان اور یمن کے درمیان تعلقات کو انتہائی دوستانہ قرار دیتے ہوئے یمنی سفیر نے کہا پاکستان نے ہمیشہ یمن کی مدد کی ہے۔ پاکستان کی تیل کی کمپنیاں یمن میں کام کر رہی ہیں۔ سینکڑوں یمنی طلبہ پاکستان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ کئی پاکستانی سکول یمن میں تعلیم دے رہے ہیں۔ پاکستان نے اس سال دس لاکھ من گندم بطور امداد یمن کو فراہم کی ہے۔

مزید : اسلام آباد