ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 29

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 29
ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 29

  

ٹیکسم پر افطاری

واپسی پر ٹیکسم پر ایک عجیب منظر دیکھا۔ ہزاروں افراد کرسیوں پر بیٹھے ہوئے روزہ کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں ۔ جبکہ ایک بلند اسٹیج پر کچھ گلوکار ساز اور موسیقی کے ساتھ بڑ ی دلکش آواز میں حمد ونعت پڑ ھ رہے ہیں ۔روزہ کھولنے والوں میں مقامی ہی نہیں بلکہ بہت سے مغربی سیاح بھی تھے ۔جبکہ بیشترہمارے جیسے مسلمان سیاح تھے ۔ان میں سے بیشتر کا روزہ نہیں تھا۔

ایسے میں روزہ داروں کو روزہ کھلوانے کے لیے یہ کوئی مناسب جگہ نہ تھی۔ مگر اس پہلو سے یہ بہت اچھا طریقہ تھا کہ غیر مسلموں کے سامنے اسلامی شعائر کا تعارف سامنے آ جاتا۔ دعوت کا ایک طریقہ تو یہ ہوتا ہے کہ آ پ اسلام کی تفصیل بیان کریں ۔ دوسرا یہ ہے کہ ہم اسلامی شعائر کا ایک نمونہ ان کے سامنے رکھ دیں ۔ ان میں سب سے بڑ ی چیز نماز اور اذان ہے ۔ ترکی کی اذانیں واقعی اس معاملے میں بڑ ی کمال کی تھیں ۔ ہمارے ہاں تو یہ اہتمام کیا جاتا ہے کہ جس درجہ کریہہ الصوت موذن ڈھونڈا جا سکے اس کو ڈھونڈ کر لایا جائے اور اس سے اذان دلوائی جائے ۔ اس میں بے چارے موذن کا کیا قصور ہے ۔ جس طرح کی تنخواہ ان کو ملتی ہے ، اس میں اسی سطح کے لوگ آئیں گے ۔یہی معاملہ مساجد کے ائمہ کی قرأت کا ہے ۔

ترکی سے آسٹریلیا تک پاکستانی سکالر ابویحیٰی کے مشاہدات۔ ..قسط نمبر 28  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حقیقت یہ ہے کہ نماز، اذان اور نماز میں کی جانے والی قرأت اسلام کا ایک انتہائی خوبصورت تعارف ہے ۔عام مسلمانوں کو مسجد سے قریب لانے کا بھی یہ ایک بہترین نسخہ ہے ۔ دوسری طرف غیر مسلموں کے لیے مسلمانوں کی نماز بڑ ی کشش کا باعث ہوتی ہے ۔ ہم مسلمانوں کے لیے تو یہ معمول کا نظارہ ہے ورنہ رکوع اور سجدہ اور قیام کو جب دور سے کھڑ ے ہوکر دیکھا جاتا ہے تو یہ ایک انتہائی پرکشش عمل ہوتا ہے ۔ یہی معاملہ حج کا ہے ۔اگرکوئی مسلمانوں کو حج کرتا ہوا دیکھ لے تو ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اس منظر سے متاثر نہ ہو۔

روزے کی افطاری بھی اسی طرح کا ایک ذریعہ ہے ۔ یہ اسلام کا خاموش تعارف ہے جو خود اللہ تعالیٰ نے اسلامی عبادات میں رکھ دیا ہے ۔ یہ اپنی ذات میں ایک کمال کی چیز ہے ۔ مگر ہم مسلمان اپنے دین اور عبادات کی اسپرٹ سے واقف ہیں نہ ان کی ظاہری فارم کی قوت کو سمجھتے ہیں ۔ نہ ہم میں دعوتی مزاج ہے نہ ہمیں اپنے دین کو دوسروں تک پہنچانے سے بہت زیادہ دلچسپی ہے ۔ ورنہ یہی چیزیں نجانے کتنے لوگوں کے دلوں میں اسلام کی محبت پیدا کرنے کے لیے کافی ہیں ۔

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

ہم نے جب اس ٹور کا پلان بنایا تھا تو اس میں یہ قطعی طے تھا کہ رمضان سے پہلے ہم واپس لوٹ چکے ہوں گے ۔مگر ویزہ بہت دیر سے ملا۔ویزہ ملا تو ایک خیال یہ آیا کہ رمضان کے بعد سفر کر لیا جائے ۔مگرباوجوہ یہ خیال رد کر دیا۔ بعد میں ترکی میں جو حالات پیدا ہوئے اور مجھے آسٹریلیا کا جو سفر درپیش ہوا ، ان سارے حالات کی بنا پر محسوس یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے درست فیصلہ کروادیا۔ ورنہ بعد میں شاید یہ سفر اس طرح ممکن ہی نہیں رہتا۔آغاز سفر میں تاخیر کی بنا پر واپسی بھی کچھ دیر سے ہوئی اور دوابتدائی روزے ہمیں استنبول میں گزارنے پڑ رہے تھے ۔

مگر پہلا روزہ بلکہ چاند رات ہوتے ہی مجھ پر ایک عجیب کیفیت طاری ہو چکی تھی۔گرچہ اس سفر میں ہم دوپہر کا کھانانہیں کھاتے تھے ۔ عملی طور پر تو ہم روزہ ہی رکھ رہے تھے ۔مگر میں اپنے مزاج کے لحاظ سے دین کی رعایت سے فائدہ اٹھانے کا قائل ہوں ۔اس سے انسان میں ایک طرف اپنے عجز کا احساس زندہ رہتا ہے اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی بے پناہ محبت کا احساس ہوتا ہے کہ وہ ہماری کس طرح رعایت کرتا ہے ۔وہ قدیر مطلق ہے جو چاہے حکم دے اور ہر فرمان کی شکل میں اسی طرح پکڑ لے جیسے زمانہ قدیم کے بادشا ہوں کے ایک حکم پر بڑ ے بڑ ے لوگوں کے سر قلم ہوجاتے تھے ۔ مگر وہ طاقت کی اس انتہا کے باوجود نہ سختی کرتا ہے ، نہ پکڑ نے میں جلدی کرتا ہے ۔ بلکہ جو مطالبات رکھے گئے ہیں ، ان میں بھی انسانی عجز کی رعایت کرتا ہے ۔

سو رمضان شروع ہونے کے باوجود میں نے روزہ نہیں رکھا اور اس رعایت کا فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا کہ یہ روزے رمضان کے بعد پورے کر لیے جائیں ۔ مگر رمضان شروع ہونے کا احساس ، روزے کے دن بغیر روزہ رکھے گزرنے کا احساس اور بغیر روزے کے لوگوں کو روزہ افطار کرتے دیکھنے کے احساس نے طبیعت پر ایک عجیب طرح کی کیفیت طاری کر دی۔ یہ کیفیت اپنے عاجز اور گنہ گار ہونے کے احساس کی تھی۔یہ کیفیت محرومی اورپیچھے رہ جانے کے احساس کی تھی۔ یہ کیفیت ابرکرم کی برسات میں اپنا حصہ نہ پانے کی کیفیت تھی۔

اس دنیا میں محرومی کا یہ احساس بڑ ی نعمت ہے ۔اس لیے کہ یہی احساس انسان کو زندہ رکھتا ہے ۔ یہی احساس انسان میں اپنی کمی کی تلافی کا جذبہ پیدا کرتا ہے ۔ یہی احساس آنسوؤں اور دعاؤں سے پروردگار سے جڑ نے پر آمادہ کرتا ہے ۔ یہ احساس نہ ہو تو انسان اپنی نگا ہوں میں بہت نیک ہوجاتا ہے ۔مگر پھر خدا کی نگا ہوں سے گرنے کا بڑ ا امکان پیدا ہوجاتا ہے ۔

رمضان کے ان دودنوں میں شعیب بن عزیز کے یہ اشعاربہت یاد آتے رہے گرچہ ان اشعار کا رمضان سے کوئی تعلق نہیں ۔

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں

اب تو اس کی آنکھوں کے میکدے میسر ہیں

پھر سکون ڈھونڈو گے ساغروں میں جاموں میں

دوستی کا دعویٰ کیا عاشقی سے کیا مطلب

میں ترے فقیروں میں ، میں ترے غلاموں میں

جس طرح شعیب اس کا نام چن لیا تم نے

اس نے بھی ہے چن رکھا ایک نام ناموں میں

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں

آخری دن اہلیہ نے باقی ماندہ شاپنگ پوری کی۔سامان پیک کیا اور جانے کے لیے ہم تیار ہوگئے ۔اس وقت تک سہ پہر ہو چکی تھی ۔پروگرام یہ تھا کہ ایک دفعہ پھر پرنسزآئی لینڈ کا چکر لگایا جائے ۔ ہمیں وہاں رکنا نہیں تھا صرف آنا اور جانا تھا ۔ پیش نظر یہ تھا کہ سمندر میں سورج ڈوبنے کا منظر دیکھیں گے ۔وہاں سورج ساڑ ھے آٹھ پر ڈوبتا تھا۔ امید یہ بھی تھی کہ شام کے وقت پرنسز آئی لینڈ کی خوبصورتی کچھ نکھر بھی جائے گی اور پچھلی دفعہ کی کسر بھی نکل جائے گی جب عین دوپہر اور سخت دھوپ میں یہاں آئے تھے ۔

تاہم جب تک ہم فیری کے اڈے پر پہنچے چھ بجے والی فیری نکل چکی تھی۔ اگلی کے لیے ایک گھنٹے مزید انتظار کرنا پڑ تا۔ جس کے بعد یہ ممکن نہ تھا کہ پرنسز آئی لینڈ پہنچ کر کچھ وقت وہاں گزارا جائے اور پھر غروب آفتاب کے وقت آیا جائے ۔

(جاری ہے)

مزید : سیرناتمام