بلوچستان میں خبر بنانے والوں کی بھی سنئے

بلوچستان میں خبر بنانے والوں کی بھی سنئے
بلوچستان میں خبر بنانے والوں کی بھی سنئے

  

میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہونے کے باوجود صوبہ بلوچستان میں انتہائی خطرناک پیشہ بن چکا ہے۔ میرے خیال سیبلوچستان میں سب سے زیادہ صحافی مارے جاچکے ہیں ۔ اب تک بلوچستان میں چالیس صحافی اپنی آواز بلند کرنے کے نتیجے میں شہید کیے جاچکے ہیں۔

بلوچستان کے خبر بنانے والوں کے کیا تاثرات ہیں اور وہ کن کن مشکلات سے دوچار ہیں؟ انتظامیہ کے خلاف خبر کیسے چلاتے ہیں اور رشوت خور پولیس اہلکاروں سے کیسے ٹکر لیتے ہیں؟ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار ہم نے ان خبر بنانے والوں (یعنی صحافیوں) کی خبر دی ہے۔

بلوچستان کے دو معروف خبر نگار نور محمد جمالی اور ستار ترین سے بات چیت کا موقع ملا تو ستار ترین نے بتایا’’ دہشت گردی کے خاتمے کیلیے بلوچستان کے صحافی نہایت اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں لیکن افسوس ہمارے معاشرے میں ان کو جائز مقام کبھی میسر نہیں رہا۔ آج بھی بلوچستان کے دوردراز علاقوں میں خبر بنانے والوں کو زنجیروں میں جکڑا جاتا ہے۔ اب ان حالات میں ایک رپورٹر بدامنی کو کیسے کنٹرول کر سکتا ہے؟ٹھیک ہے کہ قلم میں بہت طاقت ہے، ایک دو لائن کی خبر بھی معاشرے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ صحافیوں کو ہر معاشرے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خبریں بنانے والوں کی موجودگی میں عوامی نمائندے بہت سنبھل کر بات کرتے ہیں۔ بلوچستان میں اچھے پیشہ ور صحافیوں کی کمی نہیں لیکن بدقسمتی سے ان کا پرسانِ حال کوئی نہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض صحافی حضرات بغیر تحقیق و تصدیق کے من گھڑت اور خوشامدی خبریں بھی دیتے ہیں جن کی وجہ سے عوام کا اخبارات اور ٹی وی چینلز پر اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے، سوشل میڈیا کی بدولت اخبارات سے پہلے خبریں پھیل جانے کی وجہ سے اخبارات کی اہمیت کم ہوتی جارہی ہے لیکن پھر بھی اخبارات کی شہ سرخیوں اور ادارتی صفحوں نے ہزاروں لوگوں کو ہر صبح اخبارات دیکھنے کا عادی بنایا ہوا ہے‘‘

نور محمد جمالی کا کہنا ہے کہ اخباری مالکان ہمیشہ اپنے کارکنوں کا استحصال کرتے ہیں۔ خود تو اشتہارات و مراعات کے مزے لوٹتے ہیں لیکن ورکرز کو وقت پر ان کی جائز اجرت بھی نہیں دیتے۔ حکومت پاکستان کی طے کردہ کم سے کم تنخواہ کے مطابق خبر بنانے والوں کی کم از کم تنخواہ پندرہ ہزار روپے ضرور ہونی چاہیے، مگر معاملہ یہ ہے کہ اخباری دفاتر میں کام کرنے والے سب ایڈیٹرز اور کمپیوٹر آپریٹرز شام پانچ بجے سے لیکر رات گئے تک اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں، مسلسل کئی کئی گھنٹوں تک کام کرتے ہیں اس کے باوجود مالکان کا رویہ ان کے ساتھ مبنی بر زیادتی ہوتا ہے۔ اخباری مالکان کو چاہیے کہ قلم کاروں کو ان کا جائز منصب اور عزت و احترام دینے کے ساتھ ساتھ وقت پر ان کی اجرت بھی ادا کریں تاکہ خبر نگار بھی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سکون کی زندگی گزار سکیں‘‘

سعید نورمقامی جریدہ کے ایڈیٹر ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ چاہے کسی کو برا لگے یا بھلا، ہم چپ نہیں رہ سکتے۔ خدا نے ہمیں خبر بنانے کا جو ہنر دیا ہے اس کا تقاضا ہے کہ ہم لوگوں کی فلاح و بہبود کیلیے آواز بلند کریں۔ ہم سب سچ لکھتے رہیں گے، چاہے ہمارے ہاتھ ہی قلم کیوں نہ کردیئے جائیں۔ میڈیا سے وابستہ ہر فرد کو اپنی فٹنس پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ بلوچستان میں آئے روز ہونے والے بم دھماکوں کے واقعات سے صحافی بھی محفوظ نہیں۔ لہٰذا احتیاط علاج سے بہتر ہے‘‘

سلیم گوپانگ گزشتہ دس سال سے بلوچستان میں الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے بتایا ’’ ٹی وی مالکان بلوچ صحافیوں کو تنخواہ وقت پر نہیں دیتے، اگر دیتے بھی ہیں تو اتنی کم کہ بتاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ علاوہ ازیں ٹی وی چینل کے دفاتر میں کام کرنے والوں کو چائے کھانا، کچھ بھی نہیں دیا جاتا، سب اپنی جیب سے خرچ کرنا ہوتا ہے۔ ایک آدھ ہی ایسے چینلز ہیں جو اپنے اسٹاف کو رات کا کھانا بمشکل کھلا دیتے ہیں تاکہ رات گئے آنے والی کوئی بریکنگ نیوز رہ نہ جائے‘‘

شاہ محمد مری جو کئی سال سیماہنامہ رسالہ ’’سنگت‘‘ بلوچستان سے نکالتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ بعض صحافی حضرات صحافت کو کاروبار اور بینک بیلنس بنانے کا اچھا اور آسان ذریعہ بناچکے ہیں۔ بلوچستان میں شعبہ صحافت اور صحافی برادری کو اظہار رائے کی آزادی کیلیے انتہائی مصائب اور کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صحافی کا کارڈ گلے میں لٹکانا ہی کافی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور پروفیشنل صحافی ہی اس بات کو بہتر جانتا ہے اور سمجھتا ہے کہ صحافتی زندگی کتنی کٹھن ہوتی ہے۔ ایک ورکنگ جرنلسٹ کی زندگی اس قدر مشکل ہوتی ہے کہ وہ اپنے رشتے داروں تک کیلیے بھی وقت نہیں نکال سکتا۔ ایک ذمہ دار صحافی عوام الناس کو ہی اپنی فیملی اور اس ملک کو اپنا سب کچھ مان کر ان کے حقوق اور تحفظ کی جنگ لڑتا ہے، اس بات کی پروا کیے بغیر کہ کسی کو اس بات کی قدر اور تحسین ہے یا نہیں۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

دین محمد وطن پال جو کم عمری میں ہی کیمرہ مین بن گئے تھے، انہوں نے بتایا کہ آج کل ناتجربہ کار کیمرہ مین صحافیوں نے صحافت کے اصولوں کو پامال کرکے صحافت کو داغدار کردیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ چند صحافی حضرات کیمرہ مین کو صحافی تک نہیں مانتے، حالانکہ بلوچستان میں بم دھماکوں میں سب سے زیادہ کیمرہ مین صحافی ہی شہید ہوئے ہیں۔ اس لئے کیمرہ مین کو بھی صحافی ماننا ضروری ہے۔ جب کوئی خبر بغیر تصویر کے جاتی ہے تو قارئین اس خبر کو نسبتاً کم اہمیت دیتے ہیں۔ کیمرہ مین بھی صحافت کا ایک اہم حصہ ہیں، رپورٹر کیمرہ مین کے بغیر ادھورا ہوتا ہے۔بلوچستان جیسے علاقے میں یہ جاب بڑی مشکل ہے۔اس لئے کیمرہ مینوں کو ان کا حق ضرور ملنا چاہئے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -