”برداشت کر سکتے ہیں اور نہ اجازت دے سکتے ہیں کیونکہ۔۔۔“ احسن اقبال نے حافظ سعید سے متعلق حیران کن اعلان کر دیا، ایسی بات کہہ دی کہ بھارت کی خوشی کی انتہاءنہ رہے گی

”برداشت کر سکتے ہیں اور نہ اجازت دے سکتے ہیں کیونکہ۔۔۔“ احسن اقبال نے حافظ ...
”برداشت کر سکتے ہیں اور نہ اجازت دے سکتے ہیں کیونکہ۔۔۔“ احسن اقبال نے حافظ سعید سے متعلق حیران کن اعلان کر دیا، ایسی بات کہہ دی کہ بھارت کی خوشی کی انتہاءنہ رہے گی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ ریاست پاکستان حافظ سعید کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ سیکیورٹی کونسل کی قرارداد کے مطابق حافظ سعید کا نام اس فہرست میں ہے جس میں ان کے ساتھی اور ان کی تنظیم کسی سیاسی سرگرمی میں یا کسی اور سرگرمی میں کسی اور نام سے بھی حصہ نہیں لے سکتے اور اگر ہم ان پروٹوکولز کی خلاف ورزی کریں گے تو پاکستان اس کی بہت بھاری قیمت ادا کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ہم کسی کیلئے ضد رکھنے والے نہیں،ہم چاہتے ہیں فیصلہ دیں تو کوئی کہتا پھرے کہ فیصلہ کیوں دیا،چیف جسٹس ثاقب نثار

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران سینئر صحافی و میزبان اجمل جامی نے احسن اقبال سے سوال کیا کہ ”حافظ سعید نظربند تھے لیکن نظربندی ختم ہو گئی کیونکہ عدالت نے اس میں توسیع نہیں کی۔ اب مبینہ طور پر انہوں نے صحافیوں کیساتھ حالیہ ملاقات کی جس میں انہوں نے انتخابی سیاست میں آنے کے عزم کا اظہار کیا۔ وہ لاہور سے ملی مسلم لیگ کے ذریعے کسی حلقے سے انتخاب لڑنا چاہتے ہیں، وفاقی وزارت داخلہ، حکومت پاکستان، ریاست پاکستان اس بات کی متحمل ہو سکتی ہے کہ حافظ سعید کو الیکشن لڑنے دیا جائے؟“

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”دیکھیں پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور اقوام متحدہ اور سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرنے کا پابند ہے۔

اس وقت تک صورتحال یہ ہے کہ سیکیورٹی کونسل کی پاکستان بارے قرارداد کے مطابق حافظ سعید کا نام اس فہرست میں ہے جس میں ان کے ساتھی اور ان کی تنظیم کسی سیاسی سرگرمی میں یا کسی اور سرگرمی میں کسی اور نام سے بھی حصہ نہیں لے سکتے اور اگر ہم ان پروٹوکولز کی خلاف ورزی کریں گے تو پاکستان اس کی بہت بھاری قیمت ادا کر سکتا ہے۔

اس لئے میں کہوں گا کہ اگر یہ لوگ پاکستان کے خیرخواہ ہیں تو ان کو پاکستان کی ان بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرنا چاہئے، جس کے اوپر کسی قسم کی روح گردانی ہم برداشت کر سکتے ہیں اور نہ اس کی اجازت دے سکتے ہیں۔“

اجمل جامی نے سوال کیا کہ ”امریکہ محکمہ خزانہ نے 2008ءمیں دہشت گردی کی فہرست میں ان کا نام شامل کیا تھا، پھر یو این او نے 2008ءمیں کیا تھا اور جب ان کی نظربندی ختم ہوئی تو غالباً امریکی سفیر نے بھی حکومت پاکستان سے کچھ تحفظات کا اظہار کیا تھا، تو آپ جواب میں کہہ رہے ہیں کہ انہیں ’کرنا چاہئے‘۔ تو کرنا چاہئے اور بین الاقوامی دباﺅ، اس کے درمیان میں کیا ہے؟“

یہ بھی پڑھیں۔۔۔پاکستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کرے ورنہ۔۔۔ سی آئی اے چیف نے پاکستان کو سنگین دھمکی دے دی

احسن اقبال نے اپنے جواب کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ”میں نے یہ تو نہیں کہا کہ انہیں کرنا چاہئے، میں نے کہا ہے کہ جو سیکیورٹی کونسل کی قراردادیں ہیں ان کا پاکستان پر اطلاق ہوتا ہے اور ہم ان کے پابند ہیں۔ ہم کیسی ایسے اقدام کی اجازت دے سکتے ہیں اور نہ قیمت ادا کر سکتے ہیں، جو ان سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں میں کیا جائے۔

اس لئے حافظ سعید اور ان کے گروپ کو بھی پاکستان کے اوپر سیکیورٹی کونسل کی قرارداد کا احترام کرنا ہو گا اور اس کے مطابق اپنا لائحہ عمل طے کرنا ہو گا۔ ہم اس قرارداد کے تحت پابند ہیں کہ ناصرف انہیں سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے سکتے بلکہ کسی اور نام سے بھی انہیں اجازت نہیں دے سکتے، یہ امریکہ کا معاملہ نہیں بلکہ سیکیورٹی کونسل کا معاملہ ہے اور پاکستان اس کا پابند ہے۔

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

مزید : قومی