ہماری جان و مال کا محافظ محکمہ پولیس اپنی ذاتی زندگی کو نظر انداز کرتے ہوئے ، اپنے فرائض کی ادائیگی میں بھر پور مگن۔۔۔!!

ہماری جان و مال کا محافظ محکمہ پولیس اپنی ذاتی زندگی کو نظر انداز کرتے ہوئے ، ...
ہماری جان و مال کا محافظ محکمہ پولیس اپنی ذاتی زندگی کو نظر انداز کرتے ہوئے ، اپنے فرائض کی ادائیگی میں بھر پور مگن۔۔۔!!

  

تحریر: فضہ شہباز

انسان اپنا لئے سب سے بڑا وکیل اور دوسروں کے لئے سب سے بڑا جج ہے جو اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔اپنی کو تاہیوں کا سارےکا سارا بوجھ اوروں کے کندھوں پر ڈال کر خود فرارحاصل کر لیتا ہے۔ کبھی کبھار تو کسی کی انفرادی غلطی کا بوجھ سارے کے سارے سسٹم ،ڈپارٹمنٹ یا حکومت کے کندھوں پر ڈال دیتا ہے۔ کسی بھی بے ہنگم، نزاعی معاملے میں مختلف شعبوں پر تنقیدکرنا اور اس کی کار کردگی پر سوال اٹھانا ، ہم اپنی اولین ذمہ داری سمجھتے ہیں۔حالات و واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی کو چھینک بھی آجائے تو اس کی قصور وار بھی حکومت یا وہ محکمہ ہے جو میڈیا کی شہ سرخیوں کی زینت بنا ہوا ہو۔

اخلاقیات اور حسن سلوک کسی بھی فرد کا ذاتی فعل ہے۔ انسان کا رویہ اسکے اپنے ظرف ، خاندانی اقدار اور تربیت کا آئینہ ہوتا ہے۔ لیکن جب کسی معاشرے میں اخلاقی روایات کو دفن کیا جاتا ہے تومسلسل پستی اور زبوں حالی اس معاشرے کا مقدر بن جاتی ہے۔ چند روز قبل ملتان میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیاجس نے اخلاقیات، آداب و احترام سے جڑے تمام ابواب کے پرخچے اڑا دیے۔ملتان پولیس کے چند اہلکاروں نے بد تمیزی اور بد فعلی کی تمام حدیں عبور کر تے ہوئے عمر رسیدہ، بزرگ جوڑے کے ساتھ انتہائی ناروا برتاؤ کیا۔ ملتان ڈویلپمنٹ اٹھارٹی نے معمر جوڑے کی اراضی پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا تھا اور وہ اپنی زمین کے حصول کی تگ و دو میں ملتان اتھارٹی کے دفتر کے باہر ایڑھیاں رگڑ رہے تھے کہ ملتان پولیس کے چند اہلکار بزرگ جوڑے کو زبردستی گھسیٹتے پولیس تھانے لے جانے لگے۔ افسوس۔۔۔!!ان اہلکاروں نے کی ستم ظریفی کہ وہ بالوں میں اتری سفیدی اور زمانے کی فکر و سوچ سے چہرے پر پڑی جھریوں کی بھی لاج نہ رکھ سکی اور کمزور ناتواں بزرگوں پر اپنی طاقت آزمانے لگی۔ میڈیا پر یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ جیسے ہی وزیر اعلیٰ پنجاب تک یہ بات پہنچی، انہو ں نے فی الفور و نوٹس لیا اور متعلقہ ایس پی اور ڈی ایس پی کوان کے عہدوں سے بر طرف کر نے کے ساتھ ساتھ برزگ جوڑے کی بیمار بیٹی کے علاج اور زمین کی واپسی کی یقین دہانی بھی کروائی۔

یہ تو ہے اس واقعہ سے جڑے حقائق۔۔۔!!

اب آجائیں اپنے معاشرے کے افراد کے رویوں کی طرف۔۔۔!! انسان اپنی عقل کے مطابق باتوں اور واقعات کو سمجھتا ہے۔ ایک دانا عقلمند ا نسان پیچیدہ سے پیچیدہ معاملات کو انتہائی سمجھ داری سے حل کرتا ہے جبکہ نا سمجھ انسان معمولی سی بات میں بگاڑ پیدا کرکے  چھوٹے سے مسئلے کا بہت بڑا بتنگڑ بنا دیتا ہے۔ ملتان واقعہ پر بھی عوام کا رد عمل بھی ایسا ہی تھا۔ہمارے معاشرے کے باوقار افراد نے  ملتان میں بزرگ جوڑے کے ساتھ پیش آئے واقعہ کا ذمہ دار پولیس کے پورے محکمہ کو ٹہھرایا۔ ۔قصور ملتان پولیس کے چند لوگوں کا تھا مگر عوام کی نظرمیں پوری پنجاب پولیس کھٹکنے لگی اور ساری کی ساری پولیس کی کارکردگی پر انگلیاں اٹھنے لگی۔

پولیس کے کسی ایک افسر یا سپاہی کی غلطی کی سزا پورے محکمے کو کیسے دی جا سکتی ہے۔۔؟؟.بے بنیاد الزامات سے ایماندار اور مخلص پولیس اہلکار بھی اثر انداز ہوتے ہیں جواپنوں سے دور دن رات ہماری جان و مال کی حفاظت پر معمور ہیں۔ یہاں تک کہ امن و امان کے قیام اور ہمارے تحفظ کے لئے تہوار کے موقعوں پر ا نھیں خاص طور ڈبل ڈیوٹی دینی پڑتی ہے۔۔ذرا سوچیں، اگر عید کا موقع ہو، مگر ہم اپنے گھر والوں سے دور رہنا پڑے، یا پھر ہمارے والدیا بھائیوں میں سے کوئی موجود نہ ہو،تو ہماری عید کیسی گذرے گی۔۔؟؟ یقینًًاعید کے سب ہی رنگ ماند پڑ جائیں گے۔۔۔!! ہمارا اپنا کوئی ہسپتال میں پڑا زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہو اور ہم اس کے ساتھ نہ ہوں، ہماری کیا حالت ہو گی۔۔؟؟ ہمارے لئے تو ایسی حساس باتوں کو سوچنا بھی مشکل ہے ۔ یہ پولیس والے بھی تو کسی کے باپ، بھائی ، بیٹے ہوتے ہیں۔انکی زندگی میں نہ جانے کتنی بار ایسے موڑ آ ئے ہوں گے جب انھیں ذاتی معاملات اور فرائض کی ادائیگی میں سے کسی ایک چیز کو چننا پڑتا ہوگا۔عید تہوار ہو یا کوئی غم کا موقع، اپنے نجی زندگی کو پش پست رکھتے ہوئے پولیس اہلکار اپنی فرض شناسی کا ثبوت دے رہے ہیں۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

قابل شکن بات یہ ہے کہ اس واقعہ میں پولیس جیسے ایک مقدم شعبہ کے چند لوگ ملوث تھے ، مگر بد اخلاقی، غیر ذمہ درانہ رویے کاداغ پوری پولیس فورس کے دامن پر لگا۔جو غلط ہے وہ قابل سزا ہے، مگر کسی ایک کی غلظی کی سزا سب کو دینا کہا ں کا انصاف ہے۔۔؟؟ نہ جانے کتنے پولیس افسران دوران دیوٹی،شہریوں کی حفاظت، انکی سلامتی اور شہر میں قائم امن و امان کی خاطر اپنی جان کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔کیا ہم میں سے کوئی ان کی قربانیوں کے گن گاتا ہے۔۔؟؟ ہم میں سے کتنے لوگ تو ان شہادتوں سے بھی بے خبر ہیں، جو ان پولیس والوں نے اپنا فرض ادا کرتے ہوئے حاصل کیں۔ کیا کبھی ہم نے انکی شہادت کا یوں چرچہ کیا جس طرح ہم ملتان واقعہ میں ملوث پولس اہلکاروں کے رویہ کا کر رہے ہیں۔ایس ایس پی آپریشنل زاہد گوندل ، ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن مبین ، ڈی پی او ناروال طیب اور ایس پی کینٹ سمد شاہ بھی تو اسی پولیس فورس کا حصہ تھے جنھوں نے دوران ڈیوٹی جام شہادت نوش کی ۔ آج کتنی زبانوں پر ان شہدا کے نام ہیں؟؟

ہم کیوں بلاجواز تنقید کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔۔۔؟؟ کسی کی اچھائی ہمیں کیوں نظر نہیں آتی؟ کسی کا بھلائی کے لئے کیا گیا کام ،ہم کیوں بھلا دیتے ہیں؟کیوں ہم ہمیشہ غلط اور منفی پہلوؤں کو طول دیتے رہتے ہیں۔۔؟؟؟ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ۔اچھے برے، کھرے کھوٹے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔پولیس ایسا محکمہ ہے جسے ریاست نے عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لئے چنا ہے اگر پورے کا پورا پولیس محکمہ ہی خراب ہوتا تو یقیناً آج ہم اتنی آزاد اوربے فکرزندگیاں بسر نہ کر رہے ہوتے۔ بلاشبہ اپنے پیشے کے ساتھ بے ایمانی کرنے والے پولس اہلکاروں کو بے نقاب کرنا ضروری ہے مگر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایماندار اور فرض شناس پولیس اہلکاروں کے دامن کو الزامات کی گندگی سے پاک ہی رکھا جائے اور ان ذمہ دار پولیس افسروں کو بھی یاد رکھا جائے جن کی قربانیوں کے سبب آج ہم محفوظ ہیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ