چناب نگر میں چالیسویں دوروزہ ختم نبوت کانفرنس کا بنیادی مقصد کیا تھا

چناب نگر میں چالیسویں دوروزہ ختم نبوت کانفرنس کا بنیادی مقصد کیا تھا
چناب نگر میں چالیسویں دوروزہ ختم نبوت کانفرنس کا بنیادی مقصد کیا تھا

  

اِن دنوں ملک میں تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے حکمرانوں کی ہوشیاری اورعوام کی بیداری کا ماحول گرم ہے۔حلف نامۂ ختم نبوت میں تحریف وتبدل اورپھر نئے سرے سے اُس کی بحالی اوردھرنوں کے بعدطرح طرح کی تبصرے جاری ہیں۔اِس پیش منظر میں مجلس احراراسلام پاکستان کے زیراہتمام چالیسویں دوروزہ ختم نبوت کانفرنس ،مسجداَحرارچناب نگرمیں منعقدہوئی۔جس میں پاکستان بھر سے تمام دینی وسیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اورکارکنوں نے بھرپورشرکت دیکھنے میں آئی۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

ختم نبوت کانفرنس کی پہلی نشست11ربیع الاول کو ظہرکے بعدشروع ہوئی ۔جس سے نامورصحافی اوربزرگ احراررہنمامولانا مجاہدالحسینی مدظلہ‘ نے خطاب فرمایا۔ بعدنمازعشاء ممتازرُوحانی شخصیت حضرت پیر ناصرالدین خان خاکوانی دامت برکاتہم کی زیرصدارت دوسری نشست کا آغازہوا۔جس سے حضرت سیدمحمدکفیل بخاری،عبداللطیف خالدچیمہ ،مولانا محمدصابرسرہندی،چودھری محمداسلام ،مولاناتنویرالحسن احرار،حضرت امیرشریعت کے پوتوں سید عطاء اللہ شاہ ثالث بخاری اورمولاناسیدعطاء المنان بخاری نے خطاب کیا۔12ربیع الاول کو صبح مولانا محمدمغیرہ خطیب مسجداحرارنے درس قرآن دیا۔صبح نوبجے حسب روایت پرچم کشائی کی تقریب پروفیسرخالدشبیراحمدکی زیرصدارت منعقدہوئی۔جس سے سیدمحمدکفیل بخاری،نبیرۂ امیرشریعت،ابن ابوذرحافظ سیدمحمدمعاویہ بخاری،سیدعطاء اللہ شاہ ثالث بخاری،ظہیراحمدکشمیری،مولانا محمداکمل نے خطاب کیا۔بعداَزاں پاکستان اورمجلس احرارکے جھنڈے لہرائے گئے اوراَحرارکا ترانہ پڑھاگیا۔صبح دس بجے کانفرنس کی پہلی نشست کی کارروائی شروع ہوئی۔جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیرحضرت صاحبزادہ مولانا خواجہ عزیز احمدمدظلہ‘(خانقاہ سراجیہ)نے فرمائی۔مہمان خصوصی جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر حافظ حمداللہ،جمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف فاروقی،مجلس احراراسلام پاکستان کے نائب امیر پروفیسر خالد شبیر احمد،ڈاکٹر عمرفاروق احرار،قاری محمد یوسف احرار،میاں محمد اویس ، مفتی صبیح الحسن ہمدانی ،قاری عبیدالرحمن زاہد،سید محمد زکریا شاہ ،افتخار احمد فخر، سیف اللہ خالد ،مولانا محمد وقاص سعید ایڈووکیٹ ،انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سربراہ مولانا محمد الیاس چنیوٹی(ایم پی اے)،قاری شبیر احمد عثمانی ،جمعیت علماء اسلام کے نائب امیرمولانا عبدالخالق ہزاروی،ابن حضرت درخواستی مولانا فضل الرحمن درخواستی،مولانا تنویراحمد علوی،مولانا محمد سرفراز معاویہ،مولانا ملک خلیل احمد،مولانا محمد مطلوب چنیوٹی،مفتی محمدزبیربن مفتی محمد حسن،مولاناسید انیس احمد شاہ،سید مطیع الرحمن ہمدانی قصوری،مفتی زاہد محمود جوہر آباد،مولانا محمد شعیب،جماعت اسلامی کے رہنما سید نورالحسن شاہ اور چودھری محمد اسلام نے کانفرنس کی آخری نشستوں میں شرکت وخطاب کیا اور کہاکہ عقیدہ تحفظ ختم نبوت کا تحفظ صرف ایمان کی اساس ہی نہیں بلکہ امت مسلمہ کی حیات وموت کا مسئلہ بھی ہے ۔مقررین نے انتباہ کیا کہ حکومت آئین کی اسلامی دفعات کو ہر کچھ عرصے کے بعد چھیڑنے کا عمل مستقل بنیادوں پر ترک کردے ۔  مولانا عبدالرؤف فاروقی نے کہا کہ مجلس احراراسلام عقیدۂ ختم نبوت کے محاذ پر 1929ء سے ڈٹی ہوئی ہے ،جس پر پوری قوم کو ناز ہے ۔سید محمد کفیل بخاری نے کہا کہ مجلس احراراسلام حکومت الہٰیہ کی داعی ہے ۔ابن ابوذرسید محمد معاویہ بخاری نے کہا کہ مجلس احرارکی سابقہ اور موجودہ قیادت نے عقیدے ،نظریے اور جماعت سے کبھی بے وفائی نہیں کی۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری ثالث نے کہا کہ مجلس احراراسلام برصغیر میں تحریک ختم نبوت کی بانی جماعت ہے۔ احرارحق وصداقت کا قافلہ ہے یہ ہمیشہ جاری رہے گا ۔ 

کانفرنس کے اختتام پر ہزاروں فرزندانِ اسلام ،مجاہدین ختم نبوت اور سرخ پوشانِ احرارنے دعوتی جلوس نکالا۔  اس موقع پر قائد احرارحضرت سید عطاء المہیمن بخاری مدظلہ‘ ،عبداللطیف خالد چیمہ،سید محمد کفیل بخاری،ڈاکٹر شاہد محمود کاشمیری،مولانامحمد مغیرہ اور مولانا تنویر الحسن نے خطاب کیا اور قادیانیوں کو دعوتِ اسلام کا فریضہ دہرایا ۔ اس موقع پر جلوس میں حضرت پیر طریقت سید جاوید حسین شاہ صاحب،حافظ عمار یاسر،قاری شبیر احمد عثمانی سمیت ملک بھر سے علماء کرام ،مشائخ عظام ،دانشوراورصحافی بھی موجود تھے۔ جلوس کے دوران چناب نگرکے تمام بازار اور مارکیٹیں بند ہوگئی تھیں۔ پولیس اور قانون نافذکرنے والوں کی بھاری نفری جلوس کے ہمراہ رہی، جبکہ میاں محمد اویس ،مولانا فیصل متین،سید عطاء المنان بخاری،حکیم محمد قاسم ،مولانا محمد اکمل ،محمد اشرف علی احرار،علی اصغراور کئی دیگر رہنما جلوس کی اپنی سیکورٹی کی سخت نگرانی کررہے تھے ،جس کی بدولت جلوس میں کوئی بد نظمی پیدا نہ ہوئی اورکوئی منفی نعرہ نہ لگا ۔اس موقع پر 1122کا عملہ بھی چوکس رہا۔ جلوس کا اختتام لاری اڈا چناب نگر پر ہوا ۔جہاں احرارکے سیکرٹری جنرل عبداللطیف خالد چیمہ نے اسلام کی سربلندی اور پاکستان کی سلامتی کے لئے دعا کرائی اور قافلے پر امن اور منظم طور پر واپس اپنے شہروں کی طرف روانہ ہوگئے۔ 

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ