”سمجھ نہیں آ رہی ان کی عقل میں بات کیوں نہیں آ رہی“ پاکستان کے معروف کاروباری عقیل کریم ڈھیڈی کا صبر جواب دیدیا، حکومت پر برس پڑے

”سمجھ نہیں آ رہی ان کی عقل میں بات کیوں نہیں آ رہی“ پاکستان کے معروف ...
”سمجھ نہیں آ رہی ان کی عقل میں بات کیوں نہیں آ رہی“ پاکستان کے معروف کاروباری عقیل کریم ڈھیڈی کا صبر جواب دیدیا، حکومت پر برس پڑے

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف کاروباری شخصیت اور انٹرنیشنل میمن آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے پیٹرن انچیف عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا ہے کہ سمجھ نہیں آ رہی کہ حکومت میں بیٹھے سمجھدار لوگوں کی عقل میں یہ بات کیوں نہیں آ رہی کہ روزگار کمانے والے افراد کو بے روزگار کیوں کیا جا رہا ہے۔

کراچی میں ایک تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ حکومت الیکشن میں بہت سارے نعرے لگاتی ہے لیکن الیکشن ختم ہوتا ہے تو انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ ہم نے کیا کہا تھا۔ پہلے جو بھی مثبت باتیں ہوئی تھیں وہ بھی منفی ہو گئی ہیں اور کراچی کافی مسائل کا شکار ہے۔ ہمیں حکومت کیساتھ یہ بات بھی کرنی چاہئے کہ آپ توڑ پھوڑ کر رہے ہیں لیکن ہمارے وزیراعظم کا اعلان اور منشور تھا کہ لوگوں کو مکان اور نوکریاں دینی ہیں، مگر اب نوکریاں اور مکان دینے والا منشور الٹا نظر آ رہا ہے اور لگتا ہے کہ لوگوں کو مکان توڑ کر دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میرا مقصد تنقید کرنا نہیں بلکہ لوگوں ان کے وعدے یاد دلانا ہیں۔ اگر لوگ غیر قانونی طور پر بیٹھے ہیں تو وہ زیادہ قصور وار ہیں جنہوں نے ان لوگوں کو غیر قانونی طور پر بٹھایا ہے، اس معاملے میں جو 40,50 اور 60 سال کے جو لوگ بیروزگار ہوئے ہیں، ان کیلئے بھی ہماری برادری کھل کر کام کرے گی کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ کراچی میں بیروزگاری ہو، کراچی پھر 2013ءمیں واپس چلا جائے، قانون کی حکمرانی ختم ہو۔ پہلے بھی ہم نے دیکھا تھا کہ بدقسمتی سے کسی نے بھی کوشش نہیں کی تھی البتہ ہم نواز شریف کے بارے میں یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے واقعی اچھا اقدام اٹھایا تھا مگر ان کے باقی بہت سارے مسائل تھے جس کی وجہ سے ہم نے ان کی مخالفت کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اب تک جو کچھ کیا ہے، اس میں مثبت کام کم اور منفی زیادہ ہوا ہے البتہ یہ سب میرے ذاتی خیالات ہیں بلکہ میری تنظیم کے نہیں کیونکہ میں عمران خان کا ایجنڈا لے کر گھوم رہا تھا اور اب جو کچھ ہو رہا ہے اس سے مجھے ذاتی طور پر بہت دکھ پہنچا ہے۔ کل ہم گورنر عمران اسماعیل سے بھی ملے تھے جنہوں نے کہا کہ ہمارے ہاتھ سپریم کورٹ کی وجہ سے بندھے ہوئے ہیں۔ تو میں نے کہا کہ آپ نے اٹارنی جنرل کو شوکیس میں تو نہیں بٹھایا ہوا، ان سے رائے لیں کیونکہ سب کی مدد کرنی چاہئے، کسی کا بیروزگار ہونا کراچی کے حق میں نہیں اور اگر کراچی کو بچانا ہے تو لوگوں کو روزگار دینا ہے۔

عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ پاکستان 22 کروڑ عوام کا ملک ہے اور اگر آپ اس میں بہتری نہیں لائیں گے تو ملک بیٹھ جائے گا۔ ہمیں صرف یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ سارے سمجھدار لوگ ہیں مگر ان سمجھداروں کی عقل میں یہ بات نہیں آ رہی کہ جو لوگ بے چارے اپنا روزگار کما رہے ہیں، ان کو آپ بیروزگار کیوں کر رہے ہیں۔ غیر قانونی کام ضرور ہوئے ہوں گے لیکن یہ کل پرسوں یا ایک سال پہلے نہیں بلکہ 40 سے 50 سال پہلے ہوئے ہیں۔ ہم اپنا مکان کسی کو کرائے پر دیدیں تو خالی کرانا مشکل ہو جاتا ہے، تو پھر اچانک یہ کیا تبدیلی آ گئی کہ لوگوں کو گھر سے اٹھا کر باہر پھینک دو، یہ بڑی مایوس کن بات ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے انتخابات سے پہلے ہماری لگاتار ملاقاتیں ہوتی تھیں مگر اب ہم ان کے پانچ سال ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ملاقاتوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو جائے۔

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

مزید : قومی /علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور /سندھ /کراچی