پُرتعیش اشیا کی درآمد بند کرنے کی ضرورت

پُرتعیش اشیا کی درآمد بند کرنے کی ضرورت

صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستانی کرنسی دباؤ کی زد میں ہے اور میری خواہش ہے کہ تمام پاکستانی ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ اشیا خریدیں ہمیں درآمدی پُرتعیش اشیا کے استعمال سے گریز کرنا چاہئے ایسی بے شمار اشیا ہیں جن کی ہمیں ضرورت نہیں اور ہم ان کی بجائے اپنی ملکی مصنوعات خرید اور استعمال کرسکتے ہیں، یہ کام پوری قوم کو مشترکہ طور پر کرنا چاہئے۔۔۔۔۔۔ صدر مملکت نے قوم کو جو مشورہ دیا ہے وہ بہت ہی بروقت، معقول اور قابلِ عمل ہے لیکن ہمارے خیال میں محض و عظ وتلقین یا سوشل میڈیا پر پیغامات جاری کرکے مطلوبہ مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کرے کہ صرف ناگزیر صورت ہی میں درآمدی اشیا زیر استعمال آئیں۔

اس وقت پورے ملک کے بڑے بڑے شہروں میں درآمدی اشیا کے انبار لگے ہیں جن میں ایسی اشیا بھی شامل ہیں جو ملک میں بڑے پیمانے پر تیار ہوتی ہیں اور اُن کا معیار بھی عمدہ ہے لیکن ہمارے ہاں جس طبقے نے آسان ذریعوں سے دولت سمیٹی ہوئی ہے اس کے نزدیک مسئلہ یہ نہیں ہے کہ پیسہ کمایا کیسے جائے ان کو مشکل یہ درپیش ہے کہ جو وافر پیسہ وہ کسی نہ کسی طرح بنا چکے ہیں وہ خرچ کیسے کیا جائے ایسے ہی لوگوں کے لئے ملک کے اندر جگہ جگہ خوشحالی کے ایسے جزیرے قائم ہوچکے ہیں جہاں ان کے لئے پُر تعیش کالونیاں آباد کردی گئی ہیں ان کالونیوں میں ممکنہ حد تک ایسی آسائشیں فراہم کی جاتی ہیں جن پر بھاری اخراجات اُٹھتے ہیں یہ اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ جائز ذرائع سے حاصل کردہ دولت تو ان کے لئے بالکل ناکافی ہے کئی جدید آبادیوں میں ایسے شاپنگ مال بن چکے ہیں جن میں مہنگے داموں درآمدی اشیا خریدنے والوں کا ہروقت ہجوم لگا رہتا ہے اِس لئے ہمارا نہیں خیال کہ کوئی بھی شخص صدر عارف علوی کی نصیحت سوشل میڈیا پر یا اخبارات میں پڑھ کر درآمدی اشیا خریدنا بند کرکے مقامی اشیا پرگزارہ شروع کردے گا اور یوں اگر کسی کی دولت نے اُسے جدید لائف سٹائل انجوائے کرنے کے قابل بنادیا ہے تو وہ محض اس وعظ سے متاثر ہوکر اپنا طرزِ زندگی بدل دے گا۔

درآمدی اشیا کی خریداری کی حوصلہ شکنی کے لئے ضروری ہے کہ حکومت ان اشیا کی درآمد کُلّی طور پر بند کردے جو ملکی ضرورت کے مطابق پاکستان کے اندر تیار ہوتی ہیں صرف ایسی ناگزیر ضروریات کی درآمد کی اجازت ہونی چاہئے جو ملک میں نہیں بن سکتیں یا پھر جن کی اشد ضرورت ہے، بلاضرورت خریداری کی حوصلہ شکنی کے لئے بھی پُر تعیش اشیا کی درآمد بند ہونی چاہئے، حکومتوں نے مسلسل یہ طریقہ اختیار کررکھا ہے کہ درآمدی اشیا پر ٹیکس اور ڈیوٹیاں بڑھا کر اِن اشیا کی درآمد کو حکومت کی آمدنی کا ایک ذریعہ بنالیا گیا ہے، لیکن ان اشیا کا گاہک چونکہ مہنگی اشیا خریدنے کی پوزیشن میں ہے اس لئے نہ تو ان کا استعمال کم ہوتا ہے اور نہ ہی ان کی درآمد میں کمی آتی ہے بس اتنا ہے کہ حکومت اس ذریعے سے اپنی آمدنی حاصل کرتی ہے اور ٹیکس بڑھا کر مطمئن ہے۔

صدر مملکت اگر واقعی یہ چاہتے ہیں کہ لوگ مہنگی اور پُرتعیش اشیا کے استعمال سے گریز کریں تو وہ حکومت کو مشورہ دیں کہ درآمدی اشیا کی فہرست پر فوری طور پر نظر ثانی کرے ایسی سینکڑوں اشیا مل جائیں گی جن کی درآمد کے بغیر بھی گزارہ چل سکتا ہے اور ان کی متبادل سستی اشیا بھی موجود ہیں لوگ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے یہ اشیا خریدسکتے ہیں لیکن یہ تبھی ہوگا جب مہنگی اشیا دستیاب نہ ہوں گی اگر ایسی اشیا برائے فروخت موجود رہیں گی تو گاہک بھی خریداری کرتا رہے گا کیونکہ بہت سی اشیا محض ’’سٹیٹس سمبل‘‘ بن کر رہ گئی ہیں بعض صورتوں میں تو یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ان درآمدی اشیا سے بہتر مقامی اشیا مارکیٹ میں باافراط دستیاب ہیں لیکن محض جھوٹی تسلی اور تسکین کے لئے مہنگی اشیا خریدی جاتی ہیں ناجائز ذرائع آمدنی کی دستیابی سے جو کلاس ہمارے ہاں وجود میں آئی ہے اس کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے یہی وجہ ہے کہ کرپشن بھی ختم ہونے میں نہیں آرہی، کرپشن کے الزام میں گرفتار سرکاری اہل کاروں کے گھروں سے کروڑوں روپے کی جو رقوم برآمد ہو رہی ہیں انہی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایسے لوگوں کا مسئلہ مہنگائی نہیں ہے وہ کسی بھی قیمت پر اپنی مطلوبہ اشیا خریدنے کے لئے تیارہوتے ہیں۔

درآمدی اشیاء کے ساتھ ساتھ اسراف کا ایک بڑا ذریعہ ہوٹلنگ بھی ہے ۔بڑے شہروں میں ایسے ریستوران وجود میں آچکے ہیں جو اس کلاس کی تسکین کا خیال رکھتے ہیں جہاں ایک شخص کے کھانے کا بل دو تین ہزار معمول کی بات ہے لیکن ان ریستوران میں بیٹھنے کے لئے جگہ نہیں ملتی، میزیں پہلے سے بُک ہوتی ہیں اور ریزرویشن کے بغیر جانے والوں کو گھنٹہ گھنٹہ انتظار کرنا پڑتا ہے اگر چار چھ لوگ مل کر کھانا کھائیں تو بیس تیس ہزار کا بِل معمول کی بات ہے اور ایسے لوگ اکثر اِن ریستورانوں کا رُخ کرتے ہیں جبکہ لاکھوں بلکہ کروڑوں ایسے پاکستانی بھی ہیں جو پورے مہینے میں اتنی رقم نہیں کماتے جتنی یہ چند لوگ ایک وقت کے کھانے پر صرف کر دیتے ہیں ستم ظریفی یہ ہے کہ بعض ایسے ریستورانوں میں ’’کچے بل‘‘ کی سہولت بھی میسر ہے جس میں ٹیکس شامل نہیں ہوتے جو لوگ اتنا مہنگا کھانا کھاتے ہیں وہ چند سو روپے کا سرکاری ٹیکس دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے، لوگوں سے ٹیکس وصول کرنے کے لئے پنجاب میں ریونیو اتھارٹی نے ایک انعامی سکیم شروع کی تھی ممکن ہے اتھارٹی کو اس طرح ٹیکس جمع کرنے میں کامیابی بھی حاصل ہوئی ہو لیکن ٹیکس بچانے کے اس کلچر کی حوصلہ شکنی کی بھی ضرورت ہے تاکہ لوگ پُرتعیش لائف سٹائل کی کوئی نہ کوئی قیمت بھی ادا کریں۔

وزیر اعظم عمران خان نے متعدد بار کہا ہے کہ غربت ختم کرنے کے لئے چینی ماڈل اختیار کیا جائیگا اگر ایسا ہو جائے تو بڑی اچھی بات ہے لیکن غیر ملکی اشیا کی حوصلہ شکنی کے لئے بھی چینی ماڈل اختیار کیا جاسکتا ہے چیئرمین ماؤ کے دور میں لاکھوں چینی لوگ ہر شہر میں سائیکل پرسفر کرتے دیکھے جاتے تھے اور انہوں نے ایک ہی طرز کا ماؤکٹ کوٹ پہن رکھا ہوتا تھا، گرمی کے موسم میں بھی اسی طرح کا یکساں ڈیزائن کا لباس پہنا جاتا تھا، یہ طریقِ کار کئی عشرے تک اختیار کیا گیا، چین میں اس وقت جو خوشحالی نظر آتی ہے یہ ایسی ہی طویل المدت حکمت عملی کا نتیجہ ہے، وہاں حکومت نے پہلے اپنے شہریوں کو اس قابل بنایا کہ وہ اپنی آمدنی بڑھائیں پھر پُرتعیش اشیا کی خریداری کا سوچیں درآمدی پالیسی پر نظر ثانی کرکے ہم اپنا زرمبادلہ بھی بچا سکتے ہیں اور اس کے ذخائر بڑھا کر روپے کی گرتی ہوئی قیمت کو بھی سنبھالا دے سکتے ہیں تاہم محض ایک ٹویٹ کردینے سے یا ایک اخباری بیان جاری کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔صدر مملکت ذاتی دلچسپی لے کر حکومت کو اشیائے تعیش کی درآمد کی پالیسی پر نظرثانی پرمجبور کریں۔

مزید : رائے /اداریہ