سستے مکان، پھر سے غور کریں!

سستے مکان، پھر سے غور کریں!

دنیابھر کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں بھی آبادی بڑھتی جا رہی ہے۔فرق یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں آبادی کے پھیلاؤ اور افرادی قوت میں اضافے کو روکنے کے انتظامات بھی ساتھ چلتے ہیں تاہم پاکستان میں بہبود آبادی کے پروگرام کے باوجود ضرورت کے مطابق پیدائش میں وقفے پر عمل نہیں ہوتا، بلکہ دیہات اور قبائلی علاقوں اور مذہبی حلقوں میں اس کے برعکس بہبود آبادی کے برتھ کنٹرول پروگرام کو خلاف دین قرار دیا جاتا ہے حالانکہ اس حوالے سے علماء دین نے تحقیق کے بعد فتوے دیئے اور اسے جائز قرار دیا ہے۔آبادی پر کنٹرول کی وجہ یہ ہے کہ جوں جوں ایسا ہو گا، ضروریات بھی ویسے ویسے بڑھتی اور وسائل کم ہو جائیں گے اس کے لئے مزید وسائل بھی پیدا کرنا لازم ہوں گے۔ بجلی، پانی، خوراک، صحت اور رہائش کی ضروریات کو مدنظر رکھنا پڑے گا اس کے ساتھ ساتھ روزگار کے وسائل بھی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لئے بہبود آبادی کے پروگرام کے تحت آبادی پر کنٹرول کا منصوبہ شروع کیا گیا۔پاکستان میں وقفے وقفے سے جو سروے کئے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہاں اس وقت بھی قریباً دو کروڑ گھروں کی ضرورت ہے کہ لوگ نہ صرف کچی آبادیوں میں رہتے ہیں بلکہ اس شہر میں بے گھر اور ایسے بھی ہیں جن کو اپنی چھت میسر نہیں، یہ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے تمام حقوق کا خیال رکھے جس میں رہائش بھی شامل ہے۔ تحریک انصاف نے اپنے منشور اور وزیراعظم عمران خان نے حلف اٹھانے کے بعد اعلان کیا کہ ملک میں پچاس لاکھ گھر بنا کر ضرورت مندوں کو دیئے جائیں گے جو سستے ہوں گے، اس سلسلے میں کام بھی شروع کیا گیا۔ متعدد اضلاع میں رجسٹریشن بھی کی گئی اور مکانوں کے لئے اراضی کی تلاش کا کام بھی جاری تھا، اب ایک خبر کے مطابق لاہور کی تین تحصیلوں میں 784کنال اراضی کی نشان دہی کر لی گئی ہے جس پر سستے گھر سکیم کے تحت مکان بنا کر ضرورت مندوں کو دیئے جائیں گے۔اس پر کوئی اعتراض نہیں، یہ احسن اقدام ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس حوالے سے پوری طرح غور نہیں کیا گیا۔ کیونکہ ضلعی صدر مقامات پر گھر بنا کر دینے سے گنجان ہوتی آبادیاں مزید گنجان ہوں گی۔ اس لئے اس سے زیادہ بہتر سکیم بنانا ضروری تھا۔ کہتے ہیں رسول پاکؐ کا ارشاد ہے کہ جب کسی شہر کی آبادی ایک خاص حد پر پہنچ جائے تو اسے وہیں روک کر دوسرا نیا شہر بسانا چاہیے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہمارے جو ٹاؤن (قصبات) ہیں ان کو چن کر مکمل شہروں کی صورت دے دی جائے۔ جہاں صنعت و حرفت سے صحت اور تعلیم کی سہولتیں بھی ہوں، یوں آبادیوں کے پھیلاؤ کو بھی قدرتی طریقے سے روکا جا سکے اور روزگار کے وسائل پیدا ہوں گے، نئے شہروں میں سہولتیں مہیا کر دینے سے سماجی اور معاشی مسائل میں بھی کمی ہوگی۔ ابھی صرف ابتدائی شکل ہے اور تعمیراتی کام شروع نہیں ہوا۔ بہتر ہوگا کہ ٹاؤن(قصبات) کا چناؤ کرکے ان کو باقاعدہ شہر کی شکل دی جائے اور یہ سہولتیں بھی وہاں مہیا کی جائیں تاکہ آبادیوں کا گنجان پن بڑھنے کی بجائے رک جائے اور کم ہو سکے۔ اس پر غور کریں۔

مزید : رائے /اداریہ