ہمیشہ برائی کے خلاف مزاحمت کریں

ہمیشہ برائی کے خلاف مزاحمت کریں
ہمیشہ برائی کے خلاف مزاحمت کریں

  

اللہ نے قرآن پاک میں مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اللہ کے دشمنوں کے خلاف، اپنے دشمنوں کے خلاف اور ان دشمنوں کے خلاف،جو چھپے ہوئے ہیں، مگر اللہ ان کو جانتا ہے، ان کے خلاف اپنے گھوڑے اور اپنی فوج ہمیشہ تیار رکھیں۔ اس سے ان کے دشمنوں پر ہیبت طاری ہوجائے گی۔ اللہ نے مسلمانوں کو ایمان کی طاقت سے نوازا ہے۔

انسانی تاریخ کسی بھی ایسی قوم کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے، جو مسلمانوں سے زیادہ بہادر اور نڈر ہو۔ اللہ تعالیٰ کی ان تعلیمات کو پھر سے یاد کرنے کی ضرورت ہے، جنہیں ہم غالباً فراموش کرچکے ہیں۔کسی بھی خطرے یا برائی کے خلاف مزاحمت اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔

نبی پاکﷺ کی زندگی ایسی مثالوں سے بھری ہوئی ہے، انہوں نے عرب کے کافروں کی غیر اخلاقی اور غیر مہذبانہ حرکات اور عادات کا بڑی استقامت سے سامنا کیا۔

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی بھی برائی دیکھے، اسے چاہیے کہ اسے ہاتھ سے روکے، اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو زبان سے روکے، لیکن اگر وہ ایسا بھی نہ کرسکے تو اسے دل میں برا سمجھے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ 

مسلم امہ اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہی ہے۔

ہمیں کئی جانب سے خطرات کا سامنا ہے۔ ان میں امریکہ ، انڈیا، اسرائیل اور کئی مغربی ممالک شامل ہیں۔یہ خطرات ماضی کی طرح معمولی نوعیت کے نہیں ہیں،بلکہ اب بحیثیت مسلم امہ ہمارا اتحاد، شناخت، حتیٰ کہ ایمان شدید خطرات سے دوچار ہے، اگرچہ ہمیں معاملے کی نزاکت کا احساس ہے، لیکن ہم ابھی بھی الجھن کا شکار ہیں۔

کہیں اور کھوئے ہوئے ہیں۔ شاید ہم اپنی شاندار تاریخ، فتوحات اور بہادری کی بے مثال داستانوں کو بھلا چکے ہیں۔ ہمارے دشمن ہمارے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور متحد ہیں، اگرچہ مسلمان دنیا کے مختلف حصوں میں ناانصافی، ظلم اور جارحیت کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں، لیکن یہ اس طرح کی مزاحمت اور احتجاج نہیں ہے، جو ہمارے شاندار ماضی کے احیاء کے لئے درکار ہے۔

ایرانیوں نے امام خمینی کی قیادت میں 40 سال تک مزاحمت کی۔ فلسطینی ابھی تک اسرائیل کے مظالم کا مقابلہ کررہے ہیں، اگرچہ ان کی مزاحمت کافی کمزور ہے۔ اسی طرح کشمیری گذشتہ 70 سال سے انڈیا کے مظالم کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی قربانیاں بھی ناقابل فراموش ہیں۔ وہ اپنی شناخت اور اپنے علاقے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے گروپ اپنی شناخت کے لئے برسرپیکار ہیں۔ تمام مسلم تحریکیں تقریباً ناکام ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں نئے انداز سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

سب سے پہلے ہمیں اپنے اندر اتحاد اور ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسرا یہ کہ ہمیں اس معاملے میں باقاعدہ پالیسیاں بنانے اور ان پر عمل درآمد کرنے کے لئے مشترکہ ٹاسک فورس تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں دوست اور دشمن کے درمیان تفریق کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔نوم چونسکی ایک مشہور امریکی مصنف ہے۔

اس نے امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد ریاست قرار دیا ہے۔ یہ دعویٰ درست بھی ہے،کیونکہ امریکہ فلسطینی علاقے پر اسرائیل کے قبضے کی حمایت کر رہا ہے۔ مالی اور نظریاتی دونوں لحاظ سے۔ امریکہ نے اقوام متحدہ میں 40 سے زیادہ مرتبہ اسرائیل کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ امریکہ دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ اسرائیل کو مالی امداد دے رہا ہے۔

یہ اسرائیل کے لئے کبھی بھی اپنی امداد بند نہیں کرتا، جبکہ امریکہ فلسطین کے مظلوم لوگوں کی امداد اکثر بند کردیتا ہے، ہم اس موقع پرکشمیر کے معصوم اور مظلوم لوگوں کو نہیں بھلا سکتے۔ کشمیر بر صغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔

کشمیری گزشتہ 70 سال سے اپنے حق خود ارادیت کے لئے تحریک چلا رہے ہیں۔ وہ آزادی کی خاطر اپنی، جان، مال اور عزت قربان کررہے ہیں۔ انڈیا نے ان کی تحریک آزادی کودبانے کے لئے دس لاکھ فوج وادی میں لگا رکھی ہے، لیکن سب بیکار ہے۔ان کی تحریک کو دبانا نا ممکن ہے۔

پاکستان اخلاقی بنیادوں پر کشمیریوں کی مدد کر رہا ہے۔ یہ ان کی اس طرح سے مدد نہیں کر رہا ہے، جیسے اس کو کرنی چاہیے۔

اگر روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار دیکھیں تو ہمیں دکھ ہوگا کہ ان کا کوئی پرسان حال نہیں، ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں۔ ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کا کسی سطح پر کوئی ذکر نہیں۔ بدھ انتہا پسند ان کے گھروں کو جلا رہے ہیں اور ان کو ان کے دیہات سے بیدخل کررہے ہیں۔

یہ حالات ہیں مسلم دنیا کے۔ہمیں اس مقصد کے لئے تمام انسانی وسائل کو بروئے کار لانا چاہیے۔

مثلاً نوجوانوں، خواتین اور مردوں کے اسلامی مراکز قائم کئے جانے چاہئیں۔ہماری حکومت کو ان تمام مسلمانوں کی آواز بننا چاہیے جو مظلوم، مجبور اور بے بس ہیں۔ ان کی ہر سطح پر مدد کی جانی چاہیے۔

ان کے حقوق کے لئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر سفارتی دباؤ بڑھانا چاہیے۔ مسلمان تعداد، قوت اور وسائل کے لحاظ سے کسی بھی طرح کم نہیں ہیں کہ وہ کسی مسئلے سے نمٹ نہ سکیں۔

ہم دنیا کی آبادی کا چوتھا حصہ ہیں، ہم مسلمان مجموعی طور پر دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہیں۔ ہمیں اپنے اختلافات بھلانا ہوں گے۔اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈالنا ہوگا۔

ہمیں قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنا ہو گا۔ ہمیں موجودہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے خود کو تیار کرنا ہوگا۔ اے اللہ ہمیں اتنی طاقت دے کہ ہم اپنے دین کی حفاظت کرسکیں اور مصیبت زدہ مسلمان بھائیوں کی مدد کرسکیں، آمین۔

مزید : رائے /کالم