پاکستان کا مثبت کردار اور بھارتی فوج کے سربراہ کی اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی 

پاکستان کا مثبت کردار اور بھارتی فوج کے سربراہ کی اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی 
پاکستان کا مثبت کردار اور بھارتی فوج کے سربراہ کی اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی 

  

پاکستان تحریک انصاف نے اپنی سو روزہ کارکردگی کا جائزہ پیش کر دیا ہے جس پر کئی اطراف اور مختلف جماعتوں اور ان کی قیادتوں کی طرف سے تنقیدی اور تعریفی تبصروں کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔

پاکستان کی جمہوریت کا یہ المیہ ہے کہ یہاں بہت کم ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ کبھی حزب اقتدار اور حزب اختلاف کسی اندرونی یا بیرونی مسلہ پر یکجا نظر آئے ہوں۔

البتہ گزشتہ روز روز مسلم لیگ نون کے راہنما اور سابق وزیر خارجہ اور دفاع خواجہ آصف کا کرتاپور راہ داری کو موجودہ حکومت کا مثبت قدم قرار دینا اس بات کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے کہ ہمارے سیاستدان ذاتیات سے بالاتر ہو کر پاکستان کے مفاد میں تعریف اور تنقید کا رویہ اپنانے کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ عمران خان کی حکومت کی سو روزہ کارکردگی پر بات اگلے کالم میں ہوگی۔

پہلے کرتارپور سرحد پر راہداری کا جائزہ اور بھارتی فوج کے سربراہ بپن راوت کی تازہ ہرزہ سرائی کی بات ہو جائے۔ پاکستان نے بھارت کی تمام تر زیادتیوں اور ہٹ دھرمیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہمیشہ بھارتی سکھ برادری کو پاکستان میں ان کے مذہبی مقامات کی زیارت اور اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کے لیے سہولیات پیدا کرنے میں کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

یہ بات خود سکھ راہنماوں اور عام سکھ یاتریوں نے بھی بارہا تسلیم کی ہے کہ پاکستان سکھ برادری کو ہر طرح کی سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔ دراصل یہ پاکستان کی طرف سے اسلامی تعلیمات کی پاسداری کی عکاسی ہے کہ ہمارا دین دوسرے مذاہب کی تکریم و تعظیم کا قائل ہے اور ہم دوسرے مذاہب کے لوگوں کو ان کا جائز حق دیتے ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان یہ بھی چاہتا ہے کہ اپنے ہمسایہ ملک کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا جائے اسی لیے پاکستان کی تمام حکومتوں کا یہ موقف رہا ہے کہ بھارت اگر مسلہ کشمیر کو حل کرنے پر آمادہ ہو جائے تو ہماری بھارت کے ساتھ دوستی میں کوئی مسلہ حائل نہیں ہو سکتا ہے۔

کیوں کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے ہی سے علاقے میں ترقی اور خوشحالی آ سکتی ہے اور دونوں ممالک کے عوام کی حالت بہتر ہو سکتی ہے۔ لیکن ہندوستان کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کا راگ الاپنے اور کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کی ضد سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں بلکہ پاکستان کو ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اپنے دل سے تسلیم کرنے سے بھی ہچکچاہٹ کا شکار رہا ہے۔ ان حالات کے باوجود پاکستان کی موجودہ حکومت نے سکھوں کے لیے کمال فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرتارپور بارڈر کھولنے پر اپنی آمادگی ظاہر کر دی اور اس راہداری کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا جس کی تقریب میں بھارتی وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو بھی مدعو کیا گیا لیکن ان دونوں نے ٹال مٹول سے کام لیکر آنے سے انکار کیا۔ 

کرتارپور راہداری کے پاکستانی اقدام کا دنیا بھر میں ایک مثبت پیغام پہنچا ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان امن کی طرف ایک اور قدم ثابت ہو سکتا ہے بشرطیکہ بھارتی حکومت اور فوج بھی اس کو احسن اقدام تسلیم کرتے ہوئے اپنی ہٹ دھرمی سے ایک قدم پیچھے ہٹ جانے کی کوشش کریں۔ 

لیکن بھارتی میڈیا کی طرف سے پاکستانی وزیر اعظم کی کشمیر کے حوالے سے بات پر شدید تنقید کرنا اور بھارتی فوج کے سربراہ کی پاکستان کے نظریہ پر ہرزہ سرائی کرنا اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ ہندوستان پاکستان کے ساتھ دوستی کا خواہش مند نہیں ہے۔

اسی لیے تو بھارتی فوج کے سیاسی بیان بازی نہ کرنے کی روایت کو توڑتے ہوئے بھارتی فوج کے سربراہ بپن راوت نے پاکستان کے ساتھ دوستی کو پاکستان میں سیکولر ازم سے مشروط کر دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لوک سبھا کے انتخابات میں نریندررمودی کی حالت پتلی ہے اور مودی مذہبی کارڈ کے ساتھ ساتھ فوج کو سیاست میں گھسیٹ کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی لیے موجودہ فوجی جنرل کو دو سنیئر جنرلوں پر ترجیح دیکر بھارتی فوج کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

اور یہ سربراہ پاکستان کے حوالے سے بیان بازی سے مودی سرکار کو فائدہ پہچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اپنے تازہ بیان میں بھارتی فوج کے سربراہ نے بین الاقوامی اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے پاکستان میں سیکولر ازم لانے کی شرط عائد کر دی ہے۔

اور اپنے بیان کی وضاحت میں کہا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جس میں دوسروں کے لیے جگہ نہیں ہے۔ اب بھارتی جاہل جنرل کو کوئی یہ بتائے کہ اصل سیکولرازم یہ نہیں جس کا لبادہ ہندوستان نے اوڑھ رکھا ہے جبکہ ملک میں حکومت مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھ میں ہے۔

جو آئے دن نہ صرف دوسرے مذاہب کے لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتے ہیں بلکہ اپنے ہی مذہب کی نچلی ذات کے ہندوؤں کو بھی جینے کے حق سے محروم رکھا ہوا ہے۔ بلکہ اصل سیکولر ازم یہ ہے کہ مسلمان ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور تمام مذاہب کا دل سے احترام کرتے ہیں۔ 

بین الاقوامی برادری کے اصول کے مطابق ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ملک کے اندر جو چاہے نظام قائم کرے اور اپنے آئین کے مطابق اپنا نظام زندگی اپنائے۔

کسی ملک کے دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات باہمی مفادات اور بین الاقوامی اصولوں کے تحت ہی قائم کیے جاسکتے ہیں اور یہ تعلقات کسی ملک کے نظام حکومت یا مذہب کی بنیاد پر استوار نہیں ہو سکتے۔ بھارتی فوج کے سربراہ یہ بات بھول گئے کہ بھارت کے سعودی عرب اور ایران جیسے ممالک کے ساتھ دیرینہ تعلقات قائم ہیں جن سے بھارت بہت زیادہ مفاد بھی اٹھا رہا ہے۔

اور ان ممالک میں مکمل مذہبی قوانین نافذ ہیں۔ بھارتی جنرل کا بیان تو ایسے ہی ہے کہ امریکہ جاپان سے یہ مطالبہ کر دے کہ ہم سے تعلقات رکھنے کے لیے اپنے ملک سے بدھ مت کا خاتمہ کیا جائے یا سعودی عرب اٹلی پر تعلقات کے لیے عیسائیت کے خاتمے کی شرط عائد کر دے۔ دراصل بھارتی فوج کے سربراہ کا بیان مودی کو انتخابات میں فائدہ پہنچانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ پاکستان کی طرف سے سکھوں کو سہولت دیکر دنیا میں اپنے مثبت رویے کے پیغام کے اثر کو زائل کرنے کی ایک بھونڈی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔

مزید : رائے /کالم