بھارت سی پیک کا حصہ؟ (1)

بھارت سی پیک کا حصہ؟ (1)
بھارت سی پیک کا حصہ؟ (1)

  

بھارت کو بدلتے عالمی سیاسی افق کا ادراک کرتے ہوئے اپنی طے شدہ حکمت عملی کو جو امریکہ کی شہ پر جبر کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے خصوصاً خطے میں متوقع تبدیلیوں کے پیش نظر تبدیل کرنا ہو گا جیسے یونی پولر دنیا پھر سے بائی پولر دنیا میں تبدیل ہو رہی ہے، بلکہ تبدیل ہو گئی ہے۔

سرگوشیوں میں بات کی جاتی ہے سی پیک پاکستان کی معیشت پر ایسا بوجھ بن جائے گا جسے اٹھائے پھرنا پاکستان کے بس کی بات نہیں ہو گی، کیونکہ قرضے واپس بھی تو کرنا ہوتے ہیں، لیکن دوسری طرف Moody کی طرف سے واضح امکانات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان کی جی ڈی پی کا دس میں سے نو حصہ سی پیک کی وجہ سے ہوگا معیشت کے سقراط بقراط پیش گوئیاں کرتے تھے کہ وزیر اعظم عمران خان کے لئے معاشی بحران بڑا مسئلہ ہوگا، ایسا دکھائی تو دیتا تھا،لیکن ایسا ہوا نہیں گرد بیٹھ رہی ہے۔

بے یقینی کے بادل چھٹ رہے ہیں چین کے لئے جیسے سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ بہت اہمیت رکھتا ہے اسی طرح پاکستان کے ساتھ بہت قریبی دوستی اہم ہے بھارت کے منصوبہ سازوں کو بھارتی مفادات کے پیش نظر اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے سی پیک کے مستقبل کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار ہوا تو چین کے صدر نے پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف کو خصوصی دعوت پر چین بلایا اور نتیجتاً وضاحت ہو گئی کہ یہ منصوبہ کامیاب ہوگا اور چین اور پاکستان کے مفادات مشترک ہوں گے کسی بھی مشکل یا پریشانی میں چین پاکستان کے ساتھ کھڑا ہو گا بھارت کے منصوبہ سازوں نے یا تو کبوتر کی طرح آنکھیں بند کی ہوئی ہیں یا حقائق سے نا آشنا ہیں لیکن حقیقت حقیقت ہی ہوتی ہے بھارت کے منصوبہ سازوں کی طرف سے سی پیک کے حوالے سے پاکستان پر پڑنے والے قرضوں اور ادائیگی کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط فہمیاں تو دور ہو گئیں، البتہ ایک مسئلہ یا مطالبہ سامنے آتا رہے گا کہ کوئٹہ اور پشاور کی طرف سے مطالبہ کیا جائے گا کہ اس منصوبے سے وابستہ ترقیاتی کام نوکریوں کے مواقع ان کے صوبوں کو زیادہ نہیں تو برابر ملنے چاہئیں اس پر شکایات اور وضاحتیں سامنے آتی رہی ہیں او رشاید آتی بھی رہیں گی، جب تک یہ منصوبہ مکمل نہیں ہو جاتا جو غالباً تاریخ کا سب سے بڑا علاقائی منصوبہ ہے بلکہ کہنا پڑے گا کہ یقیناًسب سے بڑا منصوبہ ہے بیجنگ کی طرف سے مسلسل کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کی حد تک تو بی آر آئی علاقائی منصوبہ ہے، لیکن یہ ایک عالمی منصوبہ ہے جو چین کو یورپ، افریقہ، مشرق وسطیٰ، مشرق بعید سے ملانے میں بھی جاری ہے غرضیکہ اکثر براعظم اس منصوبہ کے ذریعے چین سے منسلک ہو جائیں گے اور یہ منصوبہ عالمی معیشت کے لئے ایک زنجیر کا کام دے گا۔ پچھلے ماہ یورپین یونین نے ایشیا کے ساتھ منسلک ہونے کی حکمت عملی کے نام سے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں جس کا نام (Asia connectivity Strategy) ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین میں کثیر المقاصد معاہدے طے پا گئے جن میں انڈسٹریل زون، زراعت میں ترقی، سوشل سیکٹر میں مزید تعاون بڑھانا شامل ہے۔ ایک بیس رکنی وفد چین جا رہا ہے جو غربت میں کمی، انٹی کرپشن، منی لانڈرنگ، روزگار کی فراہمی سمال بزنس جیسے معاملات پر چینی ماڈل کا مطالعہ کرے گا۔

بھارت کے لئے یہ بھی فکر کا نہیں دلچسپی کا باعث ہونا چاہئے کہ وزیر اعظم عمران خان نے چین کی پیشگی رضامندی کے ساتھ سعودی عرب کو بھی سی پیک کا حصہ بن جانے کی پیشکش کی ہے اور سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔ یہ ایک بڑی، بلکہ بہت بڑی تبدیلی ہے اور اس حقیقت کا اظہار ہے کہ علاقائی تعاون کے لئے اس کی کیا اہمیت ہے ہو سکتا ہے کہ مستقبل قریب میں ایران اور روس بھی اس کا حصہ بن جائیں۔ بھارت کے منصوبہ ساز شاید اس بات سے بھی بے خبر نظر آتے ہیں کہ مستقبل میں چین اس منصوبے کو افغانستان اور ایشیا تک لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے، بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ افغانستان اور وسط ایشیا بھی اس کا حصہ بن جائیں گے۔

بھارت کی یہ پیش گوئی تو غلط ثابت ہو گی کہ وزیر اعظم عمران خان کو حکومت کو آتے ہی Repayment اور Debt Services مسئلہ ہو گی، لیکن ایسا نہیں ہوا اور دوستوں کی مدد سے یہ بڑا مسئلہ نہیں بن رہا۔ مسئلہ تو ہے، لیکن بہت بڑا نہیں ہے۔

حالات اور ممکنہ علاقائی اور عالمی تبدیلیاں اس بات کی متقاضی ہیں کہ بھارت اس پس منظر میں جیوپولیٹیکل کی بجائے جیواکنامکس کی حکمت عملی اپنائے ترکی اور ایران کی کشیدگی کی تاریخ بہت پرانی ہے،لیکن علاقائی تقاضوں کے پیش نظر ایران اور ترکی کے درمیان تیل کی پائپ لائن جو ترکی کے لئے تیل کی ضروریات پورا کرنے کا بڑا ذریعہ ہے بھارت کو بھی ماضی کی بھول بھلیوں میں گم رہنے کی بجائے اس سے سبق سیکھتے ہوئے ’’اردگرد‘‘ تعلقات پر نظر ثانی کرنا چاہئے، آج نہیں تو کل کرنا پڑے گی اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھے دوستانہ تعلقات قائم کرنا پڑیں گے کہ پڑوسی تبدیل نہیں کئے جا سکتے۔

تائیوان چین کا حصہ ہے۔ گو اس نے امریکہ کی پشت پناہی سے اپنی علیحدہ شناخت قائم کر رکھی ہے ،لیکن چین اور تائیوان میں بھی تجارتی تعلقات قائم ہیں۔ اسی طرح روس اور یورپ ’’سرد جنگ‘‘ جیسا ماحول بن جانے کے باوجود تیل اور گیس کے معاہدوں میں منسلک ہیں۔

بھارت اس وقت دوستی کہہ لیں شراکت کہہ لیں یا خوشگوار تعلقات دو مسئلوں کا شکار ہے چین اور پاکستان اس بارے میں بھارت کے لئے ایک راستہ تو یہ ہے کہ صورتِ حال کو Manage کرتا رہے اور حالات کے رُخ کا انتظار کرے کہ چین اور امریکہ کی سرد جنگ کھل کر سامنے آ جائے جیسا کسی زمانے میں روس اور امریکہ کے درمیان تھی دوسرا یہ کہ تلخیوں کے باوجود چین اور پاکستان کے ساتھ مستحکم تعلقات قائم کرے اور قائم رکھے۔

وقت کے ساتھ تلخیوں کا حل بھی نکل آتا ہے تاریخ عالم یہی بتاتی ہے۔ سی پیک میں سعودی عرب کی شمولیت اور سرمایہ کاری بھارت کو سوچنے پر مجبور کر دے گی آج نہیں تو کل اپنی حکمت عملی از سر نو ترتیب دی جائے۔ دنیا کے نقشے میں مسلسل تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔ ہوتی رہیں گی۔

جنگوں سے، جبر و تشدد سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے بالآخر متحارب طاقتوں کو بالواسطہ یا بلاواسطہ مذاکرات کا راستہ ہی اختیار کرنا پڑا ہے۔ کشیدگی ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ اور ذریعہ ہے کچھ نکات پر آپ اقرارکرتے ہیں اور کچھ پر انکار آپ ان نکات پر شروع کریں اور آہستہ آہستہ سی بی ایم کے ذریعہ آپ ان نکات کی طرف پیشرفت کرتے ہیں جن پر انکار ہوتا ہے،لیکن اگر آپ شروع ہی ان نکات سے کرتے ہیں،جن پر انکار ہوتا ہے تو کشیدگی نہ صرف رہے گی، بلکہ بڑھتی ہی رہے گی (اقوام متحدہ کے تحت ایک کورس عمان اردن میں ہوا تھا جس میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا وہ کورس تھا ہی Peaceful Resolution of conflicts کے عنوان پر اس کے دوران دو ایسے ممالک کا دورہ بھی شامل تھاجن کا ماضی کشیدگی اور جنگوں سے بھرا تھا۔

مجھے جاپان اور چین جانے کا موقع ملا۔ وہاں پہلا سبق ہی یہ تھا دنیا کے نامور قائدین اور دانشور لیکچر دینے آئے تھے۔ اقوام متحدہ کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل بطروس بطروس غالی بھی تھے۔

بھارت کا سنجیدہ طبقہ مثلاً بی جے پی کے ایک رہنما جو آج کل (ORS) OBSERVER RESEARCH FOUDATION نامی ایک تنظیم چلا رہے ہیں انہوں نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ بھارت میں پاکستان کے بارے میں منفی جذبات اس سے کہیں زیادہ ہیں جتنے پاکستان میں بھارت کے بارے میں ہیں مثلاً 1938ء سے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ایک تصویر لگی ہوئی تھی وہ اتار دی گئی ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ماضی اور حال کی الجھنوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایک خوشحال پُرامن مستحکم مستقبل سے بے نیاز ہیں۔

قیام پاکستان کے وقت گاؤ ماتا کے ٹکڑے کرنے کا الزام اپنی جگہ، نقل مکانی کے دوران قتل و غارت بھی ایک ہولناک باب ہے، لیکن بھارت اور پاکستان کی مقتدر شخصیات اور قائدین کی جانب سے ایک دوسرے کے تعلقات کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیاگیا۔ اس پر عمل بھی ہو جاتا تو شاید مختلف ایشوز کے باوجود تاریخ مختلف ہوتی۔

جو قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور پنڈت جواہر لال نہرو نے (جو کئی عوامل کی وجہ سے متنازع بھی رہے) تقسیم ہند کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت واضح کرتے ہوئے کہا تھا، مارچ 1948ء میں پنڈت نہرو نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جس کا پاکستان کے قیام کی تحریک میں ایک اہم کردار ہے، کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ایک محفوظ اور خوشحال پاکستان بھارت کے مفاد میں ہے اور ہمارے درمیان خوشگوار اور دوستانہ تعلقات رہیں گے، ہم پاکستان کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتے، بلکہ چاہتے ہیں کہ ہم ایک یونین بنائیں،جس میں خطے کے اور ممالک بھی شامل ہوں، اسی طرح تقسیم ہند کے فوراً بعد قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان میں پہلے امریکی سفیر سے گفتگو میں کہا تھا کہ اُن کی خواہش ہے اور کوشش ہوگی کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی نوعیت اسی طرح کی ہو، جس طرح امریکہ اور کینیڈا کے درمیان ہے۔(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم