شیخ رشیدنے مایوس کیا ، ریل گاڑیوں کی سہولتیں ختم

شیخ رشیدنے مایوس کیا ، ریل گاڑیوں کی سہولتیں ختم
شیخ رشیدنے مایوس کیا ، ریل گاڑیوں کی سہولتیں ختم

  

وزراء کا تعارف اور شناخت ان کے محکموں کی کارکردگی ہوا کرتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کی تعریف یا تنقید ان کی کابینہ کے وزراء کے محکموں کی کارکردگی سے سامنے آئے گی۔ایک سو روز کا جو ہدف وزیراعظم نے مقرر کیا تھا ، اس پر تنقید ہو رہی ہے، لیکن ان کے وزیر اور مشیر مثبت پہلو بیان کر کے وزیراعظم کا دفاع کر رہے ہیں۔

ان ہی وزراء میں ایک شیخ رشید احمد بھی ہیں۔ موجودہ حکومت میں ریلوے کے وزیر مقرر ہوئے ہیں۔ ریلوے کی وزارت ماضی کی ایک حکومت میں ان کے پاس رہی ہے۔ توقع یہ تھی کہ ان کے دور میں ریل گاڑی کا سفر ان کے پیش رو سعد رفیق کے دور سے بہتر اور سہولتوں سے بھر پور ہوگا۔

ریل گاڑی کا سفر اب درمیانے اور غریب طبقوں سے تعلق رکھنے والے عوام کا سفر ہے کیوں کہ وزراء اور بڑے سرکاری افسران اپنی یا سرکاری مہنگی گاڑیوں کو اپنے سرکاری فرائض کی ادائیگی یا ذاتی ضرورتوں کے لئے استعمال کرتے ہیں یا ہوائی جہاز کے سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔ وزراء اور سرکاری افسران کی ترجیحات کے پیش نظر ہی پاکستان میں ریل گاڑی ہو یا سرکاری تعلیمی ادارے یا ہسپتال ، ان کی حالت نا گفتہ بہ ہو گئی ہے اسی وجہ سے محکموں کی کارکردگی صفر ہو کر رہ گئی ہے۔ 

ریل گاڑی سے ایک سفر کرنے کا مجھے اتفاق ہوا۔ 27نومبر کو لاہور جانے اور واپس آنے کے لئے میں نے کراچی ایکسپریس کا انتخاب کیا۔ جاتے وقت تو ریل کا ڈبہ جس میں مجھے سفر کرنا پڑا، کچھ بہتر تھا لیکن واپسی پر تو اسی گاڑی میں ڈبہ خراب تھا، کمرے کی صفائی بھی نہیں تھی۔ بیٹھنے کی لوئر سیٹ کے کور پھٹے ہوئے تھے۔

سونے کے لئے مڈل یا بیچ کی سیٹوں کے ہک ٹوٹے ہوئے تھے ۔ کمروں کے دروازوں کی چٹخنی خراب تھیں۔ کمپارٹمنٹ کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ ان میں سے تیز ہوا اندر آرہی تھی۔ واش روم میں کوئی سہولت حتی کہ پانی اور نلکوں کی حالت بھی خراب تھی۔ نلکے ٹوٹے ہوئے تھے ۔ صٖفائی نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ اس کے علاوہ کھانے کا معیار بھی ناقص تھا، حالانکہ اس کی قیمت بھی مہنگی تھی۔

چائے کے ایک کپ کی قیمت ساٹھ روپے وصول کی گئی۔ رات کو مسافروں کو سونے کے لئے ایک خستہ حال کمبل اور ایک خراب قسم کا تکیہ ایک سو روپے میں فراہم کیا گیا۔ دیکھنے میں یہ آیا کہ گاڑی میں بیٹھتے کے وقت ایئر کنڈیشن کی رفتار سست تھی لیکن جیسے ہی رات کا وقت قریب آیا ، اسے تیز کر دیا گیا۔

ایک مسافر جو زیادہ ہی سفر کرتے ہیں، کہہ رہے تھے کہ کمبل اور تکیہ دینے سے قبل ایسا کردیا جاتا ہے تاکہ مسافر ٹھنڈک سے محفوظ رہنے کے لئے کمبل حاصل کریں اور جب کمبل وغیرہ فراہم کردیا جاتا ہے تو ایئر کنڈیشن کی رفتارپھر سست کر دی جاتی ہے یا پھر بند کر دیا جاتا ہے۔ مختصر وقفے کے لئے دوبارہ کھولا جاتا ہے اور پھر بند کردیا جاتا ہے۔

غرض یہ کہ ایسا محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ جس ایئر کنڈیشن گاڑی میں سفر کے لئے مسافروں نے ایک طرف کا کرایہ چار ہزار روپے ادا کیا ہے، انہیں سہولتیں بھی اسی لحاظ سے فراہم کی گئی ہوں۔ 

میں نے نومبر 2016ء میں گرین لائن سے حیدرآباد سے اسلام آباد تک کا سفر کیا تھا، دوران سفر کھانا فراہم کیا گیا، چائے فراہم کی گئی، رات کو ایک صاف ستھرا تکیہ اور ایک کمبل فراہم کیا گیا تھا اور صبح کے وقت مردوں کو شیونگ کٹ فراہم کیا گیا تھا، اِن چیزوں کا علیحدہ کوئی معاوضہ نہیں لیا گیا، بلکہ یہ تمام سہولتیں ٹکٹ میں شامل تھیں۔

نومبر 2018ء میں، میرے گھر والوں نے اسی گاڑی سے سفر کیا، انہیں ہر سہولت کے علیحدہ پیسے ادا کرنا پڑے۔ انہیں تو راستے میں تین اور چار بار ڈبہ تبدیل کرایا گیا۔ خواتین مسافر پریشانی سے ہی دوچار رہیں۔

گرین لائن کی سہولتوں سے گھر والے آگا ہ تھے تو انہوں نے کسی ویٹر سے ہر چیز کے پیسے وصول کرنے کی وجہ دریافت کر لی تو اس نے انہیں جواب دیا کہ تمام سہولتیں وزیر شیخ رشید نے ختم کردی ہیں تاکہ کرایہ کی رقم کم کی جا سکے۔ کرایہ مسافروں کی سہولتیں ختم کر کے کم کرنے کی یہ عجیب منظق ہے۔

جو مسافر پانچ ہزار چار سو روپے کرایہ ادا کر سکتے ہیں وہ مزید چار پانچ سو روپے بھی ادا کرنے میں حجت نہیں کرتے۔ 

لوگ کہتے ہیں کہ شیخ رشید کے مقابلے میں سعد رفیق کے دور میں ریل گاڑیاں بہتر بھی تھیں۔ شیخ رشید ریلوے کا خسارہ کم کرنے یا اسے منافع میں لانے کی کوشش میں اقدامات کر رہے ہیں ، انہوں نے ایک سو روز میں کئی نئی گاڑیاں بھی چلائی ہیں، جن میں اچھے اور بہتر ڈبے فراہم کر دئے گئے ہیں اور پہلے سے چلنے والی گاڑیوں میں خراب ڈبے لگا دئے گئے ہیں۔ نئی گاڑیاں چلانا قابل ستائش ضرور ہے لیکن کیوں کر ضروری ہوا کہ پہلے سے موجود گاڑیوں سے سہولتیں ختم کر دی جائیں ، خراب ڈبے مہیا کئے جائیں۔

کیا سہولتوں کے اس طرح خاتمے کے بعد ریل گاڑیوں میں سفر کرنے والے افراد دل برداشتہ نہیں ہو جائیں گے۔ جو افراد ریل گاڑی میں سفر کرتے ہیں ، ان کی مجبوری ہے۔ ان کے وسائل انہیں اجازت نہیں دیتے کہ وہ ہوائی جہاز سے سفر کر سکیں یا اپنی گاڑی سے سفر کرلیں۔ طویل سفر کے لئے تو سڑک کا سفر کسی طرح بھی بہتر نہیں ہوتا، بلکہ وہ تکلیف کا سبب ہی ہوتا ہے۔

میں نے ٹکٹ چیکر سے مطالبہ کیا کہ کمپلینٹ بک فراہم کی جائے۔ حیل و حجت سے کام لیا گیا اور بار بار کمپلینٹ کی وجہ دریافت کی گئی۔ بالآخر مجبوری میں کمپلینٹ بک لائی گئی، ٹرین منیجر اور گارڈ بیٹھے رہے ۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ جو شکایات درج کی گئی ہیں، ان پر کیا کارروائی کی جاتی ہے۔ کیوں نہیں وزیراعظم عمران خان اور وزیر ریلوے شیخ رشید کی نیک نامی کے لئے بہتر ہوتا کہ ریل گاڑیوں میں ماضی کے مقابلے میں زیادہ سہولتیں فراہم کی جاتیں، کھانے کا معیار قابل تعریف بنایا جاتا، ڈبوں کی صفائی وغیرہ پر خصوصی توجہ دی جاتی۔ 

ریلوے کے بڑے افسران بھی نقصان میں چلنے والے محکمے پر بوجھ ہیں۔ ان افسران کو جو سہولتیں حاصل ہیں، انہیں کیوں نہیں ختم کر کے پیسہ بچایا جا سکتا ہے۔ بڑے افسران کے لئے علیحدہ سے سیلون کیوں لگایا جاتا ہے۔

سیلون ایک علیحدہ ڈبہ ہوتا ہے، جس کی آرائش اور زیبائش پر خاصی بڑی رقم خرچ ہوتی ہے اور بڑے افسران کے یہ بھی نخرے ہیں کہ جب وہ کسی ریل گاڑی میں سفر کرتے ہیں تو اس گاڑی کے ساتھ ایک اضافی انجن بھی چلایا جاتا ہے تاکہ اگر گاڑی میں لگا ہوا انجن کسی وجہ سے کام کرنا چھوڑ دے تو اضافی انجن کو استعمال کیا جا سکے۔ یہ نخرے ہی تو ہیں جو اضافی خرچوں کا بوجھ بنتے ہیں۔ محکمہ ریل کے وزیر سمیت تمام افسران بشمول چیئرمین کو پابند کیا جانا چاہئے کہ وہ عام مسافروں کی طرح عام ڈبوں میں ہی سفر کیا کریں ۔

اس پابندی کی وجہ سے ریل گاڑیوں میں سہولتیں موجود رہیں گی اور ان کی کارکردگی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو سکے گا جو مسافروں پر خوشگوار اثر ا ت ہی مرتب کریں گی۔ کوئی علیحدہ سیلون نہیں لگایا جائے گا۔

کوئی اضافی انجن نہیں چلایا جائے گا۔ پاکستان کے موجودہ معاشی حالات بھی تمام ہی محکموں میں افسران پر آنے والے خرچوں میں بہت زیادہ کمی کا تقاضہ کرتے ہیں۔ اگر افسران کی مراعات اور سہولتوں پر آنے والے اخراجات کو ختم نہیں کیا جا سکتا ہے تو عام مسافروں اور لوگوں پر آنے والے اخراجات میں کٹوتی کرنا لغو ہے۔

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو کل کی بجائے آج ہی ریلوے کے بڑے افسران پر کئے جانے والے تن خواہ کے علاوہ تمام اخراجات کو ختم کرنے کا حکم صادر کرنا چاہئے ۔ کیوں شیخ رشید ، آپ نے مایوس کیا ہے، اس مایوسی کو دور کرنے کے لئے اس کالم میں دی گئی تجویز پر عمل کرائیں تاکہ عمران خان کے ووٹروں کی مایوسی ختم ہو سکے۔ 

مزید : رائے /کالم