کشمیریوں پر ظلم: بھارت کا بھیانک چہرہ

کشمیریوں پر ظلم: بھارت کا بھیانک چہرہ
کشمیریوں پر ظلم: بھارت کا بھیانک چہرہ

  

بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر مظالم کی انتہا کررکھی ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا، کشمیری اپنی جدوجہد آزادی کو زندگی اور بقا کا مسئلہ سمجھتے ہیں اور بھارتی قیادت کو یہ مسئلہ اپنی موت نظر آتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے پہلے خطاب اور بعدازاں کرتارپور کو ریڈور کھولنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی قیادت کو یہ باور کرایا کہ اگر کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے تو خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے، جبکہ بھارت یہ چاہتا ہے، کشمیر پر قبضہ برقرار رہے۔جب تک کشمیریوں کو آزادی نہیں ملتی، دنیا کبھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ وہ ایک مہذب اور آزاد معاشرے کی امین ہے۔

کشمیریوں پر بھارتی غاصب فوجیوں کی طرف سے روا رکھا جانے والا ظلم دنیا کے ماتھے پر اُبھرنے والا ایک ایسا نا سور ہے، جس نے خوبصورتی کو مسخ کردیا ہے۔ ارضِ کشمیر پر بہنے والا کشمیریوں کا لہو عالمِ انسانیت کے ضمیر کو پچھلی سات دہائیوں سے جھنجھوڑ رہا ہے، مگر آزادی، حقوقِ انسانی اور تہذیبی اقدار کی عظمت کا دعویٰ کرنے والے بڑے ممالک بشمول امریکہ کو دنیا میں دوسری تمام جگہوں پر تو ظلم ہوتا نظر آتا ہے، لیکن کشمیر میں ہونے والے ظلم سے وہ ہمیشہ چشم پوشی کرلیتے ہیں۔

اُن کے تمام فیصلے خود غرضی، منافقت اور مصلحت کی چادر میں لپٹ کر وقتی اور مفاداتی ضرورتوں کے تابع ہو جاتے ہیں۔۔۔ مگر کیا یہ صورت حال تادیر برقرار رہ سکتی ہے، کیا اُن لوگوں کو ہمیشہ کے لئے آزادی سے محروم رکھا جاسکتا ہے؟ جن کے سینے میں سوائے آزادی کی تڑپ کے دوسرا کوئی جذبہ ہی نہیں۔

کیا دنیا، سب سے بڑی جمہوریہ ہونے کے دعویدار ملک سے اپنے معاشی مفادات کے لئے روابط برقرار رکھنے کی اتنی بھاری قیمت اسی طرح ادا کرتی رہے گی کہ ہر سال کشمیر کی وادیوں میں نہتے کشمیری اُن کی طرف مدد کے لئے دیکھتے رہیں گے، مگر وہ کچھ نہیں کرسکے گی۔ تاریخ تویہی بتاتی ہے کہ جبر کی قوت کتنی ہی طاقتور ہو، اُسے بہرحال نیست و نابود ہونا ہوتا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی جبر کو اس تاریخی حقیقت کا سامنا آج نہیں تو کل کرنا پڑے گا۔

مقبوضہ کشمیر کے لاکھوں مجاہدین نے اپنی ثابت قدمی سے یہ ثابت کردیا ہے کہ اُن کی جدوجہد آزادی وقتی نہیں، بلکہ یہ اُن کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ دنیا کے کسی اور خطے میں اس قدر صبر آزما اور تسلسل کے ساتھ جاری رہنے والی جدوجہد آزادی کا اور کوئی حوالہ نظر نہیں آتا۔ اتنی طویل اور کشت و خون میں ڈوبی ہوئی جدوجہد کے بعد بھی اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وقت کی گرد کشمیریوں کے دل سے آزادی کی تڑپ ختم کر ڈالے گی تو یہ اُس کی خام خیالی، تعصب اور کشمیریوں سے دشمنی ہی کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

دنیا کا کوئی اور خطہ ایسا نہیں، جہاں سات لاکھ سے زائد مسلح فوج صرف اس مقصد کے لئے سالہاسال سے تعینات ہو کہ وہاں کے رہنے والوں کو اُن کے بنیادی حقوق اور حق خودارادیت سے محروم رکھا جاسکے۔ یہ بات اُن عالمی طاقتوں کے لئے بھی ایک چیلنج ہے، جو بوسنیا، روانڈا، کوسووا، سربیا، عراق اور دیگر ایسے علاقوں میں جہاں اُن کے ذاتی مفادات وابستہ ہوتے ہیں، یو این او کی فوج اتار کر عوام کے حقوق کا نعرہ لگاتے ہوئے ملکوں کے ٹکڑے اور حکومتوں کا خاتمہ کردیتی ہیں، لیکن کشمیر کے معاملے میں ٹس سے مَس نہیں ہوتیں۔

کتنی عجیب بات ہے کہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک یو این او کی قراردادوں کا سہارا لے کر عراق جیسے ملک کے خلاف تو کارروائی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، لیکن جب انہیں چھ عشرے پہلے پاس کی جانے والی یو این او کی قرار داد یاد دلائی جائے، جس میں کشمیر کے مسئلے کا حل استصوابِ رائے قرار دیا گیا ہے تو انہیں پُراسرار طور پر سانپ سونگھ جاتا ہے۔

بھارت دنیا میں خود کو جمہوریت کا چیمپئن کہلوانے کے لئے سب سے بڑی جمہوریہ ہونے کے دعوے کرتا ہے، مگر اُس کے یہ دعوے اُس ہندو ذہنیت کے عکاس ہیں، جو بنیے کی نفسیات پر استوار ہوتی ہے اور جس میں جھوٹ، مکروفریب اور خود غرضی کے عناصر کوٹ کوٹ کر بھرے ہوتے ہیں۔

یہ کیسی جمہوریہ ہے، جس نے لاکھو انسانوں کو اُن کے جمہوری حق سے محروم کررکھا ہے اور وہاں جب بھی انتخابات کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے، لوگوں کو بیلٹ کے بجائے بلٹ کے ذریعے اپنی رائے دینے پر مجبور کیا اور اُن کے حق خودارادیت کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔

اپنے رقبے اور بے محابا آبادی کے باعث بھارت نے اُس عالمی ضمیر کو بھی مفادات کا لولی پوپ دے کر خاموش کررکھا ہے، جو دنیا کے باقی حصوں میں پتہ بھی گرے تو چیخنے لگتا ہے۔

دیکھا جائے تو مقبوضہ کشمیر کے لاکھوں عوام کے خلاف بھارت ہی نہیں، بلکہ دنیا کی بڑی طاقتیں بھی محاذ بنائے کھڑی ہیں اور اُن قربانیوں سے صرف نظر کرنے کے لئے مجرمانہ غفلت برت رہی ہیں، جو اہل کشمیر پچھلی کئی دہائیوں سے دیتے آئے ہیں۔مگر کیا بھارت اور بڑی طاقتوں کا یہ گٹھ جوڑ اُس جدوجہد آزادی کو کامیاب ہونے سے روک سکتا ہے، جو کشمیری نوجوان، بوڑھے، عورتیں اور بچے اپنے لہو سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کیا سمندرکی تندو تیز لہروں کے آگے خس و خابشاک کا بند باندھا جا سکتا ہے؟ کوئی اندھا اور متعصب ذہنی مریض ہی اس سوال کا اثبات میں جواب دے سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں نے اپنی آزادی کی جنگ جیت لی ہے۔

دنیا کی حکومتیں بے شک اپنی مصلحتوں کے سبب یہ نہ مانیں کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے، تاہم دنیا بھر کے عوام کشمیر کوایک سلگتا ہوا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ آزادی کشمیریوں کا مقدر ہے، آج نہیں تو کل غاصب بھارت کو کشمیر سے رسوا ہو کر نکلنا ہے۔

یہ وہ نوشتۂ دیوار ہے، جسے بھارتی حکمران اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں، لیکن ان کے اندر کا بنیا اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے، مگر کب تک؟

یہ سوال وزیر اعظم عمران خان نے کرتارپور کوریڈور کھولنے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھی ایک دوسرے انداز میں اٹھایا تھا کہ ایک یہی مسئلہ خطے میں بد امنی اور انتشار کا باعث بنا ہوا ہے، بھارت آخر اسے حل کیوں نہیں کرتا؟ بھارتی قیادت کے دل میں چور اس قدر شرمناکی سے چوکڑی جمائے بیٹھا ہے کہ وہ پاکستانی قیادت کا سامنا تک نہیں کر سکتی۔ کرتارپور کوریڈور کی افتتاحی تقریب میں بھارتی وزیر خارجہ دعوت دینے کے باوجود نہ آئیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران بھی آمادگی ظاہر کرنے کے باوجود سشما سوراج نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات رد کر دی۔ پچھلے کچھ عرصے سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی انتہا کر دی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد آزادی کشمیر کی جونئی لہر اٹھی ہے، وہ اب گھر گھر پھیل گئی ہے۔

آئے روز کشمیریوں کی شہادتیں ہو رہی ہیں اور بھارتی فوجی درندے نہتے کشمیریوں کے جسم گولیوں سے چھلنی کر رہے ہیں، طاقت کے نشے میں اندھے بھارتی حکمران سمجھتے ہیں کہ اس طرح کشمیر کی جدوجہد آزادی دم توڑ دے گی۔ انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ اگر ظلم و تشدد سے کشمیریوں کو شکست دی جا سکتی تو آج ستر برس بعد بھی وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند سات لاکھ بھارتی فوج کا مقابلہ نہ کر رہے ہوتے۔

مزید : رائے /کالم