گورنری کے تقاضے صحیح سمت، اخلاص اور جُہدِ مسلسل بیگم پروین سرور کے خیالات

گورنری کے تقاضے صحیح سمت، اخلاص اور جُہدِ مسلسل بیگم پروین سرور کے خیالات

بلحاظِ آبادی پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے خوش طبع، ملنسار اور عوام دوست گورنر چودھری محمد سرور کی اہلیہ بیگم پروین سرور ایک نیک دل، غریب پرور اور مشفق خاتون ہیں۔ گھر بار سنبھالنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے شوہر کے ہر اُس عمل میں ساتھ دیتی ہیں جو عوامی فلاح و بہود سے متعلق ہوتا ہے۔

بیگم پروین سرور ایک ایسے معاشرتی پس منظر سے تعلق رکھتی ہیں جس میں راست گوئی، سماجی عدل، دیانت داری اور دوسروں کی بہتری کا خیال رکھنا بنیادی اوصاف گردانے جاتے ہیں۔ وہ خود ایک بزنس وومن رہی ہیں اور ایک وسیع و عریض کاروبار کی دیکھ بھال ایمانداری سے کرچکی ہیں۔ لوگوں کی مشکلات اور مسائل و مصائب سے آگاہ ہیں اس لئے شوہر کو درپیش اُلجھنوں کو سلجھانٰے کے لئے ان کے کارہائے منصبی میں ان کا ہاتھ بٹاتی اور اُن کی ہمت بندھاتی ہیں۔

بیگم پروین سرور سے ملاقات ہمیشہ قلبی راحت کا سبب بنتی ہے۔ اُن کی باتوں میں سادگی اور لوک حکمت کی چاشنی پائی جاتی ہے اور اُن سے حاصل ہونے والی توجہ میں خلوص اور اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ حال ہی میں اُن سے ہونے والی ملاقات میں کتنی ہی یادوں کا اعادہ ہوا اور کتنی ہی نئی باتیں سننے کو ملیں۔

’’پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی گورنری ایک بہت بڑ ی ذمہ داری ہے‘‘ بیگم پروین سرور بتا رہی تھیں۔ ’’یقیناً یہ خدائی عطیہ ہے اور آزمائش بھی۔ ہم نے ملک و قوم کی بہتری اور ترقی کے لئے یکسوئی اور دیانت داری سے کام کرنا ہے۔ ہمیں احساس ہے کہ ہماری ذراسی کوتاہی اور بھول بہت سی پریشانیوں اور مشکلات کو سراُٹھانے کا موقع دے گی۔ یہی وجہ ہے کہ چودھری سرور ملکی مفاد کے حق میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ بحیثیت گورنر پنجاب وہ اپنی حد ود و قیود سے واقف ہیں لہٰذا آئینی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے وہ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ چودھری صاحب اس بات کا بطور خاص خیال رکھتے ہیں کہ حکومت کے مخالفین کو انگلی اٹھانے کا موقعہ نہ دیا جائے جو رائی کا پہاڑ بنانے کے لئے ہروقت مستعد رہتے ہیں۔‘‘

’’ناصرہ! یہ حقیقت ہے کہ محترم وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں ہماری حکومت عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی اور بہتری لانے کے لئے صدقِ دل سے کوشاں ہے۔ بلا شبہ اس حکومت کے منصب دار ذاتی اغراض و مقاصد سے بالاتر ہو کر کام کر رہے ہیں۔ تاہم برسوں کی پھیلی گندگی کو چند دنوں میں دور نہیں کیا جا سکتا ہم ان تھک محنت اور جان توڑ کوشش کر رہے ہیں کہ حالات کو سدھارا اور انہیں سیدھی پٹڑی پر ڈالا جائے۔ میرا یقین ہے کہ ایک مخلص اور جاہ و حشم سے بے نیاز و بے پرواہ وزیر اعظم ہی پاکستان کو اس مقام پر پہنچائے گا جس کا خواب اس کے عظیم بانیان نے دیکھا تھا۔ میرے شوہر اپنے فعال و متحرک وزیراعظم کے آدرشوں کی تکمیل کے لئے سخت محنت کر رہے ہیں۔‘‘

’’ناصرہ! اس ملک کو درپیش مسائل میں صحت، تعلیم اور صاف پانی کی فراہمی سرفہرست ہیں۔ برطانیہ میں رہتے ہوئے بھی میں اپنے ملک ہی کے بارے میں سوچا کرتی تھی۔ میرے وطن کی وہ تصویریں جن میں بچے بھوک اور بیماری سے مرتے دکھائے جاتے تھے اور عورتیں پانی سے بھرے دو تین گھڑے سروں پر اٹھائے نظر آتیں، مجھے ذہنی اذیت میں مبتلا کرتی تھیں اب رب کریم نے ہمیں ذمہ داری دی ہے تو اس کے حضور سر بسجود رہتے ہوئے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کی استطاعت اور قوت بھی بخشے۔میں ملک میں صاف پانی کی فراہمی کے لئے کوشاں رہتی ہوں۔ میری کوشش ہے کہ ہر اس جگہ فلٹریشن پلانٹ نصب کئے جائیں جہاں کا پانی علاقہ کے لوگوں میں بیماریوں کا باعث بن رہا ہے۔ میں خود بھی فلٹریشن پلانٹ لگوا رہی ہوں اور اہل ثروت کو بھی اس بات پر آمادہ کر رہی ہوں کہ وہ سخاوت کی مد میں زیادہ سے زیادہ فلٹریشن پلانٹ متاثرہ علاقوں میں نصب کروائیں۔ صاف پانی زندگی ہے اور اس کی فراہمی رب کریم کی عنایات سے بہرہ مند کرتی ہے۔‘‘

’’اس ملک کی تقریباً نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ خواتین اس ملک کی معاشرت و معیشت میں حیرت انگیز تبدیلیاں لا سکتی ہیں۔ بس ان کے لئے درست سمت کی نشاندہی کرنا ہے۔ ایک بہترین قوم کی تخلیق میں پڑھی لکھی ماؤں ہی کا عمل دخل ہے۔ وزیر اعظم کے احکامات کی روشنی میں ہم خواتین کی تعلیم و تربیت کے لئے محنت کر رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ خواتین کے لئے زیادہ سے زیادہ ووکیشنل ادارے کھولے جائیں جہاں بچیوں اور عورتوں کو مفید ہنر سکھائے جائیں تاکہ معاش اور معاشرت کی بہتری کے حوالے سے وہ اپنا کردار بخوبی ادا کر سکیں۔ ووکیشنل تعلیم سے آراستہ خواتین خود کو درپیش بہت سے مسائل سے یقیناًنجات پائیں گی۔

’’گورنر سرور صاحب کی یہ کوشش بھی ہے کہ جیلوں میں قید افراد کی صحت اور علاج و معالجہ کو بھی بہتر کیا جائے۔ یہ بات پریشان کن ہے کہ جیلوں میں زیادہ تر قید لوگ ہیپاٹائٹس جیسے موذی مرض کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہم صورتحال میں بہتری چاہتے ہیں اس لئے جیلوں میں قید افراد کی صحت اور علاج و معالجہ کی طرف توجہ دے رہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ جیلوں ہی میں طبی مراکز قائم کئے جائیں یا جیل سے قریبی ہسپتالوں میں قیدیوں کو علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں۔‘‘

’’ناصرہ! گورنر شپ عظمت و شکوہ کی علامت نہیں، قوم کے لئے کچھ بہتر کرنے کی بھاری ذمہ داری کا نام ہے ہم گاڑیوں کی لمبی قطار اور پولیس کی گاڑیوں کے ہوٹروں سے خوش نہیں ہوتے۔ بس ہمیں خدشہ رہتا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو صحیح معنوں میں ادا کر بھی رہے ہیں یا نہیں اور یہ بھی کہ ہمارا رب ہم سے خوش ہے بھی یا نہیں۔ ہم رب کریم کے حضور اس کی رحمتوں کے لئے دعا گو رہتے ہیں جب ہم سبز و صاف پاکستان کے لئے ایک پودا لگاتے ہیں، کسی غریب کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں، کسی کو صاف پانی کا گلاس تھماتے ہیں اور کسی بیمار کے آنسو پونچھتے ہیں۔‘‘

یہ امر باعث مسرت ہے کہ گورنر ہاؤس کو عام لوگوں کے لئے کھول دیا گیا ہے۔ انیسویں صدی کی یہ نوآبادیاتی نشانی پنجاب کے حکمرانوں کے کرّوفر کی علامت تھی۔اس کے دالانوں اور باغات میں جہاں پرندہ پَر نہیں مار سکتا تھا، اب وہاں دُور دراز سے آنے والے مرد،عورتیں اور بچے محظوظ ہوتے ہیں۔لوگ گورنر ہاؤس میں تفریح کرتے اور خوش ہوتے ہیں۔چودھری صاحب کے خاص احکامات ہیں کہ گورنر ہاؤس میں آنے والوں کی مہمان داری خاطر خواہ انداز میں کی جائے۔

مزید : ایڈیشن 1