صرف بیانات کافی نہیں ، الگ صوبے کیلئے ٹھوس عملی اقدامات ضروری

صرف بیانات کافی نہیں ، الگ صوبے کیلئے ٹھوس عملی اقدامات ضروری

ملتان(سٹی رپورٹر)وزیراعظم عمران خان کی سینئر صحافیوں سے گفتگو پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سرائیکستان صوبہ محاذ کے رہنماؤں خواجہ غلام فرید کوریجہ ‘ پروفیسر شوکت مغل‘ ملک اللہ نواز وینس ‘ عاشق بزدار ‘ ظہور دھریجہ اور مہر مظہر کات نے کہا ہے کہ سرائیکی صوبہ وسیب کے کروڑوں افراد کیلئے زندگی موت کا سوال ہے ۔ وزیراعظم کی طرف سے محض اتنا کہنا کہ صوبہ بنانے میں دلچسپی ہے افسوس کا باعث ہے ۔ صوبے کیلئے ٹھوس اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے(بقیہ نمبر64صفحہ12پر )

۔ انہوں نے کہا کہ قبل از وقت الیکشن کی بات کر کے وزیراعظم سیاسی نا بالغ نظری کا ثبوت دیا۔ عجب بات ہے کہ ملک کا وزیراعظم خود کہہ رہا ہے کہ مجھے ملکی کرنسی کے ڈاؤن فال کا علم اخباروں سے ہوا ۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر کی ہدایات پر عمل نہیں ہونا چاہئے ۔ امریکا سمیت دنیا کے کسی ملک کو دوسرے ملک میں مداخلت کا حق نہیں ۔ افغانستان اپنے اندرونی معاملات کا فیصلہ خود کرے ۔ سرائیکی وسیب کو ہر معاملے میں نظر انداز کیاجاتا ہے ، اہم ملاقاتوں میں سرائیکی وسیب کے صحافیوں کو نہیں بلایا جاتا اور نہ ہی ان کو غیر ملکی دوروں میں اس قابل سمجھاجاتا ہے ۔ ملتان کی صحافی کالونی کے بارے میں میاں شہباز شریف نے جو ظلم کرنا تھا ‘ اس نے دس سال ملتان کے غریب صحافیوں کے برباد کئے ‘ اب عثمان بزدار بھی یہ مسئلہ حل نہیں کر رہے ، جس پر ہم سراپا احتجاج ہیں ۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ ہم حکمرانوں پر واضح کرتے ہیں کہ پاکستان لاہور ،اسلام آباد یا کراچی کا نام نہیں بلکہ ملتان ‘ڈی جی خان ، بہاولپور ، جھنگ ، سرگودھا اور ڈی آئی خان سمیت تمام علاقے برابر کا استحقاق رکھتے ہیں ۔ وسیب کے صحافیوں سے سوتیلی ماں کا سلوک بند نہ ہوا تو ہم صحافی برادری کے ساتھ ملکر احتجاج کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ اشتہارات کی بندش کی وجہ سے میڈیا میں جو بحران آیا ہوا ہے اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے عامل صحافیوں کی جو برطرفیاں ہو رہی ہیں ‘ اس پر فوری قابو پایا جائے ورنہ یہ عمل عامل صحافیوں کے معاشی قتل کا باعث ہوگا اور اس کا ذمہ دار حکمرانوں کو سمجھا جائے گا ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر