کرشنگ سیزن لیٹ ،کسان دیوالیہ برے احتجاج کی تیاریاں ،جلد اہم فیصلے

کرشنگ سیزن لیٹ ،کسان دیوالیہ برے احتجاج کی تیاریاں ،جلد اہم فیصلے

مظفر گڑھ، سنانواں،رحیم یارخان، راجن پور، چوک اعظم( نمائندہ خصوصی ، بیور رپورٹ ،بیورو نیوز، نامہ نگار ، نمائندہ پاکستان)شوگر ملز کارٹل کیخلاف گنے کے کاشتکاروں کا طویل احتجاج دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ، ملک بھر کی مزدور تنظیمیں اور دینی وسیاسی جماعتوں کے کسان ولیبر ونگز بھی کاشتکار تنظیموں کی حمایت میں سڑکوں پر نکلنے کیلئے تیار ہوگئے ، جنوبی پنجاب کے انقلابی سوچ کے حامل دینی وسیاسی رہنما علامہ عبدالرؤف ربانی نے تمام کاشتکار(بقیہ نمبر12صفحہ12پر )

تنظیموں کے ساتھ ساتھ لیبر آرگنائزیشنز اور دینی وسیاسی جماعتوں کے لیبر ونگز کا ’’ فیصلہ کن‘‘ اجلاس 10 دسمبر کو مکی مسجد سیکرٹریٹ چوک پٹھانستان رحیم یارخان شہر میں طلب کر لیا ہے ، گذشتہ روز اسلام آباد سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ عبدالروف ربانی نے کہا ہے کہ وہ ایک ماہ سے علیل ہونے کے باعث ہسپتا ل میں زیر علاج ہیں،ڈاکٹرز کی جانب سے اجازت ملتے ہی وہ پنجاب وسندھ دونوں صوبوں کے سنگم پر گنے کے کاشتکاروں کی احتجاجی تحریک میں شامل ہو ں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس سال تو شوگر ملز کارٹل نے بے حسی کی حد کر دی ہے ، دسمبرکامہینہ شروع ہونے کے باوجودکرشنگ سیزن شروع نہیں کیا جا رہا، کاشتکاروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اس لئے احتجاجی تحریک شوگر ملز کے گھیراؤ اور اس سے بھی آگے بھی جا سکتی ہے ، بڑے پیمانے پر کوئی نقصان ہوئے تو اس کے ذمے دار شوگرملز مالکان اور انتظامیہ ہو گی۔ کسان بورڈ نے پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کو بتلا یا کہ غریب کسان ہاریو ں سے زیادتی اور نا انصافی ہر گز برداشت نہیں کی جائے گی 15 نومبر کو گنے کی خریداری کاا علان شوگرملز مالکان نے کیا لیکن ابھی تک گنے کی خریداری شروع نہ ہوسکی جس کی وجہ کسان پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں گزشتہ سال کے بقا یا جات ابھی تک نہیں مل سکے خود تو شوگر ملز مالکان فی ٹن چینی سے5ہزار روپے منافع کما رہے لیکن کسان ابھی بھی بد حالی کا شکار ہیں گزشتہ سال کی طرح کی گندم بھی مقررہ وقت پرکاشت نہیں جاسکے گی اوردسرا اہم مسئلہ داجل کینال کے ٹیل تک پانی کی فراہمی بھی نہ ہوسکی ،کسان بورڈ نے حکومت پنجاب اور ڈی سی راجن پورسے مطالبہ کیا ہے کہ انڈس شوگر مل کو چالو کراکے گنے کی خریداری کو یقینی بنایا جائے اگر ہمارے مطالبات فی الفور تسلیم نہ کیے گئے تو انڈس ہائی بلاک کردی جائے گی اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا اس موقع پر ضلعی صدر خواجہ محسن ریا ض ، نائب صدر سردار محمد جلب خان گبول اورتحصیل صدر جامپور جمیل الرحمن ہانبھی موجود تھے ۔ چوک اعظم سے نامہ نگار کے مطابق ڈپٹی کمشنر بابر بشیر نے صوبائی حکومت کی ہدایت پر ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144کے تحت ضلع بھر کی ریونیو حدود میں کریشنگ سیزن کے دوران کین کمشنر کی اجازت کے بغیر کسی قسم کے گنے کی خریداری کے مراکزقائم کرنے یاکنڈے لگانے پرپابندی عائدکردی ہے جبکہ خرید کردہ گنے سے کسی قسم کی کٹوتی کی ممانعت اور کاشتکاروں کو سی پی آر درست وزن کی جاری کرنا ہوگی ا ور خریدشدہ گنے کی پیمنٹ شوگر مل سے کیش کی صورت میں دینے پر پابندی عائد کردی ہے ۔یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہو کر 31مارچ 2019ء تک موثر رہے گا۔ دریں اثنا کسان بچاؤ مزدور بچاؤ تحریک کا آغاز کر رہے ہیں، عمران خان شوگر مافیا کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہو رہے تو فوری طور پر شوگر ملیں حکومتی تحویل میں لے کر انتظامیہ کے ذریعے شوگر ملیں چلوائیں، ان خیالات کا اظہار پاکستان عوامی راج کے چیئرمین جمشید دستی نے مرکزی رہنما چوہدری عامر کرامت اور ملک اجمل کالرو کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کسانوں مزدوروں کے حالات انتہائی افسوسناک ہے، انہوں نے کہا کہ آج سیکریٹری ماحولیات سے فوننہر بات ہوئی تو کہا کہ مظفرگڑھ میں بھٹے بند ہونے سے لاکھوں مزدور بے روزگار ہیں آپ فوری طور پر بھٹے چلوائیں تو سیکرٹری ماحولیات نے کہا کہ مظفرگڑھ میں انہوں نے بھٹے بند کرنے کا حکم نہیں دیا کتنے افسوس کی بات یے کہ متعلقہ سیکرٹری کو پتہ نہیں اور ضلع کے بھٹے بند ہیں انہوں نے کہا کہ ضلع مظفرگڑھ کے بھٹہ مالکان فوری ہر بھٹے چلائیں، انہوں نے کہا شوگر ملز مالکان مافیا پاکستان کا بڑا غنڈہ مافیا ہے کسانوں کے گزشتہ سال کے پیسے ابھی تک نہیں ملے اور سے شوگر ملز مالکان نے دسمبر شروع ہونے کے باوجود کریشنگ شروع نہیں کی جو کہ ظلم ہے کسان کی آنکھوں میں خون کے آنسوں ہیں کماد کی فصل کھیتوں میں سوکھ رہی ہے گنے کی مٹھاس بڑھ رہی ہے اور حکومت تماشا دیکھ رہی ہے، انہوں نے کہا کیا عمران خان شوگر مافیا کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں جو ابھی تک شوگر مافیا کے خلاف حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا گزشتہ سال کے قرضے اور موجودہ فصل کے حالات دیکھتے ہوئے کسان موت کے دہانے پر پہنچ چکا ہے سود در سود قرضوں نے کسانوں کا سکھ چین چھین لیا ہے۔انہوں نے کہا آج سے کسان بچاؤ مزدور بچاؤ تحریک کا آغاز کر رہے ہیں اگر حکومت نے 48 گھنٹوں میں شوگر ملیں نا چلوائیں تو کل بروز بدھ کچہری چوک پر کسانوں کے ہمراہ دھرنا دینگے اور پرامن احتجاج کرینگے۔ سنانواں سے نمائندہ خصوصی کے مطابق کسان بورڈ پاکستان کے مرکزی رہنما ملک اسماعیل کھر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شوگر ملز مالکان مافیا کاشتکاروں کا استحصال کرنے کی ٹھان لی ہے۔حکومت کی مقرکردہ تاریخ پر بھی ملیں نہیں چلائی گئیں جس پر حکومت کی خاموشی بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ایک طرف تو کسانوں کے لیے پیکجز کے بلند وبالا دعوے اور دوسری طرف شوگر ملیں نہ چلواکر کسانوں کا معاشی قتل یہ دوغلی پالیسی نہیں چلنے دیں گے۔شوگر ملز مالکان کیا اتنا مافیا بن گیا ہے گورنمنٹ پاکستان ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔شوگر ملز مالکان کان کھول کر سن لیں اگر کسان کا کچھ نہ بچا تو شوگر ملز والوں کا بھی کچھ نہیں بچے گا پھر ملیں ہمیشہ کے لیے بند کر دیں گے۔کسان بورڈ پاکستان کا چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار صاحب سے اپیل ہے کہ تمام شوگر ملیں گورنمنٹ پاکستان کے حوالے کردی جائیں اور ان جلد ازجلد چلایا جاسکے۔

جمشید دستی

مزید : ملتان صفحہ آخر