سماعت وبصیارت سے محروم افراد حکومتی سرپرستی کے مستحق ہیں، کمشنرمردان

سماعت وبصیارت سے محروم افراد حکومتی سرپرستی کے مستحق ہیں، کمشنرمردان

مردان (بیورورپورٹ)کمشنر مردان ڈویژن عبد الغفور بیگ نے کہا ہے کہ سماعت و بصارت سے محروم اورذہنی اور جسمانی طور پر معذور بچے حکومتی سرپرستی کے مستحق ہیں اور ان کی سرپرستی کرنا حکومت کے علاوہ صاحب ثروت لوگوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے ، تاکہ یہ بچے معاشرے کے کارآمد شہری بن سکیں۔ ان خیالات کا اظہار کمشنر مردان ڈویژن عبد الغفور بیگ اور ممبر صوبائی اسمبلی ظاہر شاہ طورو نے خصوصی افراد کے عالمی دن کے موقع پر نیشنل ایجوکیشن کمپلیکس شیخ ملتون مردان میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے ڈپٹی ڈائریکٹر نیشنل ایجوکیشن کمپلیکس سید علی شاہ بخش اورایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر قاسم علی خان نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر سید علی شاہ بخش نے اس دن کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی افراد کا عالمی دن1992سے لیکر آج تک ہرسال منایا جاتا ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں خصوصی بچوں کی تعداد 10فیصد ہے، نیشنل ایجوکیشن کمپلیکس مردان میں 240 خصوصی طلبہ کو تعلیم دی جاتی ہے جوکہ ہمارے لئے باعث فخر ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر نے کمشنر مردان ڈویژن اور ایم پی اے ظاہر شاہ طورو سے مطالبہ کیا کہ بیوٹیفیکیشن فنڈز سے ہمارے ادارے کیلئے 25لاکھ روپے مختص کئے جاچکے ہیں لیکن ابھی تک ریلیز نہیں ہوئے ہیں ، مذکورہ فنڈ ز کو ریلیز کیا جائے۔ انہوں نے ادارے کے سالانہ بجٹ میں اضافے اور مین گیٹ پر سیکورٹی روم تعمیر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ مہمان خصوصی کمشنر مردان ڈویژن نے کہا کہ سماعت اور بصارت سے محروم معذور بچوں کی سرپرستی ہم سب کی ذمہ داریوں میں شامل ہے ، تاکہ ان بچوں کی احساس محرومی کو ختم کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ خصوصی بچے خصوصی توجہ کے مستحق ہیں اور ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لاکر انکی صلاحیتوں میں مزید نکھار لاسکتے ہیں ۔ کمشنر مردان ڈویژن نے ڈپٹی کمشنر مردان اور سی اینڈڈبلیو کے حکام کو ہدایت کی کہ مردان میں بصارت و سماعت سے محروم بچوں کے کالج بنانے کیلئے پی سی ون تیار کیا جائے تاکہ ضلع مردان میں ان کے لئے کالج کا قیام عمل میں لایا جاسکے ۔ انہوں نے اس ادارے کے بجٹ میں اضافے اور 25لاکھ روپے بیوٹیفکیشن فنڈ ریلیز کرنے کے حوالے سے بھی احکامات جاری کئے۔ اس موقع پر ایم پی اے ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ صوبائی حکومت سماعت و بصارت سے محروم اور ذہنی اور جسمانی طور پر معذور بچوں کی فلاح کے لئے عملی اقداما ت کررہی ہے ، تاکہ یہ معذور بچے معاشرے پر بوجھ نہ ہوں اور اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے بات کی گئی ہے کہ پشاور یا مردان میں سماعت و بصارت سے محروم بچوں کیلئے ڈگری کالج کا قیام عمل میں لایا جائے اور اس ضمن میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوانے یقین دلایا ہے کہ جلد ہی اس سلسلے میں عملی قدم اٹھایا جائے گا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر