پنجاب پولیس کا پائلٹ کون؟

پنجاب پولیس کا پائلٹ کون؟
 پنجاب پولیس کا پائلٹ کون؟

  

پولیس کا محکمہ ملک کی اندرونی صورتحال یعنی امن و امان برقراررکھنے کے لیے حکومت کا سب سے اہم شعبہ تصور ہوتا ہے۔ ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ پولیس کا محکمہ اندرونی سرحدوں کا محافظ ہوتا ہے۔ پولیس کے محکمہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں باقاعدہ طورپر اس کے کئی شعبے بن چکے ہیں۔ جیسے کہ موٹر وے پولیس، ایلیٹ فورس اور ڈولفن فورس اسی طرح ملک کو پیش چیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئنٹر ٹیررازم کا شعبہ بھی کام کر رہا ہے۔ ہر سال حکومت کے اخراجات میں سب سے نمایاں اضافہ پولیس کے اخراجات میں ہوتا ہے۔

لیکن بد قسمتی کے ساتھ نیا پاکستان کی حکومت سو دن مکمل ہونے کے بعد دیگر کسی بات کا تذکرہ نہیں کرتے مگر ایک بات طے ہے کہ پنجاب پولیس کی صورتحال کھائی میں گرتے بڑے اور بیکار پتھر کی سی ہے۔ ڈی پی اوپاکپتن کا تبادلہ جو کسی مخفی وروحانی خلل پر ہواسے شروع ہونے والی داستان کے مطابق موجودہ آئی جی اب تک اڑھائی سو سے زیادہ اہلکاروں کے تبادلے کر چکے ہیں۔ جس سے ابھی تک یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے۔ کہ وہ اپنے من پسند افسران و اہلکاروں کی فوج ترتیب نہیں دے پارہے۔

اس کے متعلق ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ تقرریاں اور تبادلے کے خواہش بھرے احکامات آئی جی کے علاوہ وزیر اعلیٰ و گورنر ہاؤس، ایک انتہائی با اثر وزیر جنہیں پسٹل خان بھی کہا جاتا ہے شامل ہیں بات یہیں پر نہیں رکتی کچھ مراسلے پنجاب کے ایک روحانی شہر سے جاری ہوتے ہیں اور باراستہ اسلام آباد آئی جی کو موصول ہوتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس ذریعہ سے موصول ہونے والے احکامات دیگر تمام طاقت کے مراکز کو ایک بونسر کی طرح عبورکر جاتے ہیں پنجاب پولیس کی ابتری کی انتہا وزیر اعظم کے دورہ سیالکوٹ کے موقع پر دیکھنے میں آئی جب شہر میں ٹریفک کی روانگی کو Manageنہ کیا جا سکا۔

اور انتہا اس وقت دیکھنے میں آئی جب آئی جی صاحب غلطی سے جو کہ یقیناً کسی پریشانی یا بدحواسی کے نتیجے میں ہوئی جب وہ اسلام آباد کو جانے والے ہیلی کاپٹرمیں مکینک کی جگہ پر جا بیٹھے یا پائلٹ کی نشاندہی پر وہ وہاں سے اٹھ تو گئے لیکن مختلف سمتوں سے آنے والے احکامات کی زدمیں آئے آئی جی صاحب کی حقیقت میں بھی شاید حیثیت ایک ہیلی کاپٹر کے مکینک کی سی ہے۔

مزید : رائے /کالم