اپوزیشن ہمارے ساتھ نہیں چلنا چاہتی تو نہ چلے شہباز شریف کو چیئر مین پی اے سی نہیں بنائینگے ، انتخابات قبل از وقت ہوسکتے ہیں : عمران خان

اپوزیشن ہمارے ساتھ نہیں چلنا چاہتی تو نہ چلے شہباز شریف کو چیئر مین پی اے سی ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ،آئی این پی ) وزیر اعظم عمران خان نے آئندہ 10 دنوں میں وفاقی کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں قبل از وقت الیکشن ہوسکتے ہیں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے اپوزیشن ہمارے ساتھ نہیں چلنا چاہتی تو نہ چلے ہم شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین نہیں بنائیں گے،آرمی چیف لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کیلئے ہمارے ساتھ ہیں، زلفی بخاری کے معاملے پر اقرباپروری کے ریمارکس پر افسوس ہوا۔پیر کے روز سینیر صحافیوں اور اینکر پرسنز سے گفتگو کرتے ہوئے ۔ عمران خان نے کہا کہ ہم اداروں کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم نے اسٹیٹ بینک کو اتھارٹی دی ہوئی ہے اور اپنے حالات کے مطابق انہوں نے کرنسی کو ڈی ویلیو کیا، گزشتہ حکومت کے جانے پر 19ارب ڈالر کا خسارہ تھا، جس وجہ سے لوگ ڈالر خریدرہے ہیں، پچھلی حکومت نے صرف ڈالر کو مینٹین کرنے کیلئے 7 ارب ڈالر خرچ کر دیا، گھر میں خسارہ ہو تو مطلب گھر صحیح نہیں چل رہا،ہم تو پہلے باہر جا کر ڈالر مانگ رہے ہیں، پیسہ گرانے یا اٹھانے کی اتھارٹی اسٹیٹ بینک کی ہے، مجھے تو نہیں پتہ کہ یہ معاملات کیسے ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب ہم نے سٹیٹ بینک کو پیغام دیا ہے کہ آئندہ ایسا کوئی اقدام اٹھانا ہو تو ہم سے پہلے مشورہ کیا جائے، میرے علم میں نہیں تھا کہ سٹیٹ بینک روپے کی قدر گرا رہا ہے، ہم پاکستان کے اعشاریے درست جگہ لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان میں حوالہ یا ہنڈی کے ذریعے نہیں بلکہ لیگل طریقے سے رقم پاکستان آرہی ہے،اس کے علاوہ پاکستان میں بیرون ملک سے سرمایہ کاری آرہی ہے، چائنہ نے بھی باہر سے سرمایہ کاروں کیلئے سہولیات دیں اور وہاں انوسٹر آئے تھے، ہم منی لانڈرنگ کے اوپر سخت قانون لا رہے ہیں، منی لانڈرنگ پر قابو پائیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ 100 دن میں سارے وزراء نے اپنی کارکردگی کے اوپر رپورٹس تیار کرلی ہیں، میں اس ہفتے سب کا جائزہ لوں گا اور ہو سکتا ہے کہ کچھ وزراء کو تبدیل کریں۔ عمران خان نے کہا کہ ہمیں بہت برے حالات میں حکومت ملی، ہم بہت سخت محنت کر رہے ہیں، میں کبھی اتنی دیر کرسی پر نہیں بیٹھا جتنا اب بیٹھ رہا ہوں، تمام ادارے نقصان کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے سنگا پور اور ملائیشیاء کا ماڈل سٹڈی کیا ہے، اداروں کو مکمل پرائیویٹ بھی نہیں کرنا اور سیاسی مداخلت سے پاک کرنا ہے، ایک اٹانومی بورڈ ہو جو ادارے کو جلائے، جیسے حالات میں ہمیں حکومت ملی اس حساب سے ہماری کارکردگی زبردست ہے، اعظم سواتی کے معاملے پر ہم نے بالکل مداخلت نہیں کی، ہم نے جے آئی ٹی پر بھی کوئی دباؤ نہیں ڈالا، ہم نے اپنے وزراء کو بچانے کیلئے کسی ادارے پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بابر اعوان نے نیب ریفرنس پر خود استعفیٰ دیا، اگر اعظم سواتی کی غلطی ہوئی تو وہ بھی استعفیٰ دے گا۔ عمران خان نے کہا کہ گورنمنٹ میں بیٹھے کتنے لوگوں پر آج سے پہلے نیچے والے اداروں نے آزادانہ انکوائری کر کے دکھائی ہے، عثمان بزدار پنجاب کے چیف ایگزیکٹو ہیں ان کو کسی نے بتایا کہ شہری کی بیٹی سے پولیس نے زیادتی کی ہے تو وہ پولیس والے سے کیا پوچھ بھی نہیں سکتے کہ ایسا کیوں ہوا؟میں نے آج تک کسی ادارے میں مداخلت نہیں کی، پنجاب کو اس سے پہلے ایسا وزیراعلیٰ نہیں ملا، چیف منسٹر کو ایک لڑکی سے ظلم کی اطلاع ملی تو 45منٹ کے اندر وہ مسئلہ حل کروایا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے نہیں بلکہ آئی جی پنجاب نے ڈی پی او کا تبادلہ کیا، پاکستان میں 1970کے بعد ایک کلچر بن گیا ہے کہ 22امیر خاندان بن گئے، یہ لوگ سرمایہ کار کو بھی ملک میں نہیں آنے دیتے، جب تک آپ لوگوں کی مدد نہیں کرتے پیسے بنانے میں تو کاروبار نہیں چلتے،مہاتیر محمد نے کہا کہ اپنے تاجروں کی مدد کریں، یہاں لوگوں کیلئے سرمایہ کاری کے مواقع نہیں بنائے گئے بلکہ الٹا ان کو تنگ کر کے نکالا گیا، اس وجہ سے یہاں سرمایہ کار نہیں آتے، ہم ایسا ماحول پیدا کر رہے ہیں کہ لوگوں کو پیسے بنانے میں مدد دیں، یہاں سرمایہ کاری نہ ہونے سے غریبوں کو نقصان ہو رہا ہے، ہم اس کام میں کامیاب ہو جائیں گے، ہم نے پہلی دفعہ یہ کہا کہ پالیسی حکومت بنائے گی اور ایف بی آر صرف ٹیکس اکٹھا کرے گی، ایف بی آر کا کام صرف ٹیکس اکٹھا کرنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ قوم یہ فیصلہ کرے کہ ہم نے ملک کو کرپشن سے پاک کرنا ہے یا نہیں، جن ممالک میں کرپشن نہیں وہاں ترقی ہوئی، چین نے 400وزیروں کو کرپشن پر پکڑا، آج چین امریکہ سے آگے بڑھنے والا ہے، معاشی ترقی میں اگلے 10 سالوں میں چین آگے اور امریکہ پیچھے ہو گا۔ عمران خان نے کہا کہ اداروں میں لوگوں نے بڑا پیسہ بنایا ہے اس لئے اب گوسلو پالیسی چلائی جا رہی ہے، لوگوں کو دفتروں میں تنگ کیا جاتا ہے، یہ سمجھتے ہیں کہ چند دن میں حکومت چلی جائے گی، نیب ایک آزاد ادارہ ہے، ہمارا اس کے اوپر کوئی کنٹرول نہیں ہے، ہم نے انکروچمنٹ پر بھی ہدایت دی ہے کہ غریبوں کے گھر نہیں گرانے مگر یہ لوگ جا کر غریبوں کے گھر گرا دیتے ہیں، غریبوں، عورتوں اور بچوں کی ویڈیوز سامنے آتی ہیں تو اس سے بڑے بڑے مگرمچھوں کی بچت ہو جاتی ہے، جو بیورو کریٹ حکومتی اقدامات میں رکاوٹ بنے گا اس کا صفایا ہو گا، ہم ان لوگوں کو دیکھ رہے ہیں جدھر جدھر ہمیں اچھے بیورو کریٹ ملیں ان کو رکھیں گے، باقیوں کو نکال باہر کریں گے،عثمان بزدار مختلف علاقوں میں وزٹ کر کے دیکھتا ہے کونسا بیورو کریٹ کام کر رہا ہے اور کونسا نہیں کررہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن ہمارے نیچے ہیں، ہم نے 26ملکوں کے ساتھ معاہدے کئے ہیں اور ان ممالک سے پاکستانیوں کے جو اکاؤنٹس سامنے آئے وہ 11ارب ڈالر ہیں، دبئی اور سعودی عرب والوں نے ہمیں اقامے والوں کی تفصیلات ہی نہیں دیں، انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے شہری ہیں، وہاں سے انہوں نے منی لانڈرنگ کی اور دل کھول کر پیسہ بنایا، ہم نے سوئٹزرلینڈ سے بھی معاہدہ کرلیا ہے، اب وہاں کی تفصیلات بھی آئیں گی، ان لوگوں نے کیوں نہیں ملکوں سے معاہدے کئے کیونکہ یہ لوگ پیسہ لانا ہی نہیں چاہ رہے ، یہ لوگ اس لئے ڈرے ہوئے ہیں کیونکہ ابھی مزید اربوں روپے کی معلومات آرہی ہیں،30سال میں پاکستان 16بار آئی ایم ایف کے پاس گیا، اب ان کے خلاف ایکشن ہو گا۔ گرفتاریوں سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن پہلے ہی مجھے اسمبلی میں بات نہیں کرنے دیتی، آپ کہتے ہیں گرفتار کریں، ہم چاہتے ہیں پکے کیس بنائیں تا کہ یہ لوگ بچ کر نکل نہ سکیں، قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ ملک میں ڈالروں کی کمی نہیں ہو گی، آنے والے دنوں میں بہت زیادہ ڈالر پاکستان آرہے ہیں، اپوزیشن شہباز شریف کو چیئرمین پی اے سی بنانا چاہتی ہے اس کے اوپر کیسز ہیں اور وہ جیل میں بیٹھے ہیں، وہ جیل سے آ کر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی چلائیں گے دنیا میں پاکستان کا مذاق نہیں اڑے گا؟۔ انہوں نے کہا کہ فافن اور یو این کی رپورٹس ہیں کہ الیکشن شفاف ہوئے ہیں، یہ لوگ مجھ پر اتنا پریشر ڈالنا چاہتے ہیں تا کہ میں کہوں کہ آؤ مل کر پارلیمنٹ میں کام چلاؤ، کسی کا احتساب نہ ہو، یہ لوگ اسمبلی میں اتنا شور اس لئے ڈال رہے ہیں تا کہ ان کو این آر او ملے، یہ لوگ مجھ سے یہ سننا چاہتے ہیں کہ آؤ مل کر چلیں کوئی احتساب نہیں ہو گا، گورنمنٹ اگر چاہے تو بڑا کچھ کر سکتی ہے، ہم سپریم کورٹ کو بالکل دباؤ میں نہیں لا سکتے، سپریم کورٹ اپنے طور پر کام کر رہی ہے، مجھے سپریم کورٹ کی باتوں سے تکلیف بھی ہوئی مگر پھر بھی ہم انہیں آزادانہ کام کرنے دے رہے ہیں، فوج تحریک انصاف کے منشور کے ساتھ کھڑی ہے، ہم نے مل کر کرتارپور کوریڈور کھولا ہے، بھارت اور پاکستان ایک قوم نہیں ہیں، مگر ہم تجارت کر سکتے ہیں ملک آگے بڑھ سکتے ہیں، جرمنی اور جاپان کے درمیان بڑے گہرے تجارتی تعلقات ہیں، وزیرخارجہ نے پتہ نہیں گگلی والی بات کیوں کہی، میں نے سکھوں کے چہرے پر کرتارپور میں اتنی خوشی دیکھی جو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا، یہ گگلی نہیں بلکہ سیدھی سادھی بات ہے، یہ ایسے ہی ہے جیسے مسلمانوں سے 4کلو میٹر دور خانہ کعبہ ہو اور ان کو وہاں جانے کی کھلے طور پر اجازت نہ ہو اور اچانک موقع مل جائے تو مسلمان بھی ایسے ہی خوش ہو جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ یمن جنگ میں ہم فریق نہیں بن سکتے ، ہمارے سعودی عرب اور ایران سے اچھے تعلقات ہیں اور ہم دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر سکتے ہیں، ا ملائیشیا سے زبردست سرمایہ کاری آرہی ہے۔ حکومتی اتحاد سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسا عظیم لیڈر نہیں آیا جو اپنے مقصد پر پہنچنے کیلئے یوٹرن نہ لے، یہ یوٹرن نہیں اپنے مقصد تک پہنچنے کیلئے پالیسی میں تبدیلی ہے، میں نے بار بار کہا کہ (ن) لیگ اور پی پی پی سے کبھی اتحاد نہیں کروں گا، امریکہ میں پالیسی میکنگ میں پینٹا گون کا کیا کردار ہے، سیکیورٹی صورتحال میں اسٹیبلشمنٹ کا اہم کردار ہوتا ہے کیونکہ ان کے پاس مکمل معلومات ہوتی ہیں، ہمارے تمام اقدامات کے پیچھے ہمارے ساتھ فوج کھڑی ہے، سارے فیصلے ہمارے منشور کے مطابق ہو رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کا سناریو ہے ،جنرل باجوہ نے مجھے کہا کہ ہم نے بلوچستان کے تمام لوگ چھوڑ دیے ہیں ، بقیہ لوگ ہیں ہی نہیں یا وہ ملک چھوڑ گئے ہیں ، جنرل باجوہ مسنگ پرسنز کے معاملے پر ہرقسم کی مدد کرنا چاہتے ہیں ۔ عمران خان نے کہا کہ خارجہ امور سے متعلق فیصلے میں لیتا ہوں ، پاکستان اور بھارت نیوکلیئر پاورز ہیں اس لئے جنگ نہیں ہوسکتی ، دونوں ملکوں کے پاس امن مذاکرات کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے ، پراکسی وار سے بھی کوئی نہیں جیت سکتا، مسئلہ کشمیر کا بھی حل موجود ہے مگر بھارت میں انتخابات کی وجہ سے وہ لوگ مذاکرات نہیں کر رہے ، شاہ محمود قریشی کی گگلی والی بات کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے بھارت کو ہمارے خلاف پراپیگنڈہ کرنے کے قابل نہیں چھوڑا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان تو ہمارے خلاف ہی بات کرتا ہے کیونکیہ اس کو ہم نے حکومت میں شامل نہیں کیا ، ٹی ایل پی سے ہم نے ہر کوشش کی کہ معاملہ بات چیت سے حل ہو جائے مگر یہ لوگ نہیں مانے ، پہلے یہ نبی ؐ کے خاکوں کے معاملے پر آنے والے تھے وہ مسئلہ حل کیا تو یہ دوسرے معاملے پر اٹھ کر دھرنا دینے آگئے ، ہم مغرب میں قانون بنوائیں گے کہ کوئی بھی توہین رسالت نہ کر سکے ، یہ لوگ بیٹھ کر کسی کو قادیانی اور چیف جسٹس کو واجب القتل قرار دے رہے ہیں ، ایسے کوئی ملک نہیں چلتا دریں اثنا وزیر اعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ وسط 2019تک قائم وفعال کر نے کی ہدایت کی ہے ۔ پیر کووزیر اعظم عمران خان سے وزیر برائے منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جوان بخت نے ملاقات کی اس موقع پر چیف سیکرٹری پنجاب بھی موجود تھے ۔ ملاقات میں جنوبی پنجاب میں نیا صوبہ بنانے کے حوالے سے انتظامی امور پر تفصیلی بریفنگ کی گئی ۔ وزیر منصوبہ بندی نے بھی جنوبی پنجاب کے سماجی اور اقتصادی حقائق کے حوالے تفصیلی بریفنگ دی دی ۔ وزیر اعظم نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ وسط 2019 تک قائم و فعال کرنے کی ہدایت کی

عمران خان

مزید : صفحہ اول