اوورسیز پاکستانیوں کی گورنر پنجاب سے ملاقات

اوورسیز پاکستانیوں کی گورنر پنجاب سے ملاقات
 اوورسیز پاکستانیوں کی گورنر پنجاب سے ملاقات

  

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر راہنما اورموجودہ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کچھ عرصہ قبل بھی پنجاب کے گورنر تھے لیکن تب مسلم لیگ ن کی حکومت تھی ۔میاں برادران نے چوہدری سرور کو برطانیہ سے پاکستان بلایا تھاتاکہ وہ یورپی یونین کے ایم پی اے اور ایم این ایز سمیت یورپی پارلیمنٹ میں پاکستان کے لئے جی ایس پی پلس رعائت دینے کے لئے لابنگ کریں ، یورپی پارلیمنٹ میں پاکستان کی افادیت اور پاکستان کو جی ایس پی پلس رعائت دینے کے لئے زور دیں، چوہدری سرور نے اپنی یہ ڈیوٹی بہت ہی احسن طریقے سے نبھائی تھی ، انہوں نے برطانیہ کے ممبرز پارلیمنٹ اور یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے ممالک کے منتخب ہونے والے ممبرز کو پاکستان کا پیغام پہنچایا ، انہیں قائل کیا کہ وہ پاکستان کو اس رعائت سے مستفید کرنے کے لئے ہماری طرف داری کریں ، ان ممبرز میں سے کچھ تو چوہدری سرور کے دوست تھے اور کچھ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے لابنگ کی اور پاکستان کو جی ایس پی پلس رعائت کا مستحق بنا دیا ۔

بعد ازاں اس رعائت کو جاری رکھنے کے لئے ’’ ریویو ‘‘ کا دن آیا تو سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر بٹ میدان میں اُترے اور ریویو میں پاکستان کے لئے جی ایس پی پلس رعائت کو جاری رہنے کے لئے بیلجم کا دورہ کیا اور اس رعائت کو جاری رہنے کے احکامات صادر کروا لئے ۔ گورنر پنجاب جب مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں تھے تو اُن کے اختیارات نہ ہونے کے برابر تھے اور یہی ایک وجہ کافی تھی میاں برادران سے علیحدہ ہونے کی لہٰذا چوہدری سرور نے بے اختیار گورنر سے عام پاکستانی ہونے کو ترجیح دی اور گورنر شپ سے استعفیٰ دے دیا جس کے بعدانہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی اور سینیٹ کے الیکشن میں بھاری اکثریت سے سینیٹر منتخب ہو گئے ، پھر یہ سیٹ چھوڑ کر وہ دوبارہ سے موجودہ حکومت میں گورنر پنجاب بن گئے ۔

آج کل گورنر ہاؤس کی دیواریں گرانے کا چرچا عام ہے، لیکن گورنر ہاؤس کے اندر گورنر پنجاب کی مصروفیات جن میں اوورسیز پاکستانیوں کے وفود سے ملاقاتیں اور اُن ملاقاتوں میں یہ پیغام دینا کہ دیار غیر میں بسنے والے پاکستانی اپنے وطن عزیز میں سرمایہ کاری کریں قابل ستائش اقدام ہے ۔چند دن پہلے یورپ کے مختلف ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے کاروباری سیکٹر سے تعلق رکھنے والے وفود کی گورنر پنجاب سے ملاقاتیں ہوئیں جن میں برطانیہ سے پاکستانی ڈاکٹرز کا ایک وفد اور سپین سے چوہدری امانت مہر کی قیادت میں ہسپانوی بزنس مینوں پر مشتمل ایک وفد نے گورنر پنجاب سے تفصیلی ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ ہم پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ، اس ملاقات میں کوارڈینیٹر کے فرائض پیرس میں مقیم عاصم ایاز نے ادا کئے ۔ گورنر پنجاب نے غیر ملکیوں کا پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لینے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان تمام غیر ملکیوں کو اُن کے جان و مال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ وہ تمام سہولیات مہیا کرے گی جو اُن کے کاروبار میں ترقی کے لئے ضروری ہو ں گی ، انہوں نے کہا کہ میں دوسرے ممالک سے آنے والے وفود کو خوش آمدید کہتا ہوں اور انہیں مکمل تعاون کا یقین دلاتا ہوں ۔

گورنر پنجاب نے انتہائی دوستانہ ماحول میں وفود سے بات چیت کی ، انہوں نے بتایا کہ میں بھی ایک عرصے سے تارک وطن ہوں اور میں تارکین وطن پاکستانیوں کے مسائل کو بخوبی سمجھتا ہوں ۔انہوں نے سپین سے آئے ہوئے وفد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح چوہدری امانت حسین مہر نے کاروبار میں ترقی کی ہے اسی طرح دوسرے پاکستانیوں کو بھی چاہیئے کہ وہ ملک و قوم کا وقار بلند کرنے کے لئے بزنس سیکٹر میں کامیاب ہوں ، انہوں نے کہا کہ امانت حسین مہر نے بہت کم عرصے میں یورپی ممالک میں اپنی پہچان بطور بزنس مین کرائی ہے جو ہمارے لئے فخر کی بات ہے ۔اس موقع پر گورنر پنجاب نے اپنے سٹاف سے کہا کہ وہ غیر ملکی وفود کو گورنر ہاؤس کی سیر کرائیں اور اس عمارت کی تاریخ بتائیں۔

ہسپانوی وفد نے گورنر پنجاب سے الوداعی ملاقات کی تو چوہدری سرور نے کہا کہ ہماری حکومت بہت جلد پاکستان کو ترقی کے راستے پر گامزن کر دے گی اور وہ دن دور نہیں جب غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کو اپنا وطن سمجھتے ہوئے یہاں سرمایہ کاری کریں گے ،اس موقع پر گورنر پنجاب نے ہسپانوی وفد سے کہا کہ پاکستان میں آپ کو اگر پراپرٹی چاہیئے یا کاروباری کاغذات کی تیاری کرنا ہو تو حکومت آپ کو بہتر اور بروقت سہولیات مہیا کرے گی ۔

سرور کو گورنر بنانا اور پھر گورنر پنجاب کا گورنر ہاؤس میں دوستانہ ماحول پیدا کرنا انتہائی خوش آئند اقدام ہے ایسے اقدامات سے غیر ملکی کمیونٹی کی جھجھک اور ڈر ختم کرنے میں مدد ملے گی اور غیر ملکی اپنے دوسرے تاجران کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے یقیناًقائل کریں گے اور یہ عمل پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں جلد از جلد کھڑا ہونے کے لئے انتہائی کارگر ثابت ہو گا۔

مزید : رائے /کالم