ٹرمپ کے خط کے بعد زلمے کا دورہ پاکستان اہمیت اختیار کر گیا

ٹرمپ کے خط کے بعد زلمے کا دورہ پاکستان اہمیت اختیار کر گیا

واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کوافغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مددطلب کرنے سے متعلق لکھے جانے والے خط کی خاص خاص باتوں کو نمایاں طور پر نشر کرتے ہوئے عمومی طور پر اس پر مثبت در عمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے اس سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تناؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ جنوری میں جنوبی ایشیاء کے بارے میں امر یکی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے افغان جنگ کے حوالے سے پاکستان کے کردار پر شک وشبات کا اظہارکیااورامریکی امداد معطل کرنے کا عندیہ دیا تھا اس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے۔ تاہم اس کے بعد دیگر امریکی حکام نے رابطے کرکے تعلقات کو مزید بگڑنے سے بچا لیا تھالیکن گزشتہ ماہ نومبر میں ایک مرتبہ پھر پاکستان پر تازہ الزام لگایا کہ پاکستانی فوج اسا مہ بن لادن کے ایبٹ آباد کمپاؤنڈ میں موجودگی سے باخبر تھی اور اسے فوج کی مرضی کیساتھ خفیہ پناہ دی گئی تھی، اس سے ایک مرتبہ پھر حالات بگڑگئے جب پاکستانی وزیراعظم عمران خان ٹویٹ پر صدر ٹرمپ کے مقابل پر آکر ان الزامات کی سخت تردید کی ،امریکی مبصرین کا کہنا ہے صدر طویل افغان جنگ سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے طالبان سے مصالحت کیلئے تیار ہے جو اسوقت ملک کے تقربیاً نصف حصے پر قابض ہیں یا اثر نفوذ رکھتے ہیں اس پس منظر میں افغان نژاد امریکی مندوب زلمے خلیل زاد کا اس ہفتے شروع ہونیوالا خطے کا دورہ بہت اہمیت اختیار کرگیا ہے جو 2سے 20دسمبر تک پاکستان کے علاوہ افغانستان ، روس، متحدہ عرب امارات اور قطر کا دورہ کریں گے۔

زلمے دورہ

مزید : صفحہ اول