پشاور مینٹل ہسپتال میں انسانوں کی حالت جانوروں سے بھی بدتر، خیبر پختونخوا کو ’’جنت ‘‘ بنانے کا عوی کن بنیادوں پر کیا گیا ؟ سپریم کورٹ

پشاور مینٹل ہسپتال میں انسانوں کی حالت جانوروں سے بھی بدتر، خیبر پختونخوا کو ...

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی)چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں کے فضلے کی تلفی کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ خیبرپختونخوا کو ’’جنت‘‘ بنانے کا دعویٰ کن بنیادوں پر کیا گیا؟۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سماعت شروع ہوئی تو صوبائی سیکرٹری صحت عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے اس موقع پر استفسار کیا خیبرپختونخوا کے وزیر صحت کیوں نہیں آئے، سیکرٹری صحت ہر بار پیش ہو جاتے ہیں۔چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت سے استفسار کیا کہ آپ نے پشاور مینٹل ہسپتال کا دورہ کیا ہے جس پر انہوں نے کہا گزشتہ ہفتے گیا تھا۔چیف جسٹس نے کہا وہاں انسانوں کو جانوروں سے بھی بدتر حالت میں رکھا جا رہا ہے، لوگ اپنے گھروں میں کتوں کو بھی اس طرح نہیں رکھتے، سیکرٹری صحت خیبرپختونخوا نے کہا کہ آپ کے دورے کے بعد بہتری کے لیے کافی اقدامات کیے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ چند دن بعد دوبارہ دورہ کر کے دیکھوں گا کہ کیا بہتری آئی ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت 2 ماہ کیلئے ملتوی کردی۔سپریم کورٹ نے معذور افراد کے حقوق سے متعلق کیس میں چاروں چیف سیکرٹریز کو اسی ہفتے رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹس کی کاپیاں درخواست گزار کو بھی فراہم کرنے کا حکم دے دیا، کیس کی مزید سماعت دسمبر کے تیسرے ہفتے میں ہو گی۔پاکپتن دربار کیس کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہو گی، مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیراعظم نواز شریف صبح 9بجے عدالت میں پیش ہوں گے، نواز شریف پر الزام ہے کہ انہوں نے بحیثیت وزیراعلیٰ غیر قانونی الاٹمنٹ کی تھی۔سپریم کورٹ نے شاہین ایئر لائن کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر کمپنی کے قائم مقام چیئرمین کو فوری طلب کر لیا ،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ واجبات لینا سب کا کام تھا ،ڈی جی سول ایوی ایشن نے مل کر گڑ بڑ کرتے ہوئے مجرمانہ غفلت کی ، اب جن ملازمین کو تنخواہ نہیں ملی ہے وہ کیسے گزارہ کریں گے،ہمیں بتائیں شاہین ایئر لائن کے کتنے اثاثہ جات ہیں، ان کی جائیداد بیچ کر تمام رقم وصول کر لیتے ہیں۔

چیف جسٹس

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ہے کہ اورنج لائن منصوبہ مکمل ہونے کی مدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں گزشتہ روز سپریم کورٹ کے بینچ نے اورنج لائن منصوبہ کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ سبطین حلیم کی بطور پروجیکٹ انچارج مدت ملازمت میں توسیع ہوگئی، نجی کمپنی کے وکیل نے کہا کہ کام مکمل کرلیا ہے لیکن 7ماہ سے ادائیگی نہیں ہوئی۔ڈی جی ایل ڈی اے نے کہا کہ نیسپاک کی منظوری کے بعد ادائیگی کریں گے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نیسپاک اور تعمیراتی کمپنی اپنا موقف پروجیکٹ انچارج کو دیں جبکہ پروجیکٹ انچارج سبطین فضل حلیم جس کام پر تنازع نہیں اس کے پیسے ادا کریں۔سماعت کے دوران وکیل نجی کمپنی نے کہا کہ کام مکمل کرنے کے بعد طے شدہ ریٹ کم کردیئے گئے، عدالت ادائیگیوں کے معاملے پرثالث مقررکرے جبکہ بہترہوگا کسی ریٹائرڈ جج کو ثالث مقرر کیا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ریٹائرڈ جج سے پوچھا بطور ثالث کردارادا کرنے کی کتنی فیس ملی، جج صاحب نے بتایا اتنی فیس ملی ہے کہ آپ کا دل بھی للچا جائے گا لہٰذاکچھ دن انتظار کریں میں خود ثالث بن جا ؤ ں گا اوراورنج لائن منصوبہ مکمل ہونے کی مدت پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

اورنج لائن منصوبہ کیس

مزید : صفحہ اول