میڈیکل کالجز فیسوں کے بقایاجات طلب نہیں کرسکتے : لاہور ہائیکورٹ

میڈیکل کالجز فیسوں کے بقایاجات طلب نہیں کرسکتے : لاہور ہائیکورٹ

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی طرف سے زیادہ فیسیں لینے کے خلاف دائر درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ نجی میڈیکل کالجوں میں نئی فیسوں کا اطلاق2018-19ء کے سیشن کے طلبا پر ہوگا،نئی فیسوں کا اطلاق پرانے سیشنز پر نہیں ہوگا،جسٹس شمس محمود مرزا نے زیادہ فیسیں لینے کے خلاف عائشہ بنت طارق اوردیگر طلباء کی درخواستوں پرمزید حکم جاری کیا ہے کہ نجی میڈیکل کالج نئی فیسوں کے تناظر میں طلباء سے پرانے سیشنز کی فیسوں کے بقایا جات طلب نہیں کرسکتے۔درخواست گزاروں کا موقف تھا سپریم کورٹ کے حکم پر میڈیکل کالجوں میں نئی سالانہ فیس 9 لاکھ روپے تک مقرر کی گئی، نئی فیسوں کا اطلاق سیشن 2018-19ء سے کیا جانا تھالیکن پرائیویٹ میڈیکل کالجز نے 2017-18ء کے سیشن پر بھی اس فیس کا اطلاق کردیاہے اوران کالجوں کی طرف سے 2017-18ء اور اس سے قبل داخل شدہ طلبا سے بھی اضافی فیسوں کی وصولی شروع کر دی ہے،پرائیوٹ میڈیکل کالجز کا یہ اقدام پی ایم ڈی سی کے قانون کے خلاف ہے، عدالت پرائیویٹ میڈیکل کالجز کو قانون کے مطابق پرانی فیسیں لینے کا حکم جاری کرے۔

لاہور ہائیکورٹ

کراچی(سٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ نے نجی سکولوں کو 20ستمبر 2017سے قبل کا فیس سٹرکچر بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے نجی سکولوں کو ایک ساتھ 3ماہ کی فیس لینے سے روکدیا اور کہا ہے کہ فیس کی منظوری کس طرح دی جاتی ہے ہم بھی دیکھنا چاہتے ہیں،سندھ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پر نجی سکولوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی بھی تنبیہ کی ۔ پیر کو سندھ ہائیکورٹ میں سکول فیسوں میں 5فیصد سے زائد اضافے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست ہوئی جس سلسلے میں ڈائریکٹر پرائیوٹ اسکولز منسوب صدیقی و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر عدالت نے نجی اسکول مالکان کے وکیل سے استفسار کیا کہ سکول فیس چالان کون پیش کرتا ہے؟ آخری فیس سٹرکچر اپروول کہاں ہے؟نجی سکول کے وکیل نے بتایا کہ 2016میں فیس سٹرکچر کی منظوری لی تھی۔اس پر عدالت نے کہا کہ فیس کی منظوری کس طرح دی جاتی ہے ہم بھی دیکھنا چاہتے ہیں، سکول فیس کے ریوائز چالان کے بارے میں بتائیں، پرائیوٹ سکولوں کی لابی اتنی مضبوط ہے کہ کسی کو گھاس نہیں ڈالتے، فیسوں میں اضافہ کرتے گئے اور کہتے رہے کہ فیس سٹرکچر کیلئے اپلائی کیا ہے۔نجی سکول کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے صرف 5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔نجی اسکول کے وکیل کے جواب پر عدالت نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سوال ایران کا جواب یونان کا دے رہے ہیں،اگر ہم چاہتے تو توہین عدالت میں فرد جرم عائد کردیتے، ہم آپ کو موقع دینا چاہتے ہیں کہ معاملہ حل کریں، حکومت کی نالائقی کی وجہ سے نجی اسکول بنے، نجی اسکول اس کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ بتایا جائے ڈائریکٹر نجی اسکولز نے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے کی اقدامات کیے؟سندھ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پر نجی اسکولوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی بھی تنبیہ کی۔بعد ازاں سندھ ہائیکورٹ نے سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کردی۔

سندھ ہائیکورٹ

مزید : صفحہ اول