انتخابی دھاندلی ، حکومتی ٹرمز آف ریفرنسز مسترد، اپوزیشن نے مشترکہ ٹی او آرز کیلئے مہلت مانگ لی

انتخابی دھاندلی ، حکومتی ٹرمز آف ریفرنسز مسترد، اپوزیشن نے مشترکہ ٹی او آرز ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے متعلق قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی میں حکومت کی جانب سے ٹی او آرز پیش کردئیے گئے جبکہ اپوزیشن نے حکومتی ٹی او آرز کو مستردکرتے ہوئے 13دسمبر تک حکومتی ٹی او آرز کا جواب اور مشترکہ ٹی او آرز دینے کیلئے مہلت طلب کر لی ۔اپوزیشن نے حکومتی ٹی او آرز پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے جو ٹی او آرز دیئے ہیں وہ تو الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے ، آج ایک پٹیشن کی کاپی ہمیں مہیا کی گئی ہے کہ اس کمیٹی کیخلاف پٹیشن ہو گئی ہے،حکومت کسی صورت فرار چاہ رہی ہے ، حکومت کو یہ بات باور ہو جانی چاہئے اگر وہ پارلیمانی کمیٹی کا راستہ روکیں گے تو دوسرا راستہ پھر احتجاج ہے ، اور وہ احتجاج کا راستہ کسی حد تک بھی جا سکتا ہے، ہمارے پاس دھاندلی کے ثبوت موجود ہیں جن کوہم کمیٹی کے سامنے رکھیں گے ، یہ چیز ثابت ہو گی کہ اس ا لیکشن میں الیکشن کمیشن بالکل اپنے ا ختیارات استعمال کر نے سے عاری تھا ، اور کچھ اور قوتیں تھیں جنہوں نے اس الیکشن کو مینج کیا۔ ان خیالات کا اظہاراپوزیشن رہنماؤں رانا ثناء اللہ اور نوید قمر نے ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ، تفصیلات کے مطابق پیر کو عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے قائم پارلیمانی کمیٹی کی ذیلی کمیٹی اجلاس کنوینئر شفقت محمود کی صدارت میں ہوا ، جس میں نوید قمر ، رانا ثناء اللہ اور سینیٹر محمد علی سیف نے شرکت کی ، اجلاس میں حکومت کی طرف سے اپنے ٹی او آرز پیش کئے گئے ، حکومت کی طرف سے پیش کئے گئے ٹی او آرز میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی انکوائری کرے کہ کیا الیکشن کمیشن نے ایمانداری سے انتخابات کرائے؟ انکوائری کی جائے کہ کیا انتخابات ایماندارانہ، شفاف اور قانون کے مطابق تھے؟ تحقیقات کی جائیں کہ الیکشن کمیشن نے انتخابی بدعنوانی کے سدباب کا کیا انتظام کیا؟ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شفقت محمود نے کہا کہ ہم نے اپوزیشن کی ٹی او آرز کو پڑھا ہے جس کے ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ بہترین انکوائری انہیں خطو ط پر ہو سکتی ہے ، جن کا تعلق آئین سے ہو ، آئین کے حدود کے مطابق ہو ، آئین کی شق218 کی ذیلی شق 3 میں لکھا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن الیکشن ایمانداری ، انصاف سے کرائے گی اس کی بنیاد پر آج ہم نے حکومت کی طرف سے ٹی او آرز تجویز کئے ہیں ، ہمارے ٹی او آرز ان سارے پہلوؤں کو کور کرتے ہیں جو اپوزیشن چاہ رہی تھی ، پارلیمانی کمیٹی وہ ایک انکوائری کر ے گی یہ دیکھنے کیلئے کہ کیا الیکشن کمیشن نے 2018کا الیکشن ایمانداری سے ، انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اور قانون کے مطابق الیکشن کرایا یا نہیں کرایا ، اپوزیشن نے کہا ہے کہ ہم اس کو پڑھیں گے ،13دسمبر کو دوبارہ ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہو گا ، جس میں اپوزیشن اپنا رد عمل بتائے گی ، شفقت محمود نے کہا کہ ، ہم نے ریفرنس پرویزخٹک کو بھیجا تھا میری اطلاع کے مطابق انہوں نے وہ سپیکر قومی اسمبلی کو بھیجا ہے ، جو قانو نی رائے آئے گی وہ ہم پر لازم ہو گی ،آج کسی نے لیگل نوٹس دیا ہے کہ الیکشن کی تحقیقات کرنے کیلئے پارلیمانی کمیٹی نہیں بن سکتی ، ہم نے اپنے کام کو روکا نہیں ، ہم چاہتے ہیں انکوائری ہو کیونکہ ہمیں پتہ ہے الیکشن میں ایسی کوئی بات نہیں ہوئی جس کے بارے میں ہمیں کوئی مسئلہ ہو ۔

مزید : صفحہ اول