پنجاب بھر میں چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لئے آگاہی مہم کا آغاز

پنجاب بھر میں چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لئے آگاہی مہم کا آغاز

لاہور(جنرل رپورٹر)محکمہ محنت و انسانی وسائل ، حکومتِ پنجاب نے صوبہ بھر سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کیلئے آگاہی مہم کا آغاز کردیا ہے ۔ اس ضمن میں ایک تقریب سعید احمد اعوان سینٹر فار ایمپرومنٹ آف ورکنگ کنڈیشنز اینڈ انوائرمنٹ (CIWCE)کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی ۔وزیر محنت وانسانی وسائل انصر مجید خان اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔سیکرٹری محنت و انسانی وسائل ، سارہ اسلم نے تقریب میں موجود مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے خطاب کیا کہ محکمہ محنت و انسانی وسائل ، حکومت پنجاب نے چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے خاتمے کیلئے ایک مربوط منصوبہ کو جاری رکھا ہوا ہے اور یہ پراجیکٹ بڑی کامیابی سے اپنے اہداف حاصل کر رہا ہے۔ جس کے بہت مثبت نتائج نکلے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ کے تحت پنجاب بھر میں پرائیویٹ سکولوں کو ڈسٹرکٹ لیبر آفسز کے ذریعے رجسٹر کیا گیا جبکہ لیبر انسپکٹرز ، لیبر آفیسرز و سوشل موبلائزرز باہمی تعاون سے چائلڈ لیبر کے شکاربچوں کومزدوری سے نکال کر سرکاری و پرائیویٹ رجسٹرڈ سکولوں میں داخل کروا رہے ہیں۔سیکریٹری محنت نے مزید کہا کہ پرائیویٹ سکولوں میں داخل ہونے والے بچوں کو پراجیکٹ کی طرف سے مفت کتابیں ، سٹیشنری اور بیگ فراہم کئے جا رہے ہیں اور ان سکولوں کو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ماڈل کی طرز پربچوں کو پڑھانے کے عوض فی بچہ ماہانہ 550روپے بھی ادا کئے جا رہے ہیں ۔جبکہ بڑی عمر کے بچوں کو PVTCاور TEVTA کے تربیتی اداروں میں مختلف پروگرامز میں سکلز ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ وزیر محنت و انسانی وسائل انصر مجید خان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چائلڈ لیبر دنیا بھر میں خاص طور پر جنوبی ایشیا کے خطے کا ایک اہم سماجی و معاشی مسئلہ ہے اور چائلڈ لیبر کی بنیادی وجوہات میں بڑھتی ہوئی آبادی ، مہنگائی ، والدین کا تعلیم یافتہ نہ ہونا اور بچوں کے حقوق اور قوانین کے حوالے سے شعور کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبر دنیا بھر کے تمام قوانین کے تحت جرم ہے کیونکہ 15سال سے کم عمر بچوں سے جسمانی مشقت لینے سے نہ صرف ان کی صلاحیتیں متاثر ہوتی ہیں بلکہ ان کی جسمانی و ذہنی نشوونما پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

چائلڈ لیبر

مزید : صفحہ آخر