مصطفے ٰ کھرنے گورنر ہاؤس کی دیوار پر خاردار تار لگوا دیئے تھے

مصطفے ٰ کھرنے گورنر ہاؤس کی دیوار پر خاردار تار لگوا دیئے تھے
مصطفے ٰ کھرنے گورنر ہاؤس کی دیوار پر خاردار تار لگوا دیئے تھے

  

تجزیہ:۔ قدرت اللہ چوہدری

ٍٍ لاہور ہائیکورٹ کے جج مسٹر جسٹس مامون رشید شیخ نے گورنر ہاؤس لاہور کی دیواریں گرانے کے خلاف حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے مدعا علیہان کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور ریمارکس دئیے ہیں کہ دیواروں کی ایک اینٹ بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلنی چاہئے ورنہ سب ذمے دار جیل میں ہوں گے۔ ہفتے کے روز وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا تھا کہ گورنر ہاؤس کی دیواریں دو دن کے اندر گرا دی جائیں اس عاجلانہ حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے اتوار کے روز ہی دیوار گرانے کا کام شروع کر دیا گیا تھا، گورنر ہاؤس کی یہ دیوار بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنا گورنر ہاؤس ہے اور فاضل جج نے بھی دوران سماعت بتایا کہ وہ لاہور میں پیدا ہوئے اور دیوار کو اسی طرح دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔

غلام مصطفےٰ کھر پہلی مرتبہ پنجاب کے گورنر مقرر ہوئے تو انہوں نے دیوار کے اوپر خار دار تار لگوا دئے تھے جس کا تذکرہ آغا شورش کاشمیری نے ایک جلسہ عام میں کر دیا اور وہ رقم بھی بتائی جو خار دار تار لگوانے پر خرچ کی جا رہی تھی جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا یہ گرفتاریوں کا دور تھا اور ہر روز کوئی نہ کوئی سیاسی لیڈر گرفتار ہوتا تھا، بہت سے جرائد بند کر دیئے گئے تھے اور ان کے ایڈیٹروں کو حوالہ زنداں کر دیا گیا تھا آغا شورش کاشمیری اس مقدمے میں تو لاہور ہائیکورٹ سے رہا ہو گئے لیکن نہ جانے یہ کسی پس پردہ رابطے کا کمال تھا یا کوئی اور وجہ تھی کہ مصطفے کھر اپنی بیگم کے ہمراہ کچھ عرصے کے بعد ہائی کورٹ کے سامنے واقعے آغا شورش کے گھر پہنچ گئے اور پرانے تعلقات دوبارہ استوار کرنے کی کوشش کی، دوسری مرتبہ اس دیوار پر ذرا خوبصورت قسم کی ریلنگ لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول کے دور گورنری میں لگائی گئی جو اب تک لگی ہوئی ہے گزشتہ روز اس دیوار کو توڑنے کے کام کی جو تصویر شائع ہوئی ہے اس میں اس ریلنگ کو دیوار سے الگ کیا جا رہاہے۔ یہ دیوار توڑنے کا حکم تو دے دیا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم کو یہ حکم دینے کا اختیار بھی تھا یا نہیں اور اگر انہیں یہ اختیار حاصل تھا تو کیا اس کے لئے کابینہ سے منظوری حاصل کی گئی تھی بظاہر اس کا جواب نفی میں ہے۔عجیب اتفاق ہے کہ شاہراہ قائد اعظم پر تاریخی عمارتیں تو اصل حالت میں بحال کی جا رہی ہیں اور کسی پرانی عمارت کو گرانے اور اس کے نقشے میں کسی قسم کے رد و بدل کی اجازت نہیں ہے لیکن گورنر ہاؤس کی دیوار کو گرانے کا کام چشم زدن میں شروع کر دیا گیا کیا یہ کام کوئی ٹھیکیدار کر رہا ہے اور اس دیوار کو گرانے کا ٹھیکہ کتنے روپے میں دیا گیا ہے اس طرح کے امور کی تفصیلات بھی سامنے نہیں ہیں اور نہ ہی یہ پتہ ہے کہ اس دیوار کو گرانے کے بعد اس کی جگہ جو جنگلہ تعمیر کیا جا رہا ہے اس کے لئے اخبارات میں کوئی اشتہار دیا گیا ہے یا نہیں اور اس کی تعمیر کے اخراجات کا تخمینہ کس نے اور کس حساب سے لگایا ہے کیا اس کے لئے کوئی ٹینڈر طلب کئے گئے ہیں یا نہیں یہ سوال بھی اٹھے گا کہ اگر پورا گورنر ہاؤس نوادرات کے قانون مجریہ 1975ء اور قومی ورثہ کی حفاظت کے قانون مجریہ 1985ء کے تحت تحفظ شدہ ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی تو کیا یوں جلد بازی میں یہ دیوار گرائی جا سکتی ہے جو فنی طور پر گورنر ہاؤس ہی کا حصہ ہے یہ معاملہ تو اب ہائی کورٹ میں ہے وہیں یہ ساری تفصیلات بھی سامنے آ جائیں گی لیکن لاہور میں شیلٹر ہوم بنانے کا کام بھی ایسی ہی عجلت میں کیا گیا تھا، لاہور ریلوے سٹیشن کے قریب جوشیلٹر ہوم بنانا شروع کیا گیا تھا وہ جس زمین پر بن رہا ہے اس کی ملکیت کی دعوے دار ایک خاتون ہے کیا یہ زمین اس سے خریدی گئی یا خریدنے کے لئے کوئی پیش رفت کی گئی یا مالکہ کی رضا مندی کے بغیر ہی اس پر تعمیرات شروع کر دیں۔ عام طور پر اس انداز میں قبضہ گروپ آپریٹ کرنے ہیں تو کیا حکومت خودکو ایسے ہی گروہوں کے مقام و مرتبے پر لے آئی ہے کسی نے تعمیرات کرنے والوں کو نہیں بتایا کہ اس زمین کا کوئی مالک بھی ہو گا۔ حکومتوں کو اس طرح کے مشورے عام طور پر وہ ٹھیکیدار دیا کرتے ہیں جن کا ایسے منصوبوں میں کوئی نہ کوئی مفاد ہوتا ہے تو کیا اس منصوبہ کے ساتھ بھی کسی کا کوئی ایسا ہی مفاد وابستہ تھا۔ دیوار گرا کر اگر جنگلہ ہی تعمیر کرنا ہے تو اس کی حکمت تو سامنے آنی چاہئے، کیونکہ جنگلے پر کم و بیش 6 کروڑ خرچ ہونے کا تخمینہ ہے، جو حکومت چائے بسکٹ میں بچت کر رہی ہے، اس سے یہ توقع تو نہیں کی جاسکتی کہ وہ ایک اچھی خاصی مضبوط اور خوبصورت دیوار کو گرا کر اس کی جگہ جنگلہ لگوانے کی فضول خرچی کرے گی۔ کچھ عرصہ پہلے ایڈمنسٹریٹو سٹاف کالج (جس کا نام اب بدل گیا ہے) کی ایسی ہی مضبوط دیوار گرا کر جنگلے لگا دئیے گئے۔ جنگلے کی تعمیر مکمل ہوئی تو سوئے ہوئے لوگوں کو خبر ہوئی کہ اس کے ذریعے تو دہشت گردوں کا کام آسان ہو جائے گا اور جنگلے کے ذریعے پھلانگ کر کوئی دہشت گرد دہشت گردی کی واردات بھی کر گزرے گا۔ اس پر انتظامیہ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور جنگلے کے ساتھ ساتھ پہلے جیسی دیوار بنا دی گئی۔ گورنر ہاؤس کی دیوار گرا کر جو جنگلہ بنایا جائے گا، اس کی تعمیر کیوں ضروری تھی اور اس سے کیا مقصد حاصل ہوگا۔ شاید ہائی کورٹ میں اس سے پردہ اٹھے، لیکن ہما شما کا اندازہ ہے کہ 2013ء کے الیکشن میں عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ ادھر ہم الیکشن جیتے اور ادھر گورنر ہاؤس کی عمارت گرانے کے لئے بلڈوزر کھڑے ہوں گے۔ 2013ء میں تو یہ حادثہ نہ ہوسکا، اب انہیں حکومت ملی ہے تو وہ روپے کی بے قدری روکنے میں تو کوئی کردار ادا نہیں کر رہے، البتہ اپنی انا کی تسکین کے لئے کبھی دوسروں کی زمین پر شیلٹر ہوم بنانا شروع کروا دیتے ہیں اور کبھی گورنر ہاؤس کی دیوار گرانے میں جلد بازی کر دیتے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے بروقت حکم امتناعی سے یہ دیوار تو فی الحال بچ گئی ہے، دیکھیں اگلا حکم کس عمارت کو گرانے کے نصیب میں لکھا جاتا ہے۔

مصطفی کھر

مزید : تجزیہ