چودھری سرور کو دیوار سے کون لگا رہا ہے ؟

چودھری سرور کو دیوار سے کون لگا رہا ہے ؟
چودھری سرور کو دیوار سے کون لگا رہا ہے ؟

  

تجزیہ:۔ ایثار رانا

میں یہ ضرور پوچھوں گا آخر حکومت کو گورنر ہاؤس کو ننگا کرنے کی اتنی جلدی کیوں تھی۔ بے شک گورنر ہاؤس نو آبادیاتی نظام کی بدترین مثال ہے۔ جہاں بیٹھنے والا پورے صوبہ کا کلی مالک ہوتا تھا، گورنر کالا باغ کو تو ہم چوم چوم کر بطور مثال پیش کرتے ہیں، لیکن گورنر ہاؤس کی دیوا ر یں کیا گریں، دیواروں کیلئے ہمدردی کی آوازیں بھی بلند ہو گئیں۔ نجانے کون ہے جو وزیر اعظم سے ایسے جذباتی فیصلے کرواتا ہے جس پر انہیں اکثر خفت اٹھانی پڑتی ہے اور اگر وہ خود ایسے فیصلے کرتے ہیں تو شاید کسی میں اتنی جرأت نہیں کہ اپنا اختلافی نوٹ درج کرا سکے۔ میں سر ے سے گورنر ہاؤس کے حق میں نہیں، جس ملک میں سڑکوں، فٹ پاتھوں پر سونے والوں کیلئے شامیانے، دریاں بچھا کے عارضی پناہ گاہیں بنا ئی جا رہی ہیں اور جس ملک میں پچاس لاکھ گھر بنانے جیسا خواب دیکھا جا رہا ہو وہاں گورنر ہاؤس جیسے وسیع و عریض جاہ و جلال والی عمار تیں ایک بادشاہ سلامت کیلئے رکھنا خود بطور قوم ہے اپنا مذاق اڑانے والی بات ہے اسلئے میں خود گورنر ہاؤس ختم کرنے کے حق میں ہوں لیکن لاہور کے گورنر ہاؤس کی دیواریں گرانا کسی طرح بھی انقلابی اقدام کے زمرے میں نہیں آتا یہ سراسر سیاسی و خصوصاً پی ٹی آئی کی اند ر و نی چپقلش کا نتیجہ ہے جس کا آغاز ایک ویڈیو کی ریلیز کے بعد ہوا اور پھر وزیر اعلیٰ کے ذریعہ مخالفین نے وزیر اعظم کو گورنر ہاؤس گرانے والا ان کا وعدہ یاد کرایا۔ویسے تو چوہدری سرور کمزور ہیں ناں ان کے گھر کی دیواریں کچی، جوگر نے کے بعد لوگ ان کے گھر میں راستہ بنا لیں، لیکن کوشش چوہدری سرور کو دیوار سے لگانے کی جا رہی ہے کیونکہ ان کے سیاسی مخالفین یہ جانتے ہیں چوہدری سرور گورنر شپ بطور ملازمت نہیں لیتے اور پہلے بھی اسے لات مار چکے ہیں۔ اگر اس بار بھی اشتعال میں آ کر انہوں نے کوئی ایسا قدم اٹھایا تو یقیناًانہیں اس کا کوئی نقصا ن نہیں ہو گا بلکہ ان کا سیاسی قد ہی بڑھے گا۔ وہ پی ٹی آئی کیخلاف ایک قد آور مخالف کے طور پر ابھریں گے جس کی اپوزیشن میں کمی بھی ہے اور جگہ بھی موجود ہے فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کو کرنا ہے کہ وہ دیوار گرانا چاہتے ہیں یا ایک مضبوط رہنما کو۔

مزید : تجزیہ