سوئی گیس کی مد میں سالانہ 22ارب کا نقصان ہورہا ،وزیر پٹرولیم

سوئی گیس کی مد میں سالانہ 22ارب کا نقصان ہورہا ،وزیر پٹرولیم

لاہور(صباح نیوز) وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پنجاب میں گیس کی لوڈشیڈنگ کا خدشہ ہے تاہم وفاقی حکومت تین ماہ کے لیے 25 ارب ڈالر کی سبسڈی ادا کرے گی۔وفاقی وزیر پٹرولیم نے سوئی نادرن گیس کے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں گیس کی پیداوار دیگر صوبوں سے کم ہے جب کہ خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں گیس کے ذخائر زیادہ ہیں۔ پنجاب میں گیس کا استعمال سب سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت 16 اکتوبر سے 16 جنوری تک گیس کے بلوں پر سبسڈی فراہم کرے گی اور اگر اس کو جون تک بڑھانا پڑا تو وہ بھی بڑھا دیں گے۔ لوڈشیڈنگ سے بچنے کے لیے تین تجاویز پر غور کیا گیا تھا اور پھر تین ماہ کے لیے 19 ارب روپے کی سبسڈی کا فیصلہ کیا گیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سوئی گیس کمپنی نے اوگرا کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے اور اب سردیوں میں کسی قسم کی گیس لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی جب کہ حکومت کی جانب سے ملک میں ڈالرز لانے اور روزگار کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن علاقوں سے گیس نکل رہی ہے پہلے وہاں کے پانچ کلومیٹر کے علاقے میں گیس فراہم کی جائے گی جبکہ ہمارے ملک میں سسٹم کی خرابی کے باعث گیس کی چوری ہو رہی ہے جس کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ سوئی گیس کی مد میں سالانہ 22 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے جب کہ پشاور ریجن میں سب سے زیادہ گیس چوری ہو رہی ہے۔ تمام کمپنیز کے بارڈ آف ڈائریکٹر کے افسران کو بھی تبدیل کریں گے کیونکہ وہ سیاسی طور پر لگائے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں فیصل آباد کی انڈسٹری بند ہو گئی جب کہ بجلی بحران کی وجہ سے ہماری بہت سے صنعتیں متاثر ہوئی ہیں۔

غلام سرور خان

مزید : صفحہ آخر