پنجاب اسمبلی ،گورنر ہاؤس کی دیواریں گرانے پر اپوزیشن کا احتجاج

پنجاب اسمبلی ،گورنر ہاؤس کی دیواریں گرانے پر اپوزیشن کا احتجاج

لاہور( نمائندہ خصوصی، نیوز ایجنسیاں ) پنجاب اسمبلی کا ایوان گورنر ہاؤس لاہور کی دیواریں گرانے کے معاملے پر گونجتارہا، مسلم لیگ( ن) کے ارکان کاکہناتھا گورنر ہاؤس کو ایک شخص کے ضد کی بھینٹ چڑھایاجارہاہے، پنجاب کے وزیر ہاؤسنگ نے پرویز رشید اور آصف کرمانی سمیت لیگی رہنماؤں پر پنجاب ہاؤس کیلئے لاکھوں روپے واجبات کا الزام لگادیا گیا، کرشنگ سیزن میں تاخیر کامعاملہ بھی اسمبلی میں زیر بحث رہا۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی زیر صدارت گزشتہ دن پہلے روز ہی ایک گھنٹہ پنتالیس منٹ تاخیر سے شروع ہوا ،اسمبلی کے ایجنڈے پر محکمہ لوکل گورنمنٹ اور ہاؤسنگ اربن ڈویلپمنٹ کے متعلق سوالات کے جواب تھے ،سینئر وزیرعبدالعلیم خان کی عدم موجودگی پر ڈپٹی سپیکر نے ان کے محکمے کے متعلق سوال موخر کر دیے جبکہ ہاؤس اربن ڈویلپمنٹ کے جواب صوبائی وزیر محمود الرشید نے دیے ،مسلم لیگ ن کی رکن حنا پرویز بٹ نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا گورنر ہاؤس تاریخی ورثہ ہے ،حکومت تحفظ تاریخی عمارت ایکٹ کی خلاف ورزی کررہی ہے ،اس معاملے پر حکومت نے اپوزیشن کو اعتماد میں لیا نہ کسی سے اجازت ،گورنر ہاؤس کی دیواریں گراکے جنگلہ لگایا جا رہا ہے اس پر چھ کروڑ سے زائد کے اخراجات آئیں گے یہ پیسے وفاق دے گا یا پنجاب حکومت دے گی،اسی ایشو پر میاں نصیر احمدکا کہنا تھاعمران خان ایک جلسے میں کیا وعدہ تو پورا کررہے ہیں کہ گورنر ہاؤس گرادینگے لیکن باقی جو عوام سے دعوے کیے ہیں ان کو بھول گئے ہیں ،ہم اسکی ہرگز اجازت نہیں دینگے،قبل ازیں وقفہ سوالات کے دوران محمود الرشید نے عظمیٰ بخاری کے ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا سابق حکمران پینے کا صاف پانی تو نہیں دے سکے،مدعا ہم پر نہ ڈالیں،صاف پانی کمپنی کے سابق سی او گرفتار ہیں ہم باتیں نہیں صاف پانی مہیا کریں گے۔سابق حکمران اس اہم ایشوپربھی سیاست کرتے رہے۔ن لیگ کے دور میں کرپشن اور کک بیکس اتنا زیادہ تھا کوئی کمپنی پا کستان آنے کو تیار نہیں تھی،اب کمپنیاں پاکستان آرہی ہیں صاف پانی کے حوالے سے 15 ارب روپے کا منصوبہ جلد دیں گے۔سابق حکومت دس سال میں ایک فیصل آباد شہر کو صاف پانی نہ دے سکی۔ہم سے یہ 3 ماہ میں توقع کر رہے ہیں صاف پانی دیں۔گورنر پنجاب کی جانب سے صاف پانی کے شعبے کی سربراہی پر مسلم لیگ ن کی رکن عظمی بخاری نے کہاوہ کس قانون و آئین کے تحت صاف پانی کے معاملے کی سربراہی کررہے ہیں ،ڈپٹی سپیکر نے عظمیٰ بخاری کا دوبارہ ضمنی سوال کرنے پر مائیک بند کردیا جس پر ڈپٹی سپیکر اور عظمیٰ بخاری کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ،بعد ازراں ایوان وزیراعلیٰ میں داخلے سے روکنے پر( ن)لیگ کے مولانا غیاث الدین نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا میں منتخب نمائندہ ہوں مجھے کیوں جانے سے روکا گیا۔عوامی نمائندوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں تو عوام کا کیا حال ہوگا۔اس کے جواب میں وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا وزیراعلی اسلام آباد میں ہیں یہ کس سے ملنے کیلئے گئے،پنجاب ہاوسز میں لیگی رہنماؤں کی ر ہائش کا معاملے پر لیگی رکن رانا منور غوث نے کہا پنجاب ہاؤس میں منتخب نمائندوں کو رہنے کی اجازت ہو تی ہے لیکن تین ماہ سے( ن) لیگ کے لوگوں کیساتھ غیر جمہوری رویہ اختیار کیا جا رہا ہے،اس کے جواب میں وزیر ہاوسنگ محمود الرشید نے بڑا انکشاف کیا کہ پرویز رشید کی طر ف 70لاکھ سے زائد جبکہ آصف کرمانی کے ذمے 65لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔ درجنوں لوگ جن کا استحقاق بھی نہیں تھا وہ پنجاب ہاؤ س میں رہتے رہے،ن لیگ والے اور شاہی خاندان کے ڈرائیور تک پنجاب ہاؤسز میں رہتے رہے اور ادائیگی کے بغیر رفو چکر ہو گئے ۔اس موقع پر انہوں نے پنجاب ہاؤس کا آڈٹ کرانے کا اعلان بھی کیا،پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی نے گنے کی کرشنگ میں تا خیر کا معاملہ ایوان میں اٹھایاجس پر ڈپٹی سپیکر نے معاملے پر کل بروزبدھ ایوان میں عام بحث کروانے کااعلان کیا،بعد ازاں لیگی رکن شعیب بھرت نے کورم کی نشاندہی کردی کورم پورا نہ ہونے ڈپٹی سپیکر نے پانچ منٹ کیلئے گھنٹیاں بجانے کا کہا پھر بھی کورم پورا نہ ہو سکا جس پر سپیکر نے پندرہ منٹ کا وقفہ کیا جب پندرہ منٹ بعد کورم پورا نہ ہوا تو ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے اجلاس آج صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید : صفحہ آخر