ڈیفنس میں کھڑی گاڑی میں دھماکہ ،علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا

ڈیفنس میں کھڑی گاڑی میں دھماکہ ،علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا

کراچی (کرائم رپورٹر)کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابان مجاہد میں کھڑی گاڑی میں دھماکے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا،دھماکے سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ،خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، دھماکہ پولیس کے لیے معمہ بن گیا،گاڑی ایک روز قبل جمشید کوارٹرز کے علاقے سے چوری ہوئی تھی ۔پولیس کے مطابق ڈیفنس خیابان مجاہد کے خالی پلاٹ پر کھڑی گاڑی رات گئے دھماکے سے مکمل طور پر تباہ ہو گئی تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، دھماکے سے قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے جب کہ واقعے کے بعد علاقہ پولیس اور فائر بریگیڈ موقع پر پہنچ گئے اور آگ کو بجھا دیا۔ ابتدا میں پولیس نے موقف اختیار کیا کہ دھماکہ سلنڈر پھٹنے کے باعث ہوا تاہم بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق گاڑی میں سلنڈر پھٹنے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔پولیس کے مطابق مذکورہ گاڑی ایک خالی پلاٹ پر کھڑی تھی۔ گاڑی سے ایل پی جی کے 6 چھوٹے اور ایک سی این جی کا سلنڈر ملا ہے، گاڑی ایک روز قبل جمشید کوارٹرز کے علاقے سے چوری ہوئی ہے۔پولیس کے مطابق تباہ ہونیوالی کار ثنا اللہ نامی شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہے جو اشفاق اعوان نامی شخص کے استعمال میں تھی اور چوری کے بعد حنا نامی خاتون نے گاڑی چوری کی رپورٹ درج کروائی تھی۔پولیس کے مطابق واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا تاہم گاڑی تباہ ہوگئی ہے۔علاقہ مکینوں کے مطابق دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی آئیں جب کہ دو موٹرسائیکلوں پر سوار افراد کو جاتے ہوئے دیکھا گیا۔واقعے کے بعد انچارج محکمہ انسداد دہشت گردی(سی ٹی ڈی)مظہر مشہوانی کی سربراہی میں سی ٹی ڈی کی ٹیم نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور شواہد اکٹھے کیئے جبکہ ایس ایس پی ساؤتھ پیر محمد شاہ نے جائے وقوعہ کادورہ کیا۔ڈپٹی انسپکٹر جنرل(ڈی آئی جی)ساؤتھ جاوید عالم اوڈھو نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیااور دھماکے کی جگہ کا معائنہ کیا۔اس موقع پر میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے بتایاکہ دھماکا دہشت پھیلانے کی ایک ناکام کوشش تھی، دھماکہ دیسی ساختہ تھا جو وی بی آئی ای ڈی سے کیا گیا تھا تاہم خوش قسمتی سے بم مکمل طور پر نہیں پھٹ سکا ۔انہوں نے کہاکہ دھماکہ خیز مواد کو کار میں موجود گھریلو سلنڈر سے بھری گیس سے جوڑا گیا تھا، دھماکے میں چھ میٹر لمبی ڈیٹونیٹنگ کورڈ استعمال کی گئی تھی جبکہ دھماکے میں 8سے 10 کلو گرام بارود استعمال کیا گیا تھاتاہم اگر بارود کے ساتھ گیس سلنڈرپھٹ جاتے تو100کلوگرام شدت کادھماکاہوتا،جس مقام پر دھماکا کیا گیا وہاں کوئی ہائی ویلیو ٹارگٹ نہیں تھا۔ڈی آئی جی کے مطابق ابتدائی طور پر دھماکے کا کوئی ٹارگٹ نہیں تھا، ممکنہ طور پر دھماکہ خوف و ہراس پھیلانے کے لیے تھا۔ گاڑی چوری کی گئی تھی، 10 گھنٹے بعد یہاں دھماکہ ہوا۔انہوں نے بتایاکہ ساؤتھ زون کو دہشت گردوں نے ایک مرتبہ پھر ٹارگٹ بنایا، وی بی آئی ای ڈی کا مطلب وہیکل بم ہے۔ گاڑی کو ایسے طریقے سے تیار کیا گیا کہ بم جیسا دھماکہ ہو۔ واقعے میں مقامی سہولت کارکو استعمال کیا گیا ہے۔آگ بجھانے کے لیے فائربریگیڈ کو جبکہ دھماکے کی نوعیت کا پتہ لگانے کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کیا گیا تھا۔فائر بریگیڈ نے فوری طور پر آگ پر قابو پایاجبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوع سے گاڑی کے پرزوں کو جمع کیا ۔بم ڈسپوزل ذرائع کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ جائے وقوع سے سلنڈر دھماکے کے شواہد نہیں ملے۔بم ڈسپوزل اسکواڈ تباہ ہونے والی کار کے پرزے ساتھ لے گئی جبکہ پولیس نے جائے وقوع کو سیل کرکے 2پولیس موبائلز کو تعینات کر دیا ہے ۔تفتیشی ذرائع کے مطابق گاڑی گزشتہ روز جمشید کوارٹر سے چوری ہوئی تھی، یہی گاڑی اس سے قبل 2007 میں بوٹ بیسن سے چوری ہوئی تھی اور 5روز بعد میٹروول میں واقع ولیکا اسپتال کے پاس سے ملی تھی۔

مزید : کراچی صفحہ اول