ڈاؤ یونیورسٹی میں عالمی یومِ معذوری پر آگاہی سیشن کا انعقاد

ڈاؤ یونیورسٹی میں عالمی یومِ معذوری پر آگاہی سیشن کا انعقاد

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیر اعلی سندھ کی اہلیہ بیگم شرمین مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ جسمانی معذوری کے ساتھ زندہ رہنا اور معمولات انجام دینا عظیم کام ہے،جو لوگ جسمانی معذوری کے متاثرہ افراد کے لیے دنیا کو خوبصورت بنارہے ہیں، وہ بھی عظیم کام کر رہے ہیں، جسمانی معذوری کے ساتھ جینے والے افراد کے لیے ہمیں اپنی بساط سے بڑھ کر کا م کرنا ہوگا، یہ بات انہوں نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے آراگ آڈیٹوریم میں انسٹیٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ری ہیبلی ٹیشن کے زیرِاہتمام عالمی یومِ معذوری کے موقع پر آگہی سیشن سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہی تھیں، اس موقع پر ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید قریشی ، ڈائریکٹر آئی پی ایم اینڈ آر کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ سومرو،ایڈیشنل ڈائریکٹر سید عمران احمد کے علاوہ جسمانی معذوری کے شکار بچوں کے والدین نے بھی خطاب کیا، جبکہ تقریب میں پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خاور سعید جمالی، رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ عباسی، پرنسپل ڈاؤ میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر کرتار ڈوانی کے علاوہ طلبا و طالبات کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید قریشی نے کہا کہ جسمانی معذوری سے متاثرہ افراد کے لیے 2008 میں یہ دن منانے کا فیصلہ کیا گیا، جس کا پاکستان میں عملدرآمد 2011سے ہوا، ڈاؤ یونیورسٹی کا انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل میڈیسن اینڈ ر یہیبلی ٹیشن سالانہ مختلف معذوریوں سے متاثرہ 20سے 25ہزار مریضوں کا معائنہ کرتا ہے، مگر یہ سہولت ناکافی ہے، حکومت ایسے مزید ادارے قائم کرے تاکہ ملک میں جسمانی معذوری سے متاثرہ افراد کی درست طور پر دیکھ بھال ہوسکے، اس سلسلے میں اب تک کئے گیے، اقدامات ناکافی ہیں، انہوں نے کہا کہ حکومت اور سول سوسائٹی کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ خصوصی افراد کی مدد کے لیے آگے بڑھ کر کام کرے، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ بلڈنگ بناتے ہوئے قوانین کا خیال نہیں رکھا جاتا، جس سے جسمانی معذور ی کے شکار افراد کی حق تلفی ہوتی ہے، ضروری ہے کہ متاثرہ افراد کی سہولت کا خیال رکھتے ہوئے عمارات بنائی جائیں۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر سید عمران احمد نے بیگم سید مراد علی شاہ سمیت مہمانوں کا شکریہ اد ا کیا، قبل ازیں جسمانی معذوری سے متاثرہ بچوں اور دیگر افراد نے فٹبال کے گول کر کے اور کرکٹ بیٹ سے شارٹ کھیلنے سمیت مختلف کھیلوں کا مظاہرہ کیا، بعد ازاں ایک بچے زعیم کی والدہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پونے تین سال کی عمر میں انہیں اپنے بچے میں آٹزم کے مرض کا علم ہوا، اس کے بعد رونے میں کم وقت صرف کیا، اور بچے کو سنبھالنے میں زیادہ وقت لگایا، ڈیڑھ سال قبل ڈاؤ یونیورسٹی سے رجوع کیا،اس عرصے میں میرا بچہ معمول کے تمام کا سرانجام دے لیتاہے، تقریب کے آخر میں پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید قریشی نے بیگم سید مراد علی شاہ کو ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی یاد گاری شیلڈ پیش کی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر