آپریشن کے متاثرین کو کسی صورت اکیلا نہیں چھوڑیں گے،سعید غنی

آپریشن کے متاثرین کو کسی صورت اکیلا نہیں چھوڑیں گے،سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہم کراچی میں تجاوزات کے خلاف سپریم کورٹ کے احکامات کے نتیجہ میں ہونے والے آپریشن کے متاثرین کو کسی صورت اکیلا نہیں چھوڑیں گے اور انہیں جلد ہی متبادل کاروباری جگہوں کی فراہمی کی جائے گی۔ ہم کسی کے گھر کو نہیں توڑیں گے اور اگر اس حوالے سے عدلیہ کے کوئی احکامات آئے تو سندھ حکومت اس سلسلے میں عدالتوں سے خود درخواست دے گی۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد ہماری ذمہ داری ہے لیکن اس سے زیادہ اس کے متاثرین کی بحالی ہماری اولین ترجیع ہے۔ جلد ہی کراچی میں کے ایم سی اور سندھ حکومت کی خالی زمینوں پر مارکیٹوں کی تعمیر کا کام شروع کردیا جائے گا۔ کراچی سرکولر ریلوے کے حوالے سے سندھ حکومت نے کام شرو ع کردیا ہے اور اس میں جو گھر یا کاروبار ہیں ان کو لپاری ایکسپریس وے کے طرز پر سٹلمینٹ کیا جائے گا۔ کراچی میں پارکنگ کے نظام کو موثر بنانے اور کراچی کے عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لئے بھی اقدامات شروع کردئیے گئے ہیں اور اس سلسلے میں کمیٹی آئندہ 3 روز میں اپنی سفارشارت مرتب کرکے پیش کردے گی۔ ہم کراچی کی تاجر برادری کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کے ساتھ کسی قسم کی کوئی ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی اور اس میں مئیر کراچی اور سندھ حکومت پہلے روز سے ہی ایک پیچ پر ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز کمشنر ہاؤس کراچی میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت اور بعد ازاں سندھ تاجر اتحاد کے تحت آرام باغ میں منعقدہ تاجر کنوینشن سے خطاب کے دوران کیا۔ کمشنر ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں مشیر اطلاعات سندھ مرتضیٰ وہاب، وقار مہدی، مئیر کراچی وسیم اختر، کمشنر کراچی کے علاوہ کے ایم سی کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں تجاوزات کے خلاف آپریشن سے متاثرہ تاجروں کی بحالی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ کے ایم سی کے ریکارڈ میں جو دکاندار کرایہ دار ہیں ان کی تعداد 3575 ہیں، جو متاثر ہوئے ہیں جبکہ آئندہ دنوں میں جو کارروائی کی جائے گی اس میں جو دکاندار متاثر ہوں گے یہ بھی اس میں شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں کے ایم سی نے اپنا تمام ریکارڈ مرتب کرلیا ہے اور اپنی رپورٹ وہ آج انہیں پیش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توڑی گئی دکانوں کے ملبے، فٹ پاتھوں کی تعمیر اور دیگر سڑکوں کے پیچ ورک اور شہر کی بیوٹیفیکیشن کی مد میں کے ایم سی کو گرانٹ کی ضرورت ہوگی اور اس سلسلے میں انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ کے لئے اپنی سمری بھی تیار کی ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ کے ایم سی کی جانب سے جو ریکارڈ مرتب کیا گیا ہے اس کی مکمل اسکرونٹی اور متاثرین سے بھی اس پورے ریکارڈ کی تفصیلات کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے، جس کے سربراہ صوبائی مشیر وقار مہدی ہوں گے جبکہ ممبران میں میونسپل کمشنر کے ایم سی اور ڈی سے ساؤتھ ہوں گے اور یہ کمیٹی آئندہ 3 روز میں اپنی سفارشات مرتب کرکے انہیں پیش کرے گی، جس کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں میں کے ایم سی، کے ڈی اے سمیت سندھ حکومت کی دستیاب زمینوں پر مارکیٹوں میں ان دکانداروں کو شفٹ کردیا جائے گا۔

مزید : کراچی صفحہ اول