نیر رضوی سچی بات کرنے والے ایڈیشنل اٹارنی جنرل تھے،جو بھی انصاف کیلئے کھڑا ہوتا ہے حکومت اسے ہٹا دیتی ہے،چیف جسٹس

نیر رضوی سچی بات کرنے والے ایڈیشنل اٹارنی جنرل تھے،جو بھی انصاف کیلئے کھڑا ...
نیر رضوی سچی بات کرنے والے ایڈیشنل اٹارنی جنرل تھے،جو بھی انصاف کیلئے کھڑا ہوتا ہے حکومت اسے ہٹا دیتی ہے،چیف جسٹس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ نیر رضوی سچی بات کرنے والے ایڈیشنل اٹارنی جنرل تھے،حکومت نے شاید سچ بولنے پر ہی نیر رضوی کو ہٹایا، جوبھی انصاف کےلئے کھڑاہوتاہے حکومت اسے ہٹادیتی ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے بنی گالہ غیر قانونی تجاوزات کیس کی سماعت کی، کیس میں وزیراعظم عمران خان کاگھرریگولرائزکرانے کامعاملہ بھی زیرالتواہے،سابق وزیراعظم نوازشریف چیف جسٹس ثاقب نثارکی عدالت میں موجودہیں، کیس میں اٹارنی جنرل آفس کے نمائندے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نیررضوی کوہٹانے پرعدالت برہم ہو گئی۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ کس کس نے ریگولرائزیشن فیس جمع کرائی ہے؟ تفصیلات سے آگاہ کیا جائے، کس کس نے ریگولر کرنے کےلئے اپلائی کیا؟ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ عمران خان کا گھر ریگولر ہونے کی کیا اپ ڈیٹ ہے؟ کیا عمران خان نے گھر ریگولر کرانے کےلئے درخواست دی؟چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ بابر اعوان آج کیوں نہیں آئے؟ ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے بتایا کہ بابر اعوان چھٹی پر ہیں،چیئرمین سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ مجموعی طور پر سو سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ درخواست گزاروں سے مزید معلومات اور دستاویزات مانگی ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نایاب گردیزی صاحب سی ڈی اے سے ہدایت لے لیں ،یہ تو معلوم ہے 65 لوگوں نے ریگولرائزیشن کیلئے اپلائی کیا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیر رضوی سچی بات کرنے والے ایڈیشنل اٹارنی جنرل تھے،حکومت نے شاید سچ بولنے پر ہی نیر رضوی کو ہٹایا، چیف جسٹس نے کہا کہ جوبھی انصاف کےلئے کھڑاہوتاہے حکومت اسے ہٹادیتی ہے۔کیا صرف وزیر اعظم کی وجہ سے ریگولرکرنے میں تاخیر ہو رہی ہے؟

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کیس کی فائل مجھے تاخیر سے ملی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ فائل دیکھ لیں عدالت وقفہ کے بعد کیس کو ٹیک اپ کرتی ہے،عدالت نے بنی گالہ غیر قانونی تجاوزات کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد