پہلے کِک بیکس کیلئے منصوبے پر کام شروع کر ایا، اب کہتے ہیں ڈیم کی ضرورت نہیں،چیف جسٹس کے نئی گج ڈیم کیس میں ریمارکس

پہلے کِک بیکس کیلئے منصوبے پر کام شروع کر ایا، اب کہتے ہیں ڈیم کی ضرورت ...
پہلے کِک بیکس کیلئے منصوبے پر کام شروع کر ایا، اب کہتے ہیں ڈیم کی ضرورت نہیں،چیف جسٹس کے نئی گج ڈیم کیس میں ریمارکس

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس ثاقب نثار نے نئی گج ڈیم تعمیر کیس میں کہا ہے کہ حکومت سندھ کہتی ہے کہ اب ڈیم کی ضرورت نہیں،16ارب روپے ڈیم کی تعمیرپر خرچ ہو گئے، کِک بیکس کیلئے منصوبے پر کام شروع کر ایا، اب کہتے ہیں ڈیم کی ضرورت نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کھانچے مارنے کیلئے منصوبے پر کام شروع کر دیا جاتا ہے،کسی کی جیب سے 16 ارب پورے نہیں نکلے،16ارب میرے خزانے سے خرچ ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے نئی گج ڈیم تعمیر کیس کی سماعت کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت سندھ نے موقف تبدیل کیا ہے،سندھ حکومت ڈیم کی تعمیر پر ہچکچاہٹ کا شکار ہے،نمائندہ پلاننگ ڈویژن نے عدالت کو بتایاکہ سندھ حکومت کہتی ہے ڈیم کی تعمیر کا کوئی فائدہ نہیں،

چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی حکومت کو ڈیم کےلئے فنڈز جاری کرنے تھے،46 ارب روپے وفاقی حکومت کوڈیم کے کیلئے جاری کرنے ہیں، یہ بتا دیں حکومت کب فنڈز جاری کرے گی؟چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ کے چکر سے نکل آئیں،یہ ڈیمز بننے ہیں۔کیوں نہ ڈیم کی تعمیر کی تجویز دینے والے کےخلاف کارروائی کریں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 16 ارب روپے ڈیم کےلئے پہلے ہی جاری ہو چکے ہیں،ڈیم سے متعلق عدالت کو تمام تفصیل فراہم کی جائے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل مہر علی شاہ نے کہا کہ عدالت مہلت دے رپورٹ جمع کر ا دیتے ہیں،مجھے متعلقہ اداروں سے رپورٹ رات تاخیر سے ملی ہے،ڈیم کی تعمیر میں فنڈز کا کچھ حصہ سندھ حکومت کو بھی دینا ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ تعمیراتی کمیٹی کی 2 ارب کی بینک گارنٹی جعلی نکلی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیا اس ڈیم کی تعمیر کو بند کر دیں، حکومت سندھ کہتی ہے کہ اب ڈیم کی ضرورت نہیں،16ارب روپے ڈیم کی تعمیرپر خرچ ہو گئے، کِک بیکس کےلئے منصوبے پر کام شروع کر ایا، اب کہتے ہیں ڈیم کی ضرورت نہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ کھانچے مارنے کیلئے منصوبے پر کام شروع کر دیا جاتا ہے،کسی کی جیب سے 16 ارب پورے نہیں نکلے،16ارب میرے خزانے سے خرچ ہو گئے۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد