بروقت طبی امداد کاحصول دشوار 

بروقت طبی امداد کاحصول دشوار 
بروقت طبی امداد کاحصول دشوار 

  

ذہنی آسودگی سے بھرپور زندگی کی خواہش ہر کوئی کرتا ہے لیکن جیسے جیسے انسانی ترقی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے لوگوں کے ذہنی خلفشار میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ آجکل جہاں نئے نئے امراض میں اضافہ ہورہا ہے وہیں ذہنی بیماریوں میں بھی نہایت تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ایسے مریضوں کے ساتھ برتاؤ کے معاملے میں معاشرے کے دیگر لوگوں پربھی کئی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ مریض کو کسی اچھوت کی طرح سے کنارے سے نہیں لگانا چاہئے۔ صحت مند لوگوں کی محبت اور توجہ کسی شخص کی زندگی کو گلزار بنا سکتی ہے۔ اس میں سب سے اہم کردار اہل خانہ ادا کرسکتے ہیں ۔چھوٹی چھوٹی باتوں پرتنقید کرنے کی بجائے دل بڑا کرکے نظر انداز کریں ۔ایسے لوگ جو کسی بھی ذہنی الجھن کا شکار ہیں انکی بات توجہ سے سنی جانی چاہئے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑنا چاہئے بلکہ انکی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں اور خوشیوں کا خیال رکھا جائے تو انکی ذہنی صحت بحال ہوسکتی ہے۔ماہرین نفسیات اسی نسخہ سے علاج کرتے ہیں۔ تاہم اسکے باوجود معاملات معمول پر نہ آئیں تو اس مریض کو نظرانداز کرنے کی بجائے کسی نفسیاتی معالج سے رجوع کرناچاہیے ۔

بد قسمتی سے بھاری فیسوں اور علاج کی سہولتیں نہایت مہنگی ہونے کی وجہ سے ہر کوئی علاج معالجہ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا لیکن جس حد تک ممکن ہوسکے اس مسئلے کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ماضی میں ادھیڑ عمر یا عمر رسیدہ لوگوں میں ذہنی الجھنوں کے شکار لوگوں کی بڑی تعداد نظرآتی تھی لیکن اب نوجوان طبقہ بھی اس بیماری میں بڑی مبتلا نظر آتا ہے۔ تیسری دنیا کے لوگوں میں اس بیماری کے پھیلاؤ کی کئی وجوہات سمجھ آتی ہیں لیکن ترقی یافتہ ممالک جہاں لوگوں کو ان مسائل کا اندازہ بھی نہیں ہے جو غریب ملکوں کے عوامل جھیل رہے ہیں وہاں نفسیاتی مسائل کا بڑھ جانا کسی المیے سے کم نہیں ہے ۔ترقی یافتہ ممالک میں بالخصوص یورپین ممالک میں میں بہت لوگ نفسیاتی مسائل کا شکار ہورہے ہیں ۔خاص کر نوجوان نسل اس بیماری سے نبردآزما ہے۔ یوں تو صحت کی بنیادی سہولتیں حکومتوں کی جانب سے ہیں اور بالخصوص وہاں کی حکومتیں اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتیں اسکے باوجود بھی طب کے معاملے میں کینیڈا ، برطانیہ امریکہ میں کئی شعبوں میں لاپرواہی کا مظاہرہ کیاجاتا ہے اور اسطرح کا رحجان پاکستان میں بھی دیکھنے میں آرہا ہے۔ اسطرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ۔یہاں بیس ملین لوگ جن میں بچے اور بڑے شامل ہیں کسی نہ کسی ایک ذہنی بیماری کا شکار ہیں ۔ان میں سے سب سے عام بیماری اینگزائٹی ڈس آرڈر ، ہائپر ایکٹی ویٹی ، کنڈکٹ ڈس آرڈر اور ذہنی تناو شامل ہیں۔ اس سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ چار میں سے صرف ایک ہی بچہ طبی معالج سے اپنی مطلوبہ مدد حاصل کرپاتا ہے جبکہ زیادہ تربچے گھر والوں اور معاشرے کی عدم توجہ سے ابترحالات میں گمنامی کی زندگی بسرکرتے ہوئے اس دنیا فانی سے کوچ کرجاتے ہیں یا ذہنی امراض کے باعث کسی کی زندگی کا نقصان کرتے ہوئے واصلِ160زندان ہوتے ہیں یا پھر خودکشی جیسے گناہ کو اختیار کرلیتے ہیں ۔اگر ذہنی امراض سے متعلق ان کو بروقت علاج کی سہولت میسر ہوجائے تو بہت سے مسائل پر قابو پایاجاسکتا ہے۔ 

۔

نوٹ:یہ بلاگر کاذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔

مزید : بلاگ