تحریک لبیک کیخلاف کریک ڈاﺅن کے دوران گرفتار کی گئی معروف شخصیت جیل میں انتقال کرگئی

تحریک لبیک کیخلاف کریک ڈاﺅن کے دوران گرفتار کی گئی معروف شخصیت جیل میں ...
تحریک لبیک کیخلاف کریک ڈاﺅن کے دوران گرفتار کی گئی معروف شخصیت جیل میں انتقال کرگئی

  

گجرات(بیورو رپورٹ)غداری اور بغاوت کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے تحریک لبیک پاکستان کے سرپرست پیر محمد افضل قادری کے سگے ماموں اور    75سال کی پیرانہ سالی کے عالم میں حافظ آباد جیل میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر نے والے علامہ مفتی محمد یوسف سلطانی سکنہ لکھنوال کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد مقامی قبرستان میں سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا ،ان کی نماز جنازہ پیر محمد افضل قادری کے بیٹے پیر عثمان افضل قادری نے پڑھائی۔

تفصیلات کے مطابق علامہ مفتی محمد یوسف سلطانی جن کی عمر 80برس تھی کو لکھنوال سے پولیس نے گذشتہ ماہ 25 نومبر کو گرفتار کیا تھا اور انہیں ڈپٹی کمشنر گجرات کے حکم پر تین ماہ کیلئے حافظ آباد جیل میں نظر بند  کیا گیا تھا  جہاں انہیں گزشتہ روز ہارٹ اٹیک ہوا جو جان لیوا ثابت ہوا ۔مرحوم نے پسمندگان میں ایک بیٹا جس کا نام محمد الیاس عمر 25سال بیان کی جاتی ہے چھوڑا ہے. علامہ مفتی محمد یوسف سلطانی کی مستقل رہائش گجرات شہرکے رحمانیہ تھانہ کے علاقہ میں ہے۔مرحوم کی نماز جنازہ مراڑیاں شریف میں ادا کی گئی، ان کی نماز جنازہ پیر محمد افضل قادری کے صاحبزادے پیر عثمان افضل قادری نے پڑھائی, نماز جنازہ میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی, اس موقع پر بڑے رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے،قاری محمد یوسف سلطانی کو مراڑیاں شریف میں ہی درگاہ میں سپردخاک کر دیا گیا ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہعلامہ مفتی محمد یوسف سلطانی پہلے بھی دل کے مریض تھے جبکہ ان کے بھانجے پیر محمد افضل قادری کو بھی متعدد بار ہارٹ اٹیک ہو چکا ہے اور ان کے دل میں آپریشن کر کے دل کی دھڑکن کو متوازن رکھنے کے لیے بیٹری لگائی گئی ہے، انکا 80فیصد دل مفلوج ہو چکا ہے ۔تحریک لبیک کے مرکزی رہنما پیر محمد افضل قادری کے ماموں علامہ مفتی محمد   یوسف سلطانی کی میتجیل حکام نے قانونی کارروائی کے بعد  گزشتہ شب لواحقین کے حوالے کر دی تھی۔حافظ آباد جیل سے جب ان کی میت گجرات پہنچی تو اس موقع پر مقامی پولیس نے سخت ترین حفاظتی اقدامات کر رکھے تھے۔

 مرحوم کے نواسہ عثمان قادری کے مطابق بزرگ عالم دین کو مرکز اہلسنت لکھنوال نزد جلالپور جٹاں ضلع گجرات سے گرفتار کیا گیا تھا، وہ علیل بھی تھے دوران علالت ہی انہیں گرفتار کیا گیا تھا، جیل کی طرف سے علاج کی سہولتیں میسر نہ ہونے کے باعث وہ انتقال کر گئے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /حافظ آباد /گجرات