گجرات پولیس کرپشن کیس،رائے اعجاز 10 دن کیلئے جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

گجرات پولیس کرپشن کیس،رائے اعجاز 10 دن کیلئے جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے
گجرات پولیس کرپشن کیس،رائے اعجاز 10 دن کیلئے جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور کی احتساب عدالت نے سابق پولیس افسر رائے اعجاز کو 10 دنوں کے جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا ہے۔ رائے اعجاز کو مالی بے ضابطیگوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

نیب کی جانب سے تین روز قبل کراچی سے گرفتار کئے گئے سابق سی ٹی او، ایس ایس پی رائے اعجاز کو آج احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔ نیب ذرائع کا کہنا تھا کہ رائے اعجاز پر پولیس ملازمین کی وردیوں کے پیسے خورد برد کرنے،پولیس کی گاڑیوں کو ملنے والا ڈیزل اور بڑے پیمانے پر صوابدیدی فنڈز خورد بورد کرنے کا الزام ہے۔

رائے اعجاز پر 70 کروڑروپے کرپشن کے الزامات بھی عائد ہیں۔نیب پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے عدالت میں رائے اعجاز کے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا تھا کہ کیا رائے ضمیر کو بھی گرفتار کیا گیا ہے ؟

نیب پراسیکیوٹرنے جواب میں کہا کہ رائے ضمیر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا چکے ہیں لیکن ان کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا،رائے ضمیر ڈی پی او گجرات رہ چکے ہیں، وہ بھی کیس میں شامل تفتیش ہیں۔

رائے اعجاز نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے سو موٹو لے لیا، تین سے چار دفعہ بلایا گیا ، نیب کی ہر پیشی پر حاضر ہوا،انہوںنے میرے گھر پر ریڈ کی تو میں نے ان سے ان کی پہچان پوچھی،نیب نے ریڈ کے وقت میرے ملازمین کو تھپڑ مارے، نیب نے اچانک بتایا کہ آپکی گراو¿نڈ آف اریسٹ تبدیل ہو گئی ہے۔

رائے اعجاز نے مزید کہا کہ میں 19 وی گریڈ کا افسر رہا،میرے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا جیسے دہشت گرد ہوں، جنوری سے انکوائری ہوئی جسکو بارہ مہینے ہو گے ہیں ،خورد برد سے متعلق 60 لاکھ روپے کی رقم ہے ، نیب نے میڈیا ٹرائل کے ذریعے 70 کڑوڑ روپے کی رقم بتائی،میرے دور میں کوئی جعلی سائن نہیں ہوئے ایک بھی جعلی سائن ہے تو دکھائیں۔انہوں نے کہا کہ میں اٹھاریں سکیل کا افسر تھا ، کوئی کلرک تھوڑی تھا، اگر میں پیسوں کا روا دار ہوتا تو ایک کڑوڑ کا فی کیس کما سکتا تھا،مجھے اللہ نے عزت دی ہے ، میں ان زمینی خداو¿ں سے لڑنے کےلئے تیار ہوں، میں آپکے رحم و کرم پر ہوں ، سمجھ نہیں آ رہی کہ میں اپنی صفائی کہاں پر دوں۔

رائے اعجاز کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے 18 مہنیوں کی انکوائری میں کیا ثابت کیا۔نیب تفتیشی افسر نے کہا کہ ڈھائی سال کے دوران 3 ارب 94 کروڑ 4 ڈی پی اوز نے استعمال کیے، ملزمان نے مینیول سیلری اکاونٹ کے ذریعے کرپشن کی۔عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا ابھی بھی مینول سیلری چلتی ہے ؟

تفتیشی افسر نے کہا کہ نیب نے ابتک 44 کروڑ روپے کی کرپشن کے شواہد حاصل کیے ہیں، پیٹرول، ڈیزل، شہید فنڈ، یوٹیلٹی بلز ،الاونسس اور کیش کی مد میں کرپشن شامل ہے، رائے اعجاز نے اپنے دور میں ایک ارب 3 کروڑ روپے کے فنڈز کا اجرا کیا، رائے اعجاز کیخلاف 5 کروڑ کی کرپشن ثابت کر چکے ہیں ،گجرات شہر میں پولیس کی گاڑیوں کی ایک ماہ کا خرچہ 70 لاکھ بنتا ہے۔

تفتیشی افسر نے مزید کہا کہ رائے اعجاز نے 1 ماہ میں 1 کروڑ 23 لاکھ خرچ کیا، رائے اعجاز نے 53 لاکھ روپے ہر مہینہ اضافی اخراجات دکھائے، رائے اعجاز کے دور میں پیٹرول کے جعلی بلز بنائے گئے، ایسی گاڑیوں کے بل بنائے گیے جو پولیس کے استعمال میں بھی نہیں تھیں، رینٹ اے کار کی گاڑیوں کے بل بھی شامل کیے گیے ہیں۔

عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا صرف یہ گجرات میں ہورہا ہے ؟رائے اعجاز نے کہا کہ میرے دور میں بجلی گیس وغیرہ کا کوئی بل نہیں آیا،نیب بہت سے ایسے بلز دکھا رہی ہے جو میرے دور کے ہیں ہی نہیں،میرے دور میں تمام چیکس کلیر ہوئے کسی کی کوئی ذمہ داری میرے پر نہیں۔

مزید : قومی /علاقائی /پنجاب /لاہور