بحریہ ٹاﺅن نظرثانی کیس،سپریم کورٹ کی پرویز الٰہی کو وکیل کرکے جواب جمع کرانے کی مہلت

بحریہ ٹاﺅن نظرثانی کیس،سپریم کورٹ کی پرویز الٰہی کو وکیل کرکے جواب جمع ...
بحریہ ٹاﺅن نظرثانی کیس،سپریم کورٹ کی پرویز الٰہی کو وکیل کرکے جواب جمع کرانے کی مہلت

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ آف پاکستان نے بحریہ ٹاؤن نظر ثانی کیس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کو وکیل کر کے جواب دینے کیلئے مہلت دے دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی اور ان کے بھائی چودھری شجاعت حسین عدالت میں پیش ہوئے،چیف جسٹس نے ریونیو ریکارڈ کے بارے میں پوچھتے ہوئے کہا کہ کیا لٹھہ وغیرہ منگوا لیا ہے؟،بحریہ ٹاﺅن کے وکیل اعترازاحسن نے کہاکہ جی منگوا لیا ہے،

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کہاں ہے وہ ریکارڈ، ہمارے سٹاف کو دیں، اتنی دیر میں چودھری پرویز الٰہی صاحب کو بھی بتا دیں ان کوزحمت کیوں دی ہے، چیف جسٹس ثاقب نثار نے چودھری پرویزالٰہی کو روسٹرم پر بلاتے ہوئے کہا کہ چوہدری صاحب آپ آجائیں۔

چیف جسٹس نے پرویزالٰہی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے زمین حد بندی کیلئے کیسے حکم دے دیا؟ آپ کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا، اس طرح جنگلات کی زمین بحریہ کو دیدی گئی،پرویز الٰہی نے کہا کہ مجھے کل شام کو پتہ چلا ہے یہ 13 سال پرانہ واقع ہے میرے پاس ریکارڈ بھی نہیں،

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ 2210 ایکڑ پراپرٹی ملک ریاض کو ٹرانسفر ہوئی ہے، ملک ریاض کہتے ہیں کہ مجھے 1741 ایکڑ اراضی دی گئی۔ بعد ازاں ملک ریاض نے آپ کے خاندان کے ساتھ اراضی کا تبادلہ کیا، یہ اراضی چودھری شجاعت کی اہلیہ، چودھری سالک اور اپنے ملازم چودھری منیر کو منتقل کی گئی، آپ کو یہ جواب دینا پڑے گا،سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ میں ضرور جواب دونگا میرے پاس فی الوقت حقائق موجود نہیں، ریکارڈ دیکھوں گا، تیرہ برس پرانا معاملہ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم حقائق منگوا لیں گے، ہم نیب، ایف آئی اے یا پھر جے آئی ٹی بنا کر تحقیقات کرا لیتے ہیں، آپ کو حد بندی کا اختیار نہیں تھا، حکومت پنجاب نے بھی کہا کہ اختیارات سے تجاوز کیا گیا ہے۔

جسٹس آصف کھوسہ نے چیف جسٹس کی توجہ فیصلے کی جانب دلائی تو چیف جسٹس نے پرویز الٰہی سے کہا کہ آپ کے بارے میں عدالتی فیصلہ ہے، آپ کےخلاف فائنڈنگ آئی ہے، جج صاحب نگ میری توجہ دلائی ہے۔ اس کے بعد فیصلہ پڑھا جس میں لکھا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین پر قبضہ دلانے کے ذمہ داروں کےخلاف نیب میں ریفرنس دائر کیا جائے اور عمل درآمد بنچ فیصلے پر عمل کو یقینی بنائے۔

پرویزالٰہی نے کہا کہ میں پانچ سال وزیر اعلیٰ رہا اور میرے بعد دس سال میرے مخالفوں کی حکومت رہی، انہوں نے میری ہر فائل کو کھنگالا مگر کوئی کیس نہیں ڈھونڈ سکے، چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر ہم تحقیقات کروا لیتے ہیں یہ آپ کےلئے بہتر ہے، آپ کےخلاف عدالتی فیصلہ آچکا ہے اب عملدرآمد لازمی ہے،

پرویزالٰہی نے کہا کہ مجھے اجازت دیں میں وکیل کر لوں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جی وکیل کر لیں مگر زیادہ وقت نہ لیں۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد