آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے، سٹاک مارکیٹ میں مندی پورٹ فولیو انویسٹمنٹ میں کمی کے باعث ہوئی: وزیر خزانہ

آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے، سٹاک مارکیٹ میں مندی پورٹ ...
آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے، سٹاک مارکیٹ میں مندی پورٹ فولیو انویسٹمنٹ میں کمی کے باعث ہوئی: وزیر خزانہ

  

اسلام آباد (عمر مجیب شامی) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے بلکہ جاری ہیں۔ سٹاک مارکیٹ میں مندی پورٹ فولیو انویسٹمنٹ میں کمی کے باعث ہورہی ہے۔وزیر خزانہ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اعزاز میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے دیے گئے عشائیے سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر چیئرمین بی او آئی ہارون شریف بھی موجود تھے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے آئی ایم کے پاس جانے میں وقت ضائع نہیں کیا در اصل پچھلی حکومت کو رواں سال کے آغاز میں آئی ایم ایف کے پاس چلے جانا چاہیے تھا کیونکہ اس وقت ادائیگیوں میں توازن تھا ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے آئی ایم کے پاس جانے میں وقت ضائع نہیں کیا کیونکہ اکنامک ایڈوائزری کونسل اس بات پر متفق ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال میں معیشت اور کرنسی کو شارٹ ٹرم سہارا دینے کیلئے مختلف اقدامات کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے ہمیں 19 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ ترکے میں دیا جس کو بڑھنے سے روکنا بہت بڑا چیلنج تھا۔ اسد عمر نے بتایا کہ پاکستان کودوست ممالک سے حاصل ہونے والی امداد کے نتیجے میں معاشی صورتحال میں بہتری آئی اور ہم آئی ایم ایف کے ساتھ بہتر انداز میں مذاکرات کرنے کے قابل ہوئے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ سٹرکچرل ریفارمز کے حوالے سے تقریباً اتفاق ہے تاہم ان اصلاحات کے نفاذ کے وقت پر اختلاف ہے اورامید ہے کہ یہ مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔وزیر خزانہ نے سابق حکومت کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ دنیا بھر میں بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں پراڈکٹ گروتھ کو کامیابی کی کنجی سمجھا جاتا ہے لیکن پاکستان میں پراڈکٹ گروتھ صفر ہے۔ اگر گزشتہ 18 برس کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ معاشی اصلاحات کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔وزیر خزانہ لانگ ٹرم گروتھ کے حوالے سے کافی پرامید نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے غیر ملکی انویسٹرز نے پاکستان کے زیادہ گروتھ والے شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے بعض ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جس سے پاکستان کا گروتھ ریٹ بہتر ہوگا اور برآمد کنندگان کو فائدہ حاصل ہوگا۔اس موقع پر چیئرمین بی او آئی نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے 10 انتہائی بڑے پرپوزل موصول ہوئے ہیں جن میں سے ایک سعودی تیل ایجنسی ارامکو کا ہے جو کم از کم 5 ارب ڈالر کا ہے۔وزیر خزانہ نے سٹاک مارکیٹ میں مندی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ سٹاک مارکیٹ میں مندی پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کے نکلنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ یہ پاکستان کیلئے نئی بات نہیں ہے کیونکہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران پاکستان میں پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کا گراف منفی ہی رہا ہے۔وزیر خزانہ اسد عمر نے اخباری صنعت کو درپیش مالی مسائل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت میڈیا انڈسٹری کو اپنا حصہ سمجھتی ہے اور اس حوالے سے ان کے تمام مسائل کے حل میں مدد کرنا چاہتی ہے ۔انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ وزیر اعظم کی طرف سے اعلان کردہ نیوز پرنٹ کی درآمد پر ڈیوٹی میں 5فیصد کمی کا نوٹیفیکیشن ایک آدھ روز میں جاری کر دیا جائے گا جیسے ہی وزارت اطلاعات کی طرف سے اخبارات کے تصدیق شدہ واجبات ہمیں موصول ہوں گے فوراً ان کی ادائیگی کر دی جائیگی ۔وزیر خزانہ نے یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ اخباری صنعت کو درپیش ود ہولڈنگ ٹیکس اور ٹیکس ریفنڈ کے مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے ۔انہوں نے اے پی این ایس کو دعوت دی کہ وزارت اطلاعات اور وزارت خزانہ کے ساتھ مل بیٹھیں تاکہ ان مسائل کو باہمی مذاکرات کے ذریعے جلد حل کروایاجا سکے اور اخباری صنعت کو درپیش مالی مشکلات میں کمی آئے ۔

مزید : قومی /سیاست /علاقائی /اسلام آباد /اہم خبریں