اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 88

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 88

  

میں نے قدیم سنسکرت ادب اور ویدوں کے بارے میں بات چیت کی تو وہ مجھ سے بہت متاثر ہوا اور بولا۔’’تم سلطان کی خدمت میں حاضر کیوں نہیں ہوتے؟ تمہیں ہندی زبانوں پر عبور ہے اور ہندوستان جانے کا شوق بھی ہے۔ سلطان تمہیں بڑی خوشی سے کوئی عہدہ عطا کردیں گے۔ میں تمہاری سفارش کردوں گا۔‘‘

میں نے حامی بھرلی۔ اسدی طوسی نے سلطان محمود سے بات کی تو اس نے مجھے خلوقت خاص میں طلب کرلیا۔ میں اس عظیم مجاہد اور اسلامی سپہ سالار اعظم کے روبرو کھڑا تھا جو آج آپ سب کا ہیرو ہے اور جس کی فتوحات کا حال آپ تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے ہیں۔ تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے؟ اس سے مجھے کوئی سروکار نہیں۔ میں آپ کو پہلے ہی بتاچکا ہوں کہ میں چشم دید اور اپنے آپ پر گزرے ہوئے واقعات قلمبند کررہا ہوں۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 87 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

آپ نے تاریخ کی کتابوں میں سلطان محمود غزنوی کی تصویر دیکھی ہوگی میں نے بھی دیکھی ہے۔ یہ ایک نہایت وجیہہ اور حسین و جمیل جوان آدمی کی تصویر ہے۔ آپ یقین کریں کہ سلطان محمود غزنوی ایسا نہیں تھا۔ اس کے چہرے پر چیچک کے داغ تھے۔ قد درمیانہ تھا۔ مگر اس کی شخصیت میں ایک مقناطیسی کشش تھی۔ شاید اس لئے کہ وہ ایک سچا عبادت گزار اور دین دار مسلمان تھا اور اس کے سینے میں ایمان کی شمع روشن تھی۔ اس نے اپنی زندگی کفر و الحاد شکنی کے لئے وقف کررکھی تھی۔ خاندان غزنویہ میں محمود غزنوی پہلا بادشاہ ہے جس نے اپنے لئے سلطان کا لقب پسند کیا۔

میں بڑے ادب سے سلطان کی بارگاہ میں کھڑا تھا۔ منقش چھت سے نقرئی قندیلیں لٹکی ہوئی تھیں۔ سلطان محمود نے مجھ پر ایک گہری نگاہ ڈالتے ہوئے کہا ’’استاد مکرم اسدی طوسی نے تمہاری بہت تعریف کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تم ہندوستان کی قدیم زبانیں اور ویدوں کا علم جانتے ہو۔ کیا یہ درست ہے؟‘‘

’’جی ہاں سلطان مکرم!‘‘ میں ادب سے بولا۔

سلطان محمود نے کہا ’’کیا تم ہندی ہو؟‘‘

میں نے سلطان کو بتایا کہ میں ہندو نہیں بلکہ مصری ہوں اور مسلمان ہوں۔ عبداللہ عاطون میرا نام ہے اور میں نے سنسکرت اور ویدوں کا علم اپنے قیام ہند کے دوران حاصل کیا تھا۔ سلطان محمود نے مجھ سے کہا کہ مجھے کچھ اہل ہند کے مذہبی عقائد کے بارے میں بتاؤ۔ میں نے جواب میں مختصراً کہا۔

’’سلطان مکرم! اہل ہند کے مطابق اس جہان بے ثبات کی گردشوں کے چار دور ہیں۔ ست یگ، تیایگ، رواپریگ اور کل یگ۔ کل یگ کے خاتمے پر دنیا کے دوسرے یگوں کی گردش ایک بار پھر شروع ہوجاتی ہے۔ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق بھگوان نے سب سے پہلے پانچ عناصر پیدا کئے اور پھر برہما نام کے ایک شخص کو پیدا کیا جس کو دنیا کی تخلیق کا سبب قرار دیا۔ برہما بھگوان کے حکم سے انسان کو عالم وجود میں لایا اور اسے چار گروہوں، امین، برہمن، ویش اور شودر میں تقسیم کیا۔ برہمان نے ایک کتاب لکھی جس کو وید کہتے ہیں۔‘‘

سلطان محمود میری باتیں بڑے غور سے سنتا رہا۔ پھر وہ پلٹا اور میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا ’’عبداللہ عاطون! تم ایک نوجوان مسلمان ہو۔ مگر تمہارا علم ہزاروں سال قدیم ہے۔‘‘

میں اندر ہی اندر چونک پڑا۔ کہیں اس مجاہد حق کو میری دروازی عمر اور موت سے رستگاری کا کشف تو نہیں ہوگیا؟ لیکن ایسا نہیں تھا۔ سلطان محمود نے میرے علم کی تعریف کی تھی۔ سلطان کہہ رہا تھا۔

’’ہم بہت جلد ہندوستان پر ایک اور حملہ کرنے والے ہیں۔ ہم نے سنا ہے کہ جنوب مغربی ہند میں ایک بہت بڑا مندر ہے جس کا نام سومنات ہے اور وہاں کے ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ سورج سومنات سے اجازت لے کر طلوع ہوتا ہے۔ ہم اس باطل نظرئیے کا قلع قمع کرنے اور سومناک کے بت کو پاشپاش کرنے جارہے ہیں۔ ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ سورج صرف خدا کے حکم سے طلوع اور غروب ہوتا ہے۔ عبداللہ کیا تو نے سومنات کا مندر دیکھا ہے؟‘‘

میں نے دست بستہ عرض کی ’’نہیں سلطان مکرم! مجھے اس مندر کو دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا لیکن میں نے سن رکھا ہے کہ یہ مندر ہندوستان کے سارے ہندوؤں کا سب سے بڑا استھان ہے۔‘‘

سلطان محمود نے استفسار کیا

’’ہمیں بتایا گیا ہے کہ جنوب مغربی ہند میں عورتوں کو اس مندر کے سب سے بڑے بہت بیاہ دیا جاتا ہے۔‘‘

میں نے کہا ’’آپ نے درست سنا ہے۔ سلطان عالی۔۔۔ دراصل ہندوؤں کے ہاں عورت کا مقام وہ نہیں ہے جو اسلام نے اسے عطا کیا ہے۔ اہ ل ہند عورتوں کو دوستی دشمنی کے لئے اور جاسوسی کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ برہمن کرامتیں بھی دکھاتے ہیں مگر یہ سب شعبدہ بازی ہے۔‘‘

سلطان محمود قالین پر آہستہ آہستہ ٹہلنے لگا۔ اس کے ہاتھ پشت پر تھے۔ میری طرف دیکھ کر اس ے تبسم کیا اور کہا 

’’عبداللہ عاطون! آج سے تم ہمارے ایاز کے بعد مقرب خاص ہو۔‘‘

میں نے ادب سے جھک کر شکریہ ادا کیا۔ سلطان نے اسی وقت ایک فرمان جاری کرکے مجھے اپنے مقربین میں شامل کرلیا۔ ابھی تک سلطان پر میری خفیہ طاقتوں کا راز ظاہر نہیں ہوا تھا۔ رہائش کے لئے مجھے ایک محل خاص مل گیا تھا جہاں چھ حبشی غلام پہرہ دیتے تھے۔ ایک خلعت بھی عطا ہوئی اور چھ گھوڑوں کی سواری کا بھی اہتمام ہوا۔ میں صبح و شام سلطان کی خدمت میں حاضر رہتا۔ سومنات پر حملے کی تیریاں زور و شور سے جاری تھیں۔ سلطان اکثر مجھ کو اپنی خلوت خاص میں بلو اکر ہندوستان کے حالات دریافت کرتا۔ کبھی کبھی ملک ایاز بھی مجلس میں موجود ہوتا۔ میں نے اسے ویدوں اور پراچین ہند کی قدیم تہذیب و ثقافت اور ان کی بت پرستیوں اور دولت کی پوجا کے بارے میں ایسے ایسے اسرار بتائے کہ جنہیں مورخین نے کبھی قلمبند نہ کیا تھا۔ سلطان مجھ سے بہت متاثر ہوا۔ جب اس پر یہ راز کھلا کہ میں سنسکرت کے علاوہ پالی، گجراتی اور قدیم ہند کی کئی ایک زبانیں روانی سے بول لیتا ہوں تو وہ میرا اور بھی گرویدہ ہوگیا اور تقریباً سارا وقت مجھے اپنے ساتھ رکھتا۔ میں نے اسے بتایا کہ سومناک پرحملے کی صورت میں ہندوستان کے سبھی راجہ متحدہوکر اس کا مقابلہ کریں گے اور اپنے ساتھ جنوبی ہند کے بدمست ہاتھی بھی لائیں گے اور ان کا ایک ہی علاج ہے کہ ان پر جلتے ہوئے تیر پھینکے جائیں۔(جاری ہے )

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 89 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار