کرکٹر عثمان خواجہ کے بھائی کو گرفتار کرلیا گیا، انتہائی سنگین ترین الزام لگ گیا

کرکٹر عثمان خواجہ کے بھائی کو گرفتار کرلیا گیا، انتہائی سنگین ترین الزام لگ ...
کرکٹر عثمان خواجہ کے بھائی کو گرفتار کرلیا گیا، انتہائی سنگین ترین الزام لگ گیا

  

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی نژاد آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے 39سالہ بھائی ارسلان خواجہ کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی پر مبنی فرضی تحریر لکھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیاہے۔ میل آن لائن کے مطابق ارسلان خواجہ یہ منصوبہ بندی یونیورسٹی آف نیوساﺅتھ ویلز میں اپنے ساتھی ملازم 25سالہ سری لنکن شہری قمر نظام الدین کی نوٹ بک میں تحریر کی جو اسے پھنسانے کی سازش تھی۔ ایک تیسرے ساتھی ملازم نے نظام الدین کی نوٹ بک میں یہ مشکوک تحریر دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی جس نے 30اگست کو نظام الدین کو گرفتار کر لیا۔

رپورٹ کے مطابق نوٹ بک میں سابق آسٹریلوی وزرائے اعظم میلکلم ٹرنبل اور جولی بشپ سمیت کئی افراد کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی لکھی گئی تھی۔ ابتدائی طور پر پولیس نے اس کا ذمہ دار نظام الدین کو سمجھا جسے 4ہفتے گولبرن سپرمیکس جیل میں گزارنے پڑے۔ نظام الدین نے دوران تفتیش نوٹ بک کی ملکیت کا اعتراف کیا تاہم اس تحریر سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ بے گناہ ثابت ہونے پر نظام الدین کو 28ستمبر کو رہا کر دیا گیا اور اس کے خلاف تمام الزامات ختم کر دیئے گئے۔ اس تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ درحقیقت یہ منصوبہ بندی ارسلان خواجہ نے نظام الدین کو پھنسانے کے لیے اس کی نوٹ بک میں تحریر کی تھی اور اصل معاملہ ایک لڑکی کے ساتھ دوستی کا تھا۔

رپورٹ کے مطابق نیو ساﺅتھ ویلز پولیس نے 19اکتوبر کو نظام الدین کے خلاف دہشت گردی کے الزامات ختم کیے اور 20اکتوبر کو سڈنی میں ارسلان خواجہ کے گھر پر چھاپہ مار کر تلاشی لی، اور آج اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ”نیوساﺅتھ ویلز جوائنٹ کاﺅنٹر ٹیررازم ٹیم کی تحقیقات میں ایک 39سالہ شخص کو آج صبح ساڑھے 8بجے گرفتار کیا گیا ہے اور آج ہی اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔“واضح رہے کہ نظام الدین یونیورسٹی میں ارسلان خواجہ کے ساتھ ملازمت بھی کر رہا تھا اور اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی مکمل کر رہا تھا۔اب وہ سری لنکا واپس پہنچ چکا ہے۔

مزید : کھیل