روپے کی قدر میں کمی منصوبے کے تحت کی گئی، حکومت ریلیف نہیں دے گی تو سرمایہ کار کیوں پاکستان آئے گا:حیدر زمان قریشی

روپے کی قدر میں کمی منصوبے کے تحت کی گئی، حکومت ریلیف نہیں دے گی تو سرمایہ کار ...
روپے کی قدر میں کمی منصوبے کے تحت کی گئی، حکومت ریلیف نہیں دے گی تو سرمایہ کار کیوں پاکستان آئے گا:حیدر زمان قریشی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما حیدر زمان قریشی نے کہا ہےکہ روپے کی قدر میں کمی سے سرمایہ کاری کم ہوجاتی ہے، جب حکومت سرمایہ کاروں  کو  کوئی ریلیف نہیں دے گی تو سرمایہ کار کیوں آئے پاکستان گا؟حکومت کی جانب سے روپے کی قدر میں کمی منصوبے کے تحت کی گئی،آئی ایم ایف کی پہلی شرط کے مطابق حکومت انٹر بینک میں ڈالر کو 150 روپے تک لے کر جائے گی،ایسا نہ کرنے کے بارے حکومت سوچ بھی نہیں سکتی۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حیدر زمان قریشی کا کہنا تھا کہ  ایسا نہیں ہوسکتا کہ روپے کی قدر میں کمی راتوں رات ہو جائے یہ وقت کے ساتھ کی جاتی ہے، پر وزیراعظم کو نہیں پتا کہ یہ سب کون چلا رہا ہے،درامدآت کرنے والوں کو روپے کی قدر میں کمی سے نقصان ہوتا ہے اور اس طرح درآمدات نہیں بڑھتیں،جب وزیراعظم سے سوال کیا جاتا ہے تو ان کے پاس جواب کیوں نہیں ہوتا۔حیدر زمان قریشی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ دونوں ہی سچ بول رہے ہیں ،اسد عمر کو اگر یہ نہیں پتا کہ ان کے متعلقہ محکمےکیا کام کر رہے ہیں تو پھر انہیں تو کوئی کام ہی نہیں کرنا چاہئے ،یہ بھی سٹیٹ بینک،فنانس سیکرٹری اور  ایف بی آر کے علم میں ہے کہ پچھلے کئی ہفتوں سے  آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں،میں نے تو کئی ہفتے پہلے کہہ دیا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف کے پاس جائے گی اور ڈالر 150روپے کر دیں گے کیونکہ آئی ایم ایف کی پہلی شرائط ہی یہی تھی ،اب یہ اس شرائط کو پورا کرنا چاہتے ہیں لیکن کہنا یہ چاہتے ہیں کہ ہم کوئی شرطیں نہیں مان رہے ،اس بار حکومت نے حکمت عملی یہ بنائی ہے کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط پہلے سے ہی پورا کردیں تاکہ یہ کہہ سکیں کہ ہم نے آئی ایم ایف کی کوئی شرط نہیں مانی بلکہ آئی ایم کے پاس اپنی شرائط  کے ساتھ گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو واقعی نہیں پتا کہوزارت خزانہ کون چلا رہا ہے ، سٹیٹ بینک کون چلا رہا ہے ،وزارت خزانہ کون چلا رہا ہے اور ان کی حکومت کون چلا رہا ہے ؟اسی طرح عثمان بزدار کو بھی نہیں پتا کہ ان کا صوبہ کون چلا رہا ہے ؟ ساری حکومت ہی غلط بیانی پر چل رہی ہے اور یہ روز کوئی نہ کوئی اپنا نیا بیانیہ بیان کر دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہےکہ حکومت نے ڈالر 150 روپے کا کرنا ہے ۔حیدر زمان قریشی کا کہنا تھا کہ میں یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ کر رہا ہوں کہ 

انہوں نے آئی ایم ایف سے کہا کہ آپ ہمیں اجازت دیں کہ ڈالر کو  30 جون 2019 تک انٹر بینک میں 130 ،35 پر رکھیں لیکن انہوں نے حکومت کی یہ بات نہیں مانی ،حکومت انٹر بینک میں ڈالر کو 150 روپے تک لے کر جائیں گے اور ایسا نہ کرنے کے بارے یہ سوچ بھی نہیں سکتے ۔انہوں نے کہا کہ عام آدمی کی قوت خرید نہیں بڑھے گی اور مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ ہو گا ،بجلی ،گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گا اور عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن ہو جائے گی ۔

مزید : قومی