حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا3 روزہ عرس، عقیدت مندوں کا رش، سیکورٹی ہائی الرٹ

    حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا3 روزہ عرس، عقیدت مندوں کا رش، سیکورٹی ہائی الرٹ

  



راجن پور+مٹھن کوٹ(نمائندہ خصوصی + ڈسٹرکٹ رپورٹر +نامہ نگار)سلطان العاشقین حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا 122ویں عرس مبارک کی سہ روزہ تقریبات 3 دسمبر سے5 دسمبر تک ضلع راجن پور کے تاریخی قصبہ کوٹ مٹھن میں شروع ہو گئیں ہیں اس سلسلہ میں شہر کو خیر مقدمی بینرز(بقیہ نمبر32صفحہ12پر)

،پوسٹرزاور خوبصورت بڑے بڑے پینا فلیکس سے سجا یا گیا ہے۔ سہ روزہ عرس کی تقریبات میں شرکت کے لئے ملک بھرسے قافلے عرس سے کئی روز قبل ہی کوٹ مٹھن پہنچنا شروع ہوگئے تھے زائرین کی ایک بڑی تعداد ٹولیوں کی صورت میں حق فریدؒ یا فریدؒ کے نعرے لگاتے ہوئے شہر فریدؒ میں داخل ہوئے زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر خواجہ فریدؒ فاؤنڈیشن کی طرف سے لنگر کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا سالانہ عرس مبارک جو اس خطے کی بہت بڑی ثقافتی اور معاشی سرگرمی بھی ہوتاہے،اس موقع کی مناسبت سے شہر اوردربار کے چاروں طرف بازار سج گئے ہیں جہاں پرنوجوانوں، بچوں اور عورتوں کی دلچسپی کی اشیاء اور تحفے تحائف کے اسٹالز زیادہ توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔فریدی رومال کے بیوپاریوں نے خصوصی اسٹالز لگائے ہوئے ہیں جہاں پر لوگوں کا رش دیدنی ہے۔مٹھائی چائے اور کھانے کے ہوٹلوں پربھی دور دراز سے آنے والے عقیدت مندوں کا کافی رش ہے۔یاد رہے کہ امسال حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے عرس پر ضلعی حکومت کے اعدادو شمار کے مطابق 10لاکھ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔ عرس کے موقع پر تیسرے روز کو راجن پور اور رحیم یارخان کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے عام تعطیل کا اعلان بھی عرس پر رش کا باعث بنا ہوا ہے کیونکہ عرس کی تقریبات میں زیادہ تر زائرین بہاولپور ڈویژن سے شریک ہوتے ہیں۔ دریائی طرف سے آنے والی گنے کی ٹرالیوں پر عرس مبارک کے تین ایام میں پابندی عائد کر دی گئی ہے تاکہ گنے کی ٹرالیاں ٹریفک میں کسی قسم کی رکاوٹ کا باعث نہ بنیں تاکہ راستے صحیح حالت میں چالورکھے جا سکیں۔سیکیورٹی کو اہمیت دیتے ہوئے دربار اور اس کے اطراف اور دیگر حساس مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں اورسیکورٹی سٹاف کو چیکنگ کے لئے وافر مقدار میں حفاظتی گیٹ اور میٹل ڈیٹکٹر بھی فراہم کیے گئے ہیں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کسی بھی ناگہانی صورت حال کے پیش نظر ریسکیو1122فائر بریگیڈ اور بلدیاتی عملہ بھی موجود دربار فریدؒ اور میلہ گراؤنڈ پر موجود ہے۔ میونسپل کمیٹی کوٹ مٹھن کی طرف سے چیف آفیسر سردار کلیم اللہ خان گشکوری کی زیر نگرانی زائرین کی سہولت کے پیش نظر کئی اقدامات بھی کئے گئے جن میں جگہ جگہ زائرین کے لئے پینے کے صاف پانی کی فراہمی، چلڈرن پارک میں ان کی رہائش کے لئے شامیانے لگا کر ٹینٹ اور دریوں کا انتظام اور بڑی تعداد میں لیٹرین بھی بنائی گئیں ہیں۔چاروں صوبو ں اور سرائیکی وسیب سے آنے والے زائرین کے قیام کیلئے مکانا ت،ہوٹلز،سکولز، کالجز کی عمارتیں بھی زائرین کومہیا کرنے کے انتظامات کئے گئے ہیں۔خواجہ فریدؒ فاؤنڈیشن کی طرف سے زائرین کیلئے خواجہ صاحبؒ کی تعلیمات پر مبنی لٹریچر بھی بڑی مقدا رمیں تیار کرکے اپنے کارکنوں کے زریعے لوگوں مین تقسیم کیا جارہا ہے۔ عرس کے ایام میں خواجہ فریدؒ لائبریری اورمیوزیم زائرین کے لئے 24 گھنٹے تمام وقت کھلے رکھنے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔حکومتی شخصیات کی خصوصی آمد کے پیش نظر ان کے لئے مخصوص راستے مختص کیے گئے ہیں تاکہ آمدورفت میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔موٹر سائیکل اسٹینڈ کار اور بس اسٹینڈ شہر سے باہر منتقل کئے گئے ہیں۔ سپیشل برانچ کی طرف سے مخصوص گاڑیوں اور افراد کیلئے خصوصی پاس جاری کیے گئے حضرت خواجہ غلام فرید ؒ کے 122ویں سالانہ عرس مبارک کی سہ روزہ تقریباتکا آغاز غسل مزارِ فریدؒ کے ساتھ ہی شروع ہوا۔ یہ مذہبی،روحانی اور ثقافتی تقریبات اس پورے خطے میں بہت اہمیت کی حامل ہیں کیوں کہ اس میں لاکھوں افرادپاکستان کے طول وعرض سے شرکت کرتے ہیں اور اپنے عظیم روحانی صوفی شاعرحضرت خواجہ غلام فریدؒ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔سجادہ نشین دربارفریدؒخواجہ معین الدین محبوب کوریجہ نے شدید علالت کے باوجود حسبِ روایت اپنے دستِ مبارک سے دربارفریدؒ کو غسل دیا۔ اس تقریب میں ڈپٹی کمشنرراجن پور ذولفقار علی خان، اسسٹنٹ کمشنر مراد حسین کے علاوہ سرائیکی وسیب کی نامور روحانی، مذہبی و سیاسی،کاروباری،صحافتی شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی سینکڑوں معزز شخصیات نے شرکت کی۔ سجادہ نشین دربارِفریدؒ خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ نے جب غسل کا آغاز کیا تو دربارِ فریدؒ حق فریدؒ یافریدؒ کے نعروں سے گونج اُٹھا۔کئی من عرقِ گلاب اور آبِ زم زم سے مزارِ فریدؒ کو غسل دیاگیا۔بعد میں مزار میں چادریں چڑھائی گئیں اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔غسل کی تقریب میں شا مل خاندان فریدؒ کی معزز شخصیات جن میں خواجہ شمس الدین کوریجہ،خواجہ کلیم الدین کوریجہ،ولی عہد دربارفریدؒخواجہ راول معین کوریجہ،خواجہ علی معین کوریجہ،خواجہ شریف محمدعامر کوریجہ خواجہ غلام فریدکوریجہ،خواجہ عزیرعامر کوریجہ،خواجہ عمیرعامر کوریجہ،خواجہ عماد کوریجہ،زونل منیجر س اوقاف ہ اور مقامی محکمہ اوقاف کے ملازمین بھی شامل تھے۔ اس موقع پر سجادہ نشین دربارِ فرید ؒ نے میڈیا کے نمائندوں کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال میں صوفیاء کی تعلیمات کی اشد ضرورت ہے۔اور اس وقت ہم جن شدید خطرات سے گزر رہے ہیں اس میں ہمیں اپنے اندر اتفاق اور یگانگت کو قائم کرنابے حد ضروری ہے۔ یہ ایک صوفی کے پیغام اور اس کی تعلیمات سے ہی حاصل کر سکتے ہیں اور پاکستان کو امن کا گہوارا بنایا جاسکتا ہے۔ جس کو دشمنوں نے ملکی لسانی علاقائی اور مذہبی حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں نفرتیں دشمنیاں اور عدم برداشت اپنے عروج پر ہیں۔جس کو ہم ملک کی سا لمیت کے لیے زہر قاتل سمجھتے ہیں۔ دربار اور آستانے آج بھی امن و آشتی کا پیغام دے رہے ہیں۔ لمحہ موجود میں کسی دربار پر آنے والے سے کوئی سوال نہیں کیا جاتا اور کسی سے بھی اس کے عقیدے اور شک کی بنیاد پر فرق نہیں کیا جاتا۔پاکستان کی بقاء صوفیاء کی تعلیمات میں ہے۔ اور یہی تعلیمات اس ملک کا مستقبل ہے۔ادھر عظیم صوفی شاعرر و حانی بزرگ حضر ت خواجہ غلام فرید ؒ کے پہلے روز مزار فریدؒ پرسلسلہ چشتیہ کی عظیم رسم محفل سماع ہوئی جس میں ملک بھر کے نامور قوالوں مہر علی اور شیر علی کے علاوہ دربارفریدؒ کے قوال میاں شاہدفرید،ربنواز، شمس خان، احمد یار،فداحسین،ممتاز احمد، بھنڈ مہار شریف، محمد شریف،محمد احسان فرید،لیاقت علی ، شمیم،غلام فرید سندھی، سلیم عربی، مظہر فرید کے علاوہ مختلف درباروں کے قوالوں نے صوفیانہ کلام پیش کیا جس سے سماع کیف و مستی میں ڈوب گیا۔ ہر طر ف سے وجد کی کیفیت طاری تھی۔محفل سماع کے اختتام پر ختم فاتحہ شریف پڑھاگیا اور دعا کی گئی۔نماز ظہر کے بعد لنگر کا وقفہ ہوا جس کے بعد خواجہ فرید فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام عظمت فرید کانفرنس کا انعقاد ہوا میں مختلف علماء کرام جن میں ڈاکٹر محمد صدیق خان قادری، علامہ سید محمد رمضان شاہ فیضی،سید عاشق رسول شاہ، سید اسماعیل شاہ، قاری خورشید احمد رضا نے صاحبِ عرس اور ہفت زبان صوفی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید ؒ کی شاعری اور شخصیت پر خطابات کیے جس کی صدارت ولی عہد مزار فرید خواجہ راول معین کوریجہ نے کیؒ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ ڈاکٹر صدیق قادری نے اس پر زور دیاکہ اعراس کو سرکاری سطح پر منایا جانے کاخاص اہتمام اور انتظام ہونا چاہیے۔ حکمران طبقہ ان اعراس میں شریک ہو کر امن کے پیغام کو فروغ دینے میں اپناکردار اداکریں۔ درباروں کے ساتھ امتیازی سلوک کو ختم کیا جائے اور محکمہ اوقاف کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ و ہ حاصل شدہ آمدنی سے ہر دربار پر اس صاحبِ دربار کی ریسرچ کے لیے ایک چیئر قائم کرے جس میں اسکالرز ان تعلیمات کو عام کرنے کے لیے اپنی تجاویز پیش کریں۔خطیب دربارفریدؒ علامہ سید کلیم شاہ نے کہاکہ بر صغیر پاک و ہند میں جہاں بھی اس وقت اسلام موجود ہے اس میں بزرگان دین کی خدمات کا بہت عمل دخل ہے۔اور اسلام کی روشنی ہم تک ان ہستیوں کے طفیل پہنچی۔سید عاشق رسول شاہ،سید اسماعیل شاہ اور قاری خورشید احمد رضا نے عظمت ِ فریدؒ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا 18سالہ روہی کا سفر بتاتا ہے کہ آپ کو عام اور غریب لوگوں سے کس قدر محبت تھی کہ آپ ؒ نے آرام چھوڑ کر تپتے صحرامیں زندگی کے بہترین 18سال گزار دیے۔اس وقت کے والی ریاست بہاولپور نواب صبح صادق (چہارم) نے اپنے پیر ومرشد خواجہ فرید سائیں کی وجہ سے وہاں پر چولستانیوں کو بہت ساری سہولیات بہم پہنچائیں اور آپؒ کی یہ پالیسی رہی کہ آپ نوابوں اور بڑے لوگوں سے ملاقات نہ پسند کرتے تھے۔

عرس

مزید : ملتان صفحہ آخر