معیشت کے لئے ایک اچھی خبر

معیشت کے لئے ایک اچھی خبر

  



عالمی معاشی درجہ بندی کے ادارے موڈیز انوسٹرز سروس نے پاکستانی معیشت کے بارے میں اپنی تازہ رپورٹ میں معاشی منظر نامے کو منفی سے بی تھری مستحکم کر دیا ہے۔ایسا آئی ایم ایف پروگرام کی پشت پناہی سے طے پانے والے اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے سے ممکن ہوا ہے۔ ایوان میں کہا گیا ہے کہ ادائیگیوں کی صورتِ حال بہتر ہوئی ہے۔زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔حکومتی پالیسیوں کی بدولت صورتِ حال مزید بہتر ہونے کا امکان ہے۔ درآمدات میں کمی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم رکھنے میں کردار ادا کر رہی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرمایہ کاری کے لیے پاکستان بھارت سے بہتر ہے۔پاکستان ایک بڑی معیشت ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مقرر کردہ ریونیو کا ہدف پورا کرنا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ موڈیز کی طرف سے پاکستانی معیشت کا آؤٹ لک منفی سے مستحکم کرنا، حکومتی کامیابی کی توثیق (اور تائید) ہے۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی اظہارِ مسرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی بہتری کے لیے کئے گئے حکومتی فیصلوں کے ثمرات ملنا شروع ہو گئے ہیں۔موڈیز کی رپورٹ اور معیشت کے بارے میں آنے والی مثبت اطلاعات کے باعث سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ بہتری دیکھنے میں آئی۔ انڈیکس9ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ایک روزہ کاروباری حجم کے اعداد و شمار بھی گزشتہ اڑھائی سال کی بلند ترین سطح پر پائے گئے۔تیزی کے باعث قریباً 75فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔مارکیٹ کے سرمائے میں ایک کھرب16ارب72کروڑ 31 لاکھ روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، نتیجتاً سرمائے کا مجموعی حجم 76 کھرب 25 ارب 79کروڑ16لاکھ روپے ہو گیا۔

اگست میں جب وزیراعظم عمران خان کی حکومت قائم ہوئی تھی تو بجٹ کا خسارہ مجموعی آمدنی کا6ء6فیصد تک بڑھ گیا تھا۔ بیرونی ادائیگیوں کا خسارہ مجموعی آمدنی کا 6فیصد، یعنی20ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ اس طرح کے حالات میں آئی ایم ایف سے رجوع کرنا ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان اس ادارے کا رکن ہے، اور اس کا قیام ہی رکن ممالک کو زرمبادلہ کی کمی کی صورت میں معاونت فراہم کرنے کی غرض سے عمل میں آیا تھا۔کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جس بلندی پر تھا، اس کا فوری تقاضہ تھا کہ آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دی جاتی۔نہ صرف زرمبادلہ کی ضرورت پوری کرنے کا سامان ہوتا، بلکہ اس کے اصلاحاتی ایجنڈے کی وجہ سے مزید بیرونی قرضوں کا حصول بھی ممکن ہو جاتا۔ آئی ایم ایف قرض بلا شرط فراہم نہیں کرتا۔ اس کی شرائط کے بارے میں مختلف آراء کا اظہار کیا جا سکتا ہے، لیکن اس سے انکار ممکن نہیں کہ روبہ زوال معیشت کو نظم و ضبط کا پابند بنانا اپنی جگہ اہم ہے۔ ثقہ معاشی ماہرین کی بہت بڑی تعداد کی رائے تھی کہ ملک جس گرداب میں پھنس گیا ہے،اس سے نکلنے کے لیے آئی ایم ایف پروگرام ناگزیر ہے۔بدقسمتی سے تحریک انصاف کے چیئرمین اور معاشی دماغ انتخابی مہم کے دوران آئی ایم ایف کو ڈریکولا بنا کر پیش کر چکے تھے، اور اس سے قرض لینے کو قومی غیرت کا سوال بنا چکے تھے،یہاں تک کہا گیا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کی بجائے خود کشی کو ترجیح دی جائے گی،اس لیے حکومت آئی ایم ایف سے رجوع کا بروقت فیصلہ نہ کر سکی۔اس کے معاشی دماغ اور اولین وزیر خزانہ اگر مگر میں پھنس گئے۔انہوں نے اپنے طور پر ایسے اقدامات شروع کر دیئے جو کہ آئی ایم ایف کا اتقاضہ بھی ہو سکتے تھے،لیکن غیر مربوط انداز میں کیے جانے والے فیصلوں کے اثرات وہ نہ نکل سکے،جن کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ بعداز خربی بسیار جب آئی ایم ایف سے رابطہ کیا گیا تو اس کا پروگرام مزید سخت ہو گیا۔حکومت روپے کی قدر میں کمی اور شرح سود میں اضافے کے یک طرفہ اقدامات کر چکی تھی، لیکن ان کے منفی اثرات مرتب ہوئے تھے اور معیشت مزید سست روی کا شکار ہو گئی تھی۔ سرمایہ کاری کا عمل رُک گیا تھا۔ بیرونی اور اندرونی دونوں محاذوں پر بے یقینی کے سائے گہرے تھے۔پیداوار میں کمی سے شرح نمو گزشتہ کئی سال کی کم ترین سطح پر آ گئی۔ دوست ممالک کی مدد نے کچھ سنبھالا دیا،لیکن سوراخ موجود رہیں تو ان میں جو کچھ بھی ڈالا جائے گا، اس کا اخراج ہوتا چلا جائے گا۔ خدا خدا کر کے آئی ایم ایف کا پروگرام شروع ہوا اور گذشتہ کئی ماہ کی سختی کے نتیجے میں مثبت اثرات نمودار ہونا شروع ہوئے ہیں۔اس دوران عوام کی مشکلات میں شدید اضافہ ہوا،مہنگائی اور کساد بازاری نے ان کا ناطقہ بند کیے رکھا۔ شرح نمو میں اضافے کی بات بھولی بسری کہانی بن کر رہ گئی،یہ خطرات اب بھی موجود ہیں،لیکن استحکام کے کچھ نہ کچھ آثار ابھی نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

اس صورتِ حال پر ایک حد تک اطمینان کا اظہار تو کیا جا سکتا ہے۔لیکن معاشی ترقی کی منزل ابھی بہت دورہے۔بے روزگاری اور کساد بازاری کے بوجھ تلے دبی ہوئی قوم یہ دُعا ہی کر سکتی ہے کہ ہمارے رہنماؤں کو یک سوئی کے ساتھ، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی توفیق نصیب ہو، اور پاکستان ایک بڑی معاشی طاقت بن کر ابھر سکے۔معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام اور دور رس پالیسیاں ضروری ہیں۔فوجی قیادت اور موجودہ حکومت کے درمیان تعاون کے گہرے رشتے نے حالات کو سنبھالا دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔دست ِ تعاون اپوزیشن کی طرف بھی بڑھنا چاہیے۔اس کی جائز شکایات دور کی جانی چاہئیں، تاکہ دھینگا مشتی میں توانائی ضائع نہ ہو۔ سب اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ترقی کا سفر جاری رکھ سکیں۔

مزید : رائے /اداریہ