توسیع کا مسئلہ اورحکومتی رویہ!

توسیع کا مسئلہ اورحکومتی رویہ!

  



پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چیف آف آرمی سٹاف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے لئے تعاون کا اعلان کر دیا ہے،انہوں نے ہسپتال میں آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ(ان کی جماعت) توسیع کے معاملے میں مکمل تعاون کرے گی،لیکن محسوس ہوتا ہے کہ اس کے لئے پہلے وزیراعظم کو جانا ہو گا کہ ان کی طرف سے اب بھی درست اقدام نہیں کیا جا رہا ہے،بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہم تو توسیع پر اتفاق رائے کے لئے تیار ہیں،لیکن وزیراعظم ایسا نہیں چاہتے۔صرف بلاول بھٹو زرداری ہی نہیں مسلم لیگ(ن) اور دوسری جماعتیں بھی اپنے اپنے طور پر رضا مندی کا اظہار کر چکی ہیں،لیکن حزبِ اقتدار(حکومت) کی طرف سے اس طرف پیش قدمی اس طرح نہیں کی جا رہی،جس کا تقاضہ ہے،بلکہ معاملہ ٹلانے کی سعی نظر آنے لگی ہے،حکومت نے جو سہ رکنی مذاکراتی ٹیم بنائی،اس نے ابھی تک حلیف جماعت ایم کیو ایم ہی سے رابطہ کیا اور اس ملاقات میں بھی یہ سننا پڑا کہ حکومت ہمارے(ایم کیو ایم) مطالبات پورے کرے اور یقین دہانی کرانا پڑی۔کہا تو یہ گیا کہ سہ رکنی کمیٹی اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کرے گی،لیکن تادم تحریر ایسی کوئی اطلاع نہیں،جبکہ حکومت نے6دسمبر کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔ شاید ان کو یقین ہے کہ مسئلہ چیف آف آرمی سٹاف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا ہے،اِس لئے سب از خود حمایت پر مجبور ہوں گے۔ایک حد تک یہ توقع درست ہے اور ایسے اعلان بھی سامنے آ چکے ہیں،لیکن توسیع کے لئے جب ترمیم سامنے لائی گئی تو اس بارے تنقیحات تو سامنے لائی جا سکتی ہیں۔یوں بھی اب حکومت(حزبِ اقتدار) کی طرف سے واضح موقف سامنے نہیں آیا،اٹارنی جنرل نے پہلے بتایا کہ سارے سروسز چیفس کی مدتِ ملازمت کے حوالے سے قانون سازی ہو گی، لیکن اب کہا کہ ملٹری رول255 میں ترمیم کی جائے گی،جس کا مقصد یہ ہوا کہ صرف چیف آف آرمی سٹاف ہی کا مسئلہ حل کرنا ہے، ہم نے گذارش کی تھی کہ اب یہ مسئلہ سامنے آیا ہے تو اس کے سارے پہلوؤں پر غور کر لیا جائے اور مربوط اور شفاف قانون سازی کی جائے،جو سارے چیفس کی مدتِ ملازمت پر محیط ہو۔اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ مزید تنازعہ ہو گا اور حکومت نے سادہ اکثریت سے فوجی قواعد میں ترمیم کی جو تجویز سوچی ہے اسی کے پیش ِ نظر صرف قاعدہ255 میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے۔یہ مناسب نہیں ہو گا اگر یہ کر لیاگیا تو معاملہ پھر سے عدالت عظمےٰ کے زیر سماعت آ جائے گا۔

مزید : رائے /اداریہ