سٹوڈنٹ یونینیں:ماضی اور حال کے آئینے میں

سٹوڈنٹ یونینیں:ماضی اور حال کے آئینے میں
سٹوڈنٹ یونینیں:ماضی اور حال کے آئینے میں

  



سٹوڈنٹ یونینوں کی بحالی کا مطالبہ ایک بار پھر کیا جانے لگا ہے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے نوجوان طلبہ اور طالبات بھی اس مہم کا حصہ ہیں۔ بادی النظر میں یہ مطالبہ درست معلوم ہوتا ہے، کیونکہ آئین پاکستان شہریوں کو تنظیم سازی کا حق دیتا ہے اور طالب علم، کیونکہ شہری بھی ہوتے ہیں، اس لئے یونین سازی ان کا بنیادی حق ہے جو انہیں دیا جانا چاہئے۔ ملک میں، کیونکہ اب جمہوریت کا راج ہے، اِس لئے اب کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا، جس کی وجہ سے طلبہ یونینوں کو کا لعدم رکھا جائے۔ ہمارے وفاقی وزیر با تدبیر فواد چودھری بھی طالب علموں کے اس حق کے بارے میں مثبت رائے دے چکے ہیں، لیکن ہمارے مقتدراور سوچ،بچار کرنے والے کچھ حلقوں کی رائے اس کے برعکس ہے، جس کے مطابق طالب علموں کو ہمہ وقت اور ہمہ تن گوش صرف اپنی تعلیمی سر گرمیوں پر توجہ دینی چاہئے،

کیونکہ مسابقت کے دور حاضر میں بہتر مستقبل کے لئے اچھی ملازمت اسی صورت میں مل سکتی ہے، جب آپ کے پاس ڈگری ہو اور وہ بھی اعلیٰ گریڈ کے ساتھ، اِس لئے حکمت کا تقاضہ ہے کہ نوجوانوں کو تعلیم و مہارت کے حصول پرہی مکمل توجہ دینی چاہئے۔ ماں باپ بھی اسی نقطہئ نظر کے حامی نظر آتے ہیں،ہمارے ہاں، کیونکہ تعلیمی اخراجات بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور عام لوگ انہیں بمشکل برداشت کر پاتے ہیں،اِس لئے وہ کسی طور بھی یہ پسند نہیں کرتے کہ ان کے بچو ں کی تعلیم اور دورانیہ تعلیم میں رخنہ پڑے اور وہ اعلیٰ سے اعلیٰ گریڈ حاصل نہ کر سکیں۔ ایسے ہی اسباب کے باعث وہ طلبہ یونینوں کی سرگرمیوں کے حا می نہیں بنتے اور اپنے بچوں کو تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں میں مصروف رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔

تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو طلبہ، تحریک پاکستان میں ہر اوّل کے طور پر شریک رہے ہیں۔ مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن کی تنظیم کے پرچم تلے نوجوانوں نے قائد اعظمؒ کے پیغام کو برصغیر پاک و ہندکے مسلم اکثریتی صوبوں تک پہنچایا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبہ آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تلے تحریک ِ پاکستان میں شامل ہوئے۔ہندی مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے حصول کے لئے مسلم لیگ نے محمد علی جناحؒ کی قیادت میں عظیم الشان جدوجہد کی۔اس کا روانِ جدوجہد کو منزل تک پہنچانے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نوجوانوں نے بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ بات بھی ہماری قومی تاریخ میں رقم ہوچکی ہے کہ مسلم لیگ کو ڈرائنگ روم پارٹی سے عوامی پارٹی بنانے میں جو جدوجہد محمد علی جناحؒ نے کی، اس میں مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن نے کلیدی کردار اداکیا، حتیٰ کہ تخلیق پاکستان کا معجزہ رونما ہوا اور عالم اسلام کی سب سے بڑی ریاست معرضِ وجود میں آئی۔قیام پاکستان کے وقت صرف ایم ایس ایف ہی واحد طلبہ نمائندہ تنظیم تھی،جو تھوڑے ہی عرصے میں گروہ بندی کے باعث اپنی اہمیت اور افادیت کھو بیٹھی۔

قیام پاکستان سے پہلے کا نگریس اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی طلبہ تنظیمیں بھی موجود تھیں۔قیام پاکستان کے بعد ایم ایس ایف کئی گروپوں میں تقسیم ہوگئی تو بائیں بازوکے لوگوں نے 1949ء میں ڈیمو کریٹک سٹوڈنٹ فیڈریشن قائم کی۔اس تنظیم نے طلبہ کے سیاسی، سماجی اور تعلیمی مسائل کو اُجاگر کیا۔اسی دور میں کمیونسٹ سٹوڈنٹ فیڈریشن بھی منصہ شہود پر آئی۔ نظریاتی بحث و مباحثہ شروع ہوا، لیکن ڈی ایس ایف نے تعلیمی اداروں میں نظریاتی و تنظیمی کا م کیا اور نوجوانوں کے دل و ذہن جیتے۔ 1951ء میں اس تنظیم نے قومی انتخابات میں اپنا حلقہ اثر قائم کیا۔اسی دوران ڈی ایس ایف اور سی ایس ایف کے درمیان چپقلش شروع ہوگئی لڑائی جھگڑا اور دنگا فساد ہونے لگا،حتیٰ کہ 1954ء میں دونوں تنظیموں سمیت طلبہ یونینوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔

1958ء میں مارشل لاء لگ گیا۔ اسٹیبلشمنٹ نے نیشنل سٹوڈنٹ فیڈریشن کے قیام کا ڈول ڈالا تاکہ نوجوانوں میں، تعلیمی اداروں میں جنرل ایوب خان کی حکومت کے لئے حمایت حاصل کی جاسکے، لیکن لبرل اور لیفٹ کے نظریاتی نوجوانوں نے اس تنظیم پر اپنی گرفت قائم کرلی اور 1968-9ء میں جنرل ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک میں بنیادی کردار ادا کیا۔1960ء کی دہائی کے وسط میں دائیں بازوکے نظریات رکھنے والی جماعت ِ اسلامی نے اسلامی جمعیت طلبہ قائم کی۔ مولانا مودودیؒ کے تخلیق کردہ لٹریچر کے سائے میں اس تنظیم نے نوجوانوں کو متاثر کرنا شروع کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں جمعیت نے ایک موثرتنظیم کے طور پر اپنا لوہا منوالیا۔ جنرل ایوب خان کے زوال کے بعد ذوالفقار علی بھٹو ایک قومی سیاسی رہنما کے طور پر ابھرے۔ انہوں نے پاکستان کے ہر طبقہ ئ فکر کے لوگوں کو متاثر کیا۔ 1971ء میں سقوط مشرقی پاکستان کے بعد باقی ماندہ پاکستان کی باگ دوڑسنبھالی اور ملک ایک نئی منزل کی طرف عازم ِ سفر ہو!اسی دور میں آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹ آرگنائزیشن قائم ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے کراچی میں پھیل گئی۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کی ذیلی طلبہ تنظیم نے بھی تعلیمی اداروں میں پر پرزے نکالنے شروع کئے۔

جمعیت کو پنجاب میں پیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن اور کراچی میں آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹ آرگنا ئزیشن کا سامنا کرنا پڑا۔ نظریاتی جدل شروع ہوا، تشدد کا عنصر بھی داخل ہو ا، جمعیت اس سے پہلے نظریہئ پاکستان کے تحفظ کے لئے مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ اور انڈین مکتی باہنی کا سامنا کر چکی تھی۔جمعیت کے نوجوان البدر اور الشمس کی تنظیموں کے پرچم تلے پاک فوج کے ساتھ مل کر دفاع پاکستان کے لئے مسلح جدوجہد بھی کر چکے تھے۔پیپلز پارٹی کے دور حکمرانی میں نظریاتی جدل عروج کو پہنچا۔پچاس کی دہائی میں سیاسی بنیادوں پر قادیانیوں کے خلاف محاذ اٹھایا گیا تھا،لیکن 70ء کی دہائی میں ربوہ ریلوے سٹیشن پر جمعیت کے نوجوانوں کے ساتھ قادیانیوں کے تصادم سے شروع ہونے والی قادیانیت مخالف تحریک پورے ملک میں پھیل گئی،حتیٰ کہ ذوالفقار علی بھٹو کو آئین پاکستان میں ترمیم کے ذریعے مسئلہ قادیانیت کو حتمی طور پر حل کرنے کی ترغیب ملی۔ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے کا کارنامہ بھی جمعیت نے سر انجام دیا۔پھر جنرل ضیاء الحق کے دور ِ حکمرانی میں نظریاتی کشمکش اور بھی بڑھ گئی۔ کمیونزم اور اسلام کے حوالے سے نظریاتی مباحث نے ہمارے تعلیمی اداروں میں تصادم کو ہوا دی،حتیٰ کہ 1984ء میں طلبہ تنظیموں پر دوبارہ پابندی عائد کر دی گئی اور یہ سلسلہ ہنوز جا ری ہے۔

اب ایک بار پھر سٹوڈنٹ یونینوں کی بحالی کا مطالبہ سامنے آنے لگا ہے۔ طالب علموں کی تنظیم سازی کا حق، ہمارے سیاسی نظام کے ساتھ جڑا ہوا ہے، آئین پاکستان(1973ء کاآئین)شہریوں کو تنظیم سازی کا حق دیتا ہے۔آئین پاکستان شہریوں کوآزادیئ تقریر و تحریرکے حق کی طرح اپنے نمائندے چننے کا حق بھی دیتا ہے اور یہ حق بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے، لیکن پاکستان میں آئین کی بالادستی کے حوالے سے معاملات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہیں۔ہماری قومی سیاسی تاریخ ایسے سانحات سے بھری پڑی ہے، جب آئین کے تقدس کو پامال کیا گیا۔ویسے تو آئین سازی کی تاریخ بھی بہت زیادہ روشن نہیں ہے۔ ہمارے سیاست دانوں نے سیاسی عمل کو جاری و ساری رکھنے اور ملک کا نظم و نسق رواں دواں رکھنے کے لئے آئین سازی میں بھی کوئی شاندار تاریخ رقم نہیں کی۔نوجوانوں کے یونین سازی کے مطالبے کو سمجھنے اور اس پر رائے دینے کے لئے ضروری ہے کہ ہم پاکستان میں جمہوریت کی تاریخ کا اجمالی جائز ہ بھی لیں، آئین اور جمہوریت ہی کے ذریعے طالب علموں کو تنظیم سازی کا حق دیا جاسکتا ہے، کیونکہ اگر ملک میں جمہوریت ہو گی اور آئین کی بالادستی ہو گی، تبھی نوجوانوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق مل سکے گا۔ قیام پاکستان کے بعد ہم 9سال تک آئین ہی تشکیل نہیں دے سکے۔ سول بیورو کریسی منہ زور ہونے لگی،سیاسی اداے قائم نہ ہو سکے، حکومتیں بننے اور ٹوٹنے لگیں،بلکہ بنائی اور گرائی جانے لگیں۔

1956ء میں 9سال کی تاخیر کے بعد پہلا آئین بنا، لیکن وہ دو سال بھی نہ چل سکا۔ سکندر مرزانے آرمی چیف جنرل ایوب خان کو مارشل لاء لگانے کی دعوت دی،حتیٰ کہ 17دِنوں کے بعد جنرل ایوب خان نے صدر سکندر مرزا کو بھی رخصت کر دیا اور پورے ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔سیاسی عمل مکمل طور پر روک دیا گیا، پھر 1962ء میں جنرل ایوب خان نے ملک کو دستور دیا،1969ء میں خود ہی اس دستور کی بساط لپیٹ کر اقتدار ایک اور جنرل یحییٰ خان کے سپرد کرکے رخصت ہو گئے۔ 24سال تک ہم فیصلہ ہی نہ کر سکے کہ ہمارا ملک کیسے چلے گا؟…… جمہوریت یا ڈکٹیٹرشپ ……اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو 1973ء کا دستور دیا اور پارلیمانی جمہوریت کا آغاز ہوا۔ہر طبقہ ئ فکر کو آزادی ملی، مزدور وں، کسانوں، طالب علموں، صحافیوں اور محنت کشوں کو تنظیم سازی کی اجازت ملی، لیکن بدقسمتی سے جمہوری حکومت کی پالیسیوں اور حکمت عملیوں نے تھوڑے ہی عرصے میں معاشی، سماجی اور سیاسی سطح پر عدم اطمینان اور عدم استحکام پیدا کر دیا، تعلیمی ادارے ”ایشیا سبز ہے“ اور ”ایشیاسرخ ہے“کے نعروں سے لڑ کھڑانے لگے۔ نظری و فکری بحث، مباحثے ہونے لگے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف لاوا پکنے لگا،جو 1977ء کی تحریک ِنظام مصطفی کی صورت میں اُبل پڑا، حتیٰ کہ جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کردیا،جو گیارہ سال تک مسلط رہا۔ پھر 1988ء میں C-130 کے حادثے کے بعدملک میں نئے جمہوری دور کا آغاز ہوا، لیکن آج 31 سال گزر جانے کے با وجود طلبہ کو تنظیم سازی کا آئینی حق نہیں مل سکاہے۔ (جاری ہے)

مزید : رائے /کالم