حکمرانی اور بیورو کریسی (2)

حکمرانی اور بیورو کریسی (2)
حکمرانی اور بیورو کریسی (2)

  



پاکستان میں بیورو کریسی کی تاریخ روزِ اول سے انوکھے انداز کی تاریخ ہے۔ بیورو کریسی نے جمہوریت کی کوکھ سے جنم لیا۔ سیاستدانوں کو کاروبارِ حکومت چلانے کے لئے جس مشینری کی ضرورت تھی وہ کابینہ نہیں، بیورو کریسی تھی۔ دوسرے لفظوں میں اصل اور فنکشنل حکمرانی، سیاستدانوں کے پاس نہیں بیورو کریٹس کے پاس تھی(اور ہے)۔ سیاستدانوں کا تعلق عوام سے تھا کہ عوام جن نمائندوں کو منتخب کرتے تھے وہ خود عوام میں سے ہوتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جمہوریت کی اس تعریف (Definition) نے جنم لیا جو بڑی دلفریب اور پرکشش تو تھی لیکن حقیقت سے دور تھی۔ ”عوام کی حکومت، عوام کے لئے اور عوام کی طرف سے“ ایک دلکش لفاظی تھی جس نے عوام کی توجہ اپنی طرف کھینچی۔

لیکن جب ان لفظوں کو عمل میں ڈھالنے کا چیلنج درپیش ہوا تو ”عوام“ کی بجائے ”خواص“ کو آگے لانا پڑا۔یہی خواص تھے جو عوام سے بالاتر تھے اور جو بیورو کریٹ کہلائے۔ یعنی جمہوری طرزِ حکمرانی میں نام عوام کا استعمال ہوا لیکن کام خواص کرتے رہے۔ کابینہ تشکیل ہوئی تو ہر وزیر کو ایک سجا سجایا دفتر مل گیا، دفتر کا عملہ مل گیا جس میں چپڑاسی تھا اور ریڈر تھا۔ ریڈر چونکہ زیادہ لکھا پڑھا تھا اس لئے کلرک کہلایا۔ برطانوی ہند میں اول اول جس کلرک نے رفتہ رفتہ کلرکی کے حصار سے نکل کر حکمرانی کی منازل طے کیں اس کا نام کلائیو تھا۔ یہی کلائیو بعد میں لارڈ کلائیو کہلایا۔ میں نے کالج کی لیکچراری کے زمانے میں اس کلرک کلائیو کی تدریجی حکمرانی پر ایک سادہ سی نظم کہی تھی، اسے آج بھی یاد کرتا ہوں تو قرینِ حقیقت پاتا ہوں۔ یہ بھی یاد پڑتا ہے کہ میں نے بہت عرصہ پہلے بھی انہی صفحات میں اسے کوٹ کیا تھا، میرا خیال ہے بارِدگر اس کا حوالہ ناموزوں نہیں ہو گا۔ نظم یہ تھی:

(1)

اک  کافر لارڈ کلائیو تھا

انگلینڈ کا رہنے والا تھا

مکار، فریبی، متکبر

نہ گھر، نہ گھاٹ زمین کوئی

نہ نام و نسب، نہ دین کوئی

(2)

نہ شکل نوابوں جیسی کوئی

نہ ادب آداب بزرگوں کا

نہ گبھرو مان جوانوں کا

پوشاک عجب بے ڈھنگی سی

ہر بات اس کی افرنگی سی

(3)

ہر شام کلبوں میں جاتا

ہر رات بہکتا، بہکاتا

نہ خوفِ خدا کچھ سینے میں 

نہ عقل نہ موت کمینے میں 

نہ چرچ میں آتا جاتا تھا

بحری ڈاکو کہلاتا تھا

(4)

پھر ایک جہاز پہ بیٹھ کے وہ

جب واردِ ہندوستان ہوا

تو اس افرنگی، متکبر

بے دین، کمین، کلائیو نے

مغلوں، مرہٹوں، جاٹوں کو

نوّابوں اور نظاموں کو

کم ذات، ملیچھ، ہریجن کو

سید، سلطان، برہمن کو

سب اہلِ کتاب و سنت کو

گیتا کے گیانی پنڈت کو

ملاّکو، صوفی و سالک کو

نانک کے گرنتھی بالک کو

(5)

بس چار دنوں میں رام کیا

اور سب کا کام تمام کیا

(6)

اے کاش ہمارا بھی یارو 

ہم کیش کوئی، ہم قوم کوئی

پابندِ صلوٰۃ و صوم کوئی

تہذیب و شرافت کا پتلا

جانباز، بہادر، شیرافگن

حضرت، مولانا، شاہ صاحب

اس کافر لارڈ کلائیو کو

ہاتھوں میں لئے شمشیرِ اجل

انگلینڈ کا رستہ دکھلاتا

تاریخ میں غازی کہلاتا!

یہ کلرک کلائیو جو بعد میں کرنل کلائیو اور اس کے بعد لارڈ کلائیو بنا، برٹش بیورو کریسی کے تدریجی ارتقا کا منہ بولتا ثبوت تھا جو ایسٹ انڈیا کمپنی میں ایک جونیئر کلرک بن کر آیا اور اپنی ذاتی صلاحیتوں سے بہرہ مند ہو کر 1756ء کی جنگ پلاسی میں نواب سراج الدولہ کو شکست دی اور برصغیر میں برطانوی حکومت کا سنگِ بنیاد رکھا۔ اس کے پورے دو سو برس بعد 1956ء میں قیامِ پاکستان کو ابھی ایک عشرہ بھی نہیں گزرا تھا کہ برطانوی جمہوریت کی وارث، پاکستانی جمہوریت میں اس دور کے تین بڑے بیورو کریٹس نے پاکستان کی عنانِ اقتدار سنبھال لی۔ چودھری محمد علی، غلام محمد اور اسکندر مرزا نے ایوانِ سیاست میں قدم رنجہ فرمایا اور پاکستان کی قومی قیادت کا رول سنبھال لیا۔ غلام محمد نے جس طرح خواجہ ناظم الدین کو ڈسمس کیا، اسکندر مرزا نے جس طرح 1956ء کا دستور توڑا، مارشل لاء نافذ کیا اور پاک آرمی کو آنے والے دس برسوں میں مسندِ اقتدار پر فائز کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ لیکن باایں ہمہ آپ اس دور کی سینئر بیورو کریسی کو بہ تمام و کمال اس کایا پلٹ کا ذمہ دار بھی نہیں ٹھہرا سکتے۔ یہی وہ نوکرشاہی (یا افسر شاہی)تھی جس نے پاکستان کے اولین گیارہ برسوں (1947ء تا 1958ء) میں اس نوزائیدہ مملکتِ خداداد کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا۔

ایوب خان کے مارشل لاء میں سیاستدانوں اور بیورو کریٹس پر بہت دباؤ آیا۔ سیاست ”کھڈے لائن“ لگا دی گئی اور سیاستدانوں کو کسی بامعنیٰ سیاست میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔ ایوب خان نے آتے ہی اپنے اقتدار کے پہلے برس میں درجن بھر سینئر ICS افسروں کو فارغ خطی دے دی۔ ]پاکستان کے قیام کے بعد انڈین سول سروس (ICS) کو پاکستان سول سروس (CSP) کہا جانے لگا[۔ سینئربیورو کریسی کے پَر کترنے کی وجہ وہ اولین بیورو کریٹس تھے (چودھری محمد علی، غلام محمد اور اسکندر مرزا)جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ چادر سے باہر پاؤں پھیلائے۔ آیا ایوب خان کو ان سے کوئی ذاتی پرخاش تھی اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایوب خان نے بیورو کریسی کو آرمی کے ماتحت کرنے کی ابتدا کی۔ 1962ء میں جب انہوں نے مارشل لاء اٹھایا تو سول سروس کا رول بالخصوص ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ لیول پر بہت حد تک بحال ہو گیا۔ ڈویژن کے کمشنروں اور اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو وہ اختیارات سونپ دیئے گئے جو دستور میں ان کا حصہ تھے۔ مجھے یہ کہنے میں بھی کچھ باک نہیں کہ ایوب خان اکثر سینئر بیورو کریٹس کی دانش و بینش کے قائل تھے۔ یہ وہی دور تھا (1959ء تا 1969ء) جس میں ملک میں میگا پراجیکٹس قائم کئے گئے اور اسے مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں افسر شاہی نے اہم رول ادا کیا۔

ایوب خانی دور کو تعمیر و ترقی اور خوشحالی و مرفع الحالی کا عشرہ قرار دیا گیا اور اس کا ڈھنڈورہ اتنے زور و شور سے پیٹا گیا کہ بیورو کریسی کی واہ واہ ہونے لگی۔ جیسا کہ قبل ازیں لکھ آیا ہوں اصل حکومت دراصل بیورو کریسی کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ اس لئے اس منہ زور گھوڑے کو لگام ڈالنا ہر دور کے فوجی اور سویلین حکمران کا دردِ سر رہا ہے۔ یہ دردِ سر آج بھی پی ٹی آئی حکومت کے اولین ”15ماہی دور“ میں دیکھا جا سکتا ہے…… اور یہی مسئلہ آج کے کالم کا موضوع بھی ہے……

ایوب خان کے بعد یحییٰ خان کا مارشل لاء آیا تو انہوں نے اپنے ٹاپ بیورو کریٹس کو کرپشن اور بدعنوانی کا الزام لگا کر فارغ کر دیا۔ ان کی تعداد 303تھی یہ سب کے سب ایوب خان کے چہیتے بیورو کریتس گردانے گئے۔ یحییٰ خانی دور میں ملک دو لخت ہوا لیکن سقوطِ مشرقی پاکستان میں بیورو کریسی کا کوئی رول نہ تھا۔ اگر تھا تو وہ فوج کا ٹاپ براس تھا جس کی نااہلی نے قوم کو یہ روزِ بدر دکھایا۔

یحییٰ خان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو آئے۔ اور فوجی مارشل لاء کو سویلین مارشل لاء میں تبدیل کر دیا۔بھٹو نے بھی اپنے اس مارشل لائی دور میں 1400سے زائد سول سرونٹس کو بیک بینی و دوگوش نکال باہرکیا۔ نہ صرف یہ کہ بھٹو نے سول سروس آف پاکستان (CSP) کو ختم کیا بلکہ سینئر عہدوں کے لئے لیٹرل انٹری (باز دی انڈکشن) کا نظام بھی رائج کیا…… مطلب یہ کہ قیام پاکستان کے بعد صرف 25برسوں میں (1947ء تا 1972ء) تین بار سول سروسز نے تھوک کے بھاؤ اپنے نکالے جانے کی سزا کیوں پائی اس کے لئے ایک سنجیدہ ریسرچ پیپر کی ضرورت ہے۔ اس تحقیق میں یہ نکتہ بھی شامل کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ ضیاء الحق کے مارشل لائی دور اور اس کے بعد، فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین کے تقرر میں سیاسی رہنماؤں نے بیورو کریسی کے اس انتہائی اہم ادارے کو بھی سیاست زدگی کا شکار بنا دیا۔فوجی آمروں نے فوجی جرنیلوں کو اور سیاسی رہنماؤں (وزرائے اعظم) نے اپنے پسندیدہ سیاسی لوگوں کو اس عہدۂ جلیلہ پر فائز کرکے سول سروسز کا جو حشر کیا، اس کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک نہایت تجربہ کار CSP بیورو کریٹ سید منیر حسین نے اپنی خود نوشت Surviving the (Wreckمطبوعہ 2015ء)میں لکھا:

”آج قوم کو جو بڑی مشکل درپیش ہے وہ یہ ہے کہ پبلک سروس کے عہدیداروں کی کارکردگی روبہ انحطاط ہے، یہ بیورو کریسی، انتظامیہ کا ایک جزوِ لازم ہوتی ہے لیکن اس کی پرفارمنس اتنی گر چکی ہے کہ جس نے گورننس کے معیار کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ یہ امر بھی باعثِ تشویش ہے کہ قیام پاکستان کے بعد جس سروس نے ایک ڈگمگاتی صورتِ حال کو استحکام بخشا تھا اور بہت سی مشکلات کے باوجود ریاست کے معیارِ حکمرانی کو اوپر لے گئی تھی اسی سروس کی کارکردگی کا گراف آج بہت نیچے گر چکا ہے“……(دیکھئے کتاب کے صفحہ 262کا پہلا پیراگراف)

جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا قیامِ پاکستان کی ابتدائی ربع صدی میں سول سروس پر جو گزری اور یکے بعد دیگرے ایوب خان، یحییٰ خان، بھٹو اور ضیاء الحق نے بغیر کوئی صائب وجہ بتائے سینکڑوں بیورو کریٹس کو جو سیک کیا تو اس سے اس سروس کے بلند امیج کو اپنی بقاء کے چیلنج کا سامنا بھی ہوا۔ شائد یہی وجہ تھی کہ سروس میں ایک طرح کی گروہ بندی شروع ہوگئی۔ ہر رکن اپنے گروپ کے دوسرے اراکین کے ساتھ ”اندر خانے“ یک جہتی کرنے لگا۔ پاکستان کے ساتھ یک جہتی کی جو سزا اس سروس نے پائی اس کا انتقام لینے کا عزم مرورِ ایام کے ساتھ زیادہ پختہ ہوتا چلا گیا اور نوبت بہ اینجا رسید کہ سینئر بیورو کریٹس نے اپنے مستقبل کو استحکام دینے کے لئے اپنا دامن کسی نہ کسی حکمران سیاسی جماعت سے وابستہ کر لیا۔

فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو جب حکومتی سرپرستی مل گئی تو اس نے پاکستان کی بجائے سرپرست سیاسی حکمرانوں اور ان کے عزیز و اقربا کو نوازنا شروع کر دیا۔ اس طرح ”میرٹوکریسی“ کا زوال شروع ہوا اور اوپر سید منیر حسین کی خود نوشت کا جو حوالہ دیا گیا وہاں تک نوبت آ گئی۔ لیکن چونکہ یہ انحطاط یکدم نہیں آیا بلکہ آہستہ آہستہ اور متواتر گراوٹ نے اسے جنم دیا اس لئے اگر اس کا علاج کرنے کی آج کوشش کی جائے تو اس کے اثرات مستقبل قریب میں نہیں،شائد مستقبل بعید میں دیکھنے کو ملیں اور وہ بھی اس شرط سے مشروط ہوں کہ مقابلے کے امتحانوں میں صرف اور صرف میرٹ کو زیرِ نظر رکھا جائے گا۔

اب پنجاب میں اور مرکز میں بھی بڑے پیمانے پر بیورو کریٹس کے تقرر اور تبادلے کی جو ہوا چلی ہے وہ خالی از علت نہیں۔ حکومت نے بہت عرصہ تک غور و خوض سے کام لیا۔ کلیدی عہدوں پر یکے بعد دیگرے جلد جلد تقرریاں اور تبادلے کئے گئے لیکن جب حسبِ خواہش نتائج سامنے نہ آئے تو معاملے کو مزید چھانا اور پھٹکا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ چھان پھٹک بھی کوئی مستقل علاج نہیں۔ میرا خیال ہے حکومت کو ابھی اس قسم کے دو تین مزید سائیکل چلانے پڑیں گے چادر زیادہ میلی ہو تو کئی بار واشنگ مشین میں ڈالنی پڑتی ہے!(ختم شد)

مزید : رائے /کالم