طلباء یکجہتی ریلیاں لاہور میں بھی مظاہرہ، مقدمہ بھی درج،فواد چودھری کی حمائت!

طلباء یکجہتی ریلیاں لاہور میں بھی مظاہرہ، مقدمہ بھی درج،فواد چودھری کی ...

  



لاہور سے چودھری خادم حسین

وزیراعظم عمران خان ہفتہ رفتہ میں لاہور آئے تو انہوں نے باوثوق ذرائع اور اندرونی بات چیت والی تمام تر خبروں کا دھڑن تختہ کر کے تبدیلیوں کی بجائے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کلا مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ کابینہ پر بھی اعتماد کا اظہار کر دیا حتیٰ کہ انہوں نے بزدار مخالف قوتوں کو بھی خبردار کر دیا اور بتایا کہ وہ بقایا چار سال وزیراعلیٰ رہیں گے۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی کئی ملاقاتوں سے یہ تاثر پھیلایا گیا کہ کپتان کو اپنی پنجاب کی ٹیم سے مایوسی ہوئی اور وہ صوبائی گورننس کے حوالے سے مایوس اور برہم ہیں لہٰذا لاہور جاکر تبدیلیاں کریں گے لیکن انہوں نے یہ سب مٹی میں ملا کر رکھ دیا، پنجاب میں چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس کی تبدیلی کے بعد تبادلوں کا جو سونامی آیا شائد یہی بڑی خبر تھی۔ کابینہ کی حد تک خبریں درست ثابت نہیں ہوئی۔ کپتان عمران خان نے اس مرتبہ پہلی بار یہاں باقاعدہ پریس کانفرنس کی اور بیٹ رپورٹروں کے سوالات کے جواب بھی دیئے۔ انہوں نے اپنے سابقہ بیانات کو دہرایا اور پروگراموں کی بات کی تاہم تبدیلی کی ہوا کے حوالے سے تمام سرکاری افسروں کو بھی ہلاشیری دی اور ان سے کہا کہ وہ کسی کے بھی کہنے پر کوئی غیر قانونی کام نہ کریں۔ وزیراعظم نے بہرحال یہاں بھی دہرانا ضروری جانا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مافیاز کو شکست ہوئی ہے۔ انہوں نے یہاں مولانا فضل الرحمن کو بھی یاد کیا اور ان پر پھر سے ”ڈیزل“ والی پھبتی کسی۔ وزیراعظم نے کافی مصروف وقت گزارا، کابینہ کے اجلاس میں شریک ہوئے اور تبادلہ خیال بھی کیا، وزیراعظم کی واپسی کے بعد وزیراعلیٰ عثمان بزدار بھی متحرک ہوئے اور انہوں نے پروٹوکول کے بغیر شہر کا دورہ کیا اور خصوصی طور پر صفائی کی حالت کا جائزہ لیا۔

دوسری طرف تحریک انصاف میں تادیبی کارروائی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور بنیادی رکن حامد خان ایڈووکیٹ کو اظہار وجودہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کی جماعتی رکنیت معطل کرکے سات روز میں جواب طلب کر لیا ہے۔ حامد خان نے تحریک انصاف میں دیرینہ اور بنیادی کارکنوں کو نظر انداز کرنے کا مسئلہ اٹھایا تھا، اب وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ان کو سرخرو کیا۔حامد خان پارٹی کے قومی اسمبلی کے لئے ٹکٹ ہولڈر بھی ہیں، اب ان کو سیکرٹری جنرل کی طرف سے جاری کئے گئے اظہار وجوہ کے نوٹس کا جواب دینا ہو گا۔

لاہور میں سوموار کو شعبہ طب اور شعبہ قانون کے رکھوالوں کے احتجاج کا بھی نظارہ کرنا پڑا وکلاء نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور ڈاکٹر حضرات نے علاج چھوڑ کر احتجاج کیا، فریقین کے درمیان بعض حلقوں کی کوشش کے باوجود مفاہمت یا مصالحت نہیں ہو سکی۔ وکلاء کا مطالبہ ہے کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء پر تشدد (مبینہ) کرنے والے ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف والوں کو گرفتار کیا جائے جبکہ ڈاکٹروں کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ ان وکلاء کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی کی جائے جنہوں نے پی آئی سی میں ہنگامہ کیا۔ یوں یہ تنازعہ تاحال حل طلب ہے اور اس تنازعہ سے نقصان عوام کا ہو رہا ہے۔

اپنے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری بڑے متحرک وزیر ہیں۔ بنیادی شعبہ تو وکالت کا ہے لیکن وہ سیاسی سائنس پر بھی بہت عبور رکھتے ہیں۔ حال ہی میں چیف آف آرمی سٹاف کے حوالے سے عدالتی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اداروں کے درمیان نئے میثاق کی ضرورت پر زور دیا۔ فواد چودھری کا کہنا تھا کہ اداروں کے درمیان میثاق ہی مسائل کا واحد حل ہے۔ فواد چودھری نے لاہور میں مصروف دن گزارا، کئی دوستوں سے بھی ملاقات کی اور میڈیا سے گفتگو کی۔ فواد چودھری نے کہا کہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔

اسی شہر میں طلباء، یکجہتی کے حوالے سے جلوس بھی نکالا گیا جو ناصر باغ سے فیصل چوک پہنچا اور جہاں تقریریں بھی ہوئیں۔ طلباء یکجہتی کے یہ مظاہرے پورے ملک کے بڑے شہروں میں ہوئے ان میں ترقی پسند حضرات، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی کئی انجمنوں نے بھی شرکت کی۔ ان مظاہرین نے ترقی پسندانہ نعرے بھی لگائے۔

انتظامیہ نے مظاہرین سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ تاہم ایک روز بعد ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اس میں اشتعال انگیز اور اداروں کے خلاف تقریروں کا الزام ہے۔ اس مقدمہ میں نامزد حضرات بھی ہیں تاہم مجموعی طور پر تین سو افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔

مزید : ایڈیشن 1