ایوان اقتدار میں جنوبی پنجاب والوں کا بڑا حصہ، عوام کے مسائل جوں کے توں

ایوان اقتدار میں جنوبی پنجاب والوں کا بڑا حصہ، عوام کے مسائل جوں کے توں

  



ملتان سے قسور عباس

جنوبی پنجاب کی سیاست نہ صرف شروع دن سے ملکی سیاست پر اثر انداز ہوتی آرہی ہے بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے قائم ہونے والی جمہوری حکومتوں میں سے کوئی بھی حکومت ایسی نہیں گزری جس کے وزراء ومشیروں کی ٹیم میں تین ڈویژنز پر مشتمل جنوبی پنجاب کے منتخب ارکان اسمبلی شامل نہ ہوں بلکہ پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں تو ملتان سے منتخب رکن قومی اسمبلی سید یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئے تھے جبکہ ان سے پہلے ضلع ڈی جی خان کے علاقے چوٹی زیریں سے تعلق رکھنے والے مرحوم سردار فاروق احمد خان لغاری صدر پاکستان کے عہدے پر براجمان رہ چکے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ گورنر و وزیر اعلی پنجاب کا منصب بھی متعدد بار اس خطہ سے کامیاب ارکان صوبائی اسمبلی کے حصے میں آچکا ہے، مگر اس کے باوجود خطہ کی محرومی اور پسماندگی ختم ہونے کی بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید بڑھتی جارہی ہے جوکہ لمحہ فکریہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں سے نسل درنسل منتخب ہونے والے سیاستدانوں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے کہ وہ جن وعدوں اور دعوؤں کے سہارے اپنے لئے اقتدار کو ممکن بناتے ہیں منتخب ہونے کے بعد انہیں یکسر فراموش کیوں کردیتے ہیں شاید ان عہد و پیماں کی حیثیت ان کے سامنے الیکشن کمپئین میں بطور ہتھیار کے سوا اور کچھ نہ ہو مگر اُ نہیں اس بات کا بھی واضع ادراک ہونا چاہیے کہ عوام انہیں بڑی امید اور چاہت کے ساتھ اس منصب تک پہنچاتے ہیں جنہیں وہ اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں پورا کرنا تو دور کی بات اس کے بارے میں اسمبلی اجلاسوں میں بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس خطہ کے باسی دور جدید کے باوجود آج بھی نہ صرف غلامانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں بلکہ صحت و صفائی،تعلیم،سیوریج اور پینے کے صاف پانی سمیت دیگربنیادی ضروریات زندگی سے محروم نظر آرہے ہیں اور یہاں سے منتخب ہوکر اسمبلیوں کی زینت بننے والے سیاستدانوں کا سار ا زور عوام کو درپیش مسائل حل کرانے کی بجائے اپنے اپنے حلقوں میں مرضی کے ایس ایچ اوز،تحصیلدار اور پٹواری لگوانے تک ہی محدود رہتا ہے تاکہ وہ تھانہ کچہری کی سیاست سے اپنے دور اقتدار کو اگلے پانچ سالوں کیلئے یقینی بناسکیں تبدیلی اور نیا پاکستان بنانے کی دعویدار پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بھی اپنے آپ کوتاحال تھانہ کچہری کی سیاست سے نہیں نکال پار ہی اب کہیں 14ماہ سے زائد کا عرصہ گزارنے کے بعد انہوں نے آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری کو تبدیل کرنے کے بعد صوبہ بھر میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی ہے جس سے جنوبی پنجاب کے گیارہ اضلاع میں موجود کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز سمیت دیگر انتظامی عہدوں پر تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ تبدیلی سرکار کی موجودہ تبدیلی کس قدر کارآمد ثابت ہوتی ہے یا پھر وہ تاثر اُسی طرح برقرار رہے گا جس کا ذکر وزیر اعظم عمران خان سمیت دیگر پارٹی رہنما متعدد بار کرچکے ہیں بیوروکریسی ملک کے انتظامی معاملات کو احسن طریقے سے چلانے میں سب سے بڑی رکاؤٹ ہے، جس کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا؟ مگر اس تبدیلی اور وزیر اعظم عمران خان کے دورہ لاہور کے بعد جو ان ہاؤس تبدیلی اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے تبدیل ہونے کی خبریں گردش کررہی تھیں وہ کسی حد تک اپنی موت آپ مرچکی ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ ملتان بہاولپور اور اپنے آبائی شہر ڈیرہ غازی خان کے خصوصی دورے پرآئے جہاں پر انہوں نے ہائی کورٹ بار ملتان و بہاولپور اور ڈی جی خان بار ایسوسی ایشن کی منعقدہ تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جج اور عام آدمی میں فرق فیصلہ دینا ہے اگر جج عدالت میں کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ نہیں دیتا تو اس میں اور عدالت کے قاصد میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں جوڈیشل سسٹم کو مضبوط بنانے کے ساتھ وکلاء کی پرانی روایات کو بھی بحال کرنا ہوگا اور نوجوان وکلاء کو تربیت دینی ہوگی تاکہ ایک گاڑی کے دو پہیوں کے آگے بندھے گھوڑے یعنی سائل کو انصاف فراہم کیا جاسکے، میں نے پانچ سال قبل یہ فیصلہ کیا تھا کسی مقدمہ کی سماعت ملتوی نہیں ہوگی سوائے دو صورتوں میں کہ وکیل کا انتقال ہوجائے یا جج رحلت فرما جائے۔ وکالت کا آغاز ملتان سے کیا اور ملتان ہائیکورٹ بنچ کی تشکیل کے پہلے روز بھی عدالت میں بطور وکیل 10 جنوری 1981ء کو پیش ہوئے تھے، اب ڈی جی خان الگ ہو گیا ہے اس سے قبل وہ ملتان ہیڈ کوارٹر میں شامل تھا بہت سال یہاں پریکٹس کی جب تمام کیسز لاہور سے ملتان شفٹ ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ ملتان سے محبت اور پیار ملا سینئر وکلا نے بہت کچھ سکھایا اور انہیں کی ٹریننگ کی وجہ سے ہر جگہ انہیں مدد ملی ہے۔ جسٹس امین الدین خان کو جب سپریم کورٹ کا جج ایلیویٹ کیا گیا تو بہت لوگوں نے کہا کہ کہیں فیورٹ ازم تو نہیں ملتانی ہونے کی وجہ سے لیکن ان کو یہ کہا کہ سب میرٹ پر ہوا ہے جو وقت ثابت کرے گا۔ ملتان بینچ میں بہت سی یادیں ہیں، ٹیبل ٹینس سمیت کئی گیمز ہوا کرتیں تھی جس کے وہ چمپئن رہے ہیں ابھی وہ تمام لوگ ہمیں یاد ہیں جو ہمارے ساتھ کھیلا کرتے تھے، سردار لطیف کھوسہ کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے آج بھی کئی چیزوں میں وہ کپتان ہیں، جب وہ سپریم کورٹ کے وکیل بنے تو وہ لاہور منتقل ہو گئے تھے اور اس وقت کوئی عدالت کے اندر کسی سانحہ کے بارے میں نہیں سوچ سکتا تھا۔اب میں سوچتا ہوں کہ حالات ویسے نہیں رہے اس کی دو اہم وجہ ہیں معاشرہ غیر متوازن ہوگیا ہے اور سینئر اور جونیئر وکلاء میں فرق پیدا ہوگیا ہے،ایک اہم وجہ یہ ہے کہ کیسز کی تعداد بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے ججز پر بوجھ ہے اور اسی وجہ سے وکلا کو مکمل طریقہ سے نہیں سنا جاتا اور ججز کوشش کرتے ہیں کہ ایک دن میں زیادہ سے زیادہ کیسز کی سماعت کرکے فیصلہ کریں۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اپنے ہفتہ وار دورہ ملتان کے موقع پر میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آ رمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع آئین میں رہتے ہوئے اور خطے کی صورتحال کے باعث دی گئی ہے،جنرل باجوہ کا موجودہ صورتحال میں اہم کردار ہے،ماضی کی حکومتوں کے برعکس ہماری حکومت نے آرمی چیف کے معاملے پر عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔وزیر اعظم نے کابینہ سے مشاورت کی اور ان کا موقف سنا،انہوں نے فیصلہ کیا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ملکی مفاد میں ہے اورصدر نے وزیر اعظم کی سفارش پر نوٹیفکیشن جاری کیا۔مسئلہ کشمیر کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان کبھی بھی ایڈونچر کرسکتا ہے لیکن ہماری مسلح افواج انڈین عزائم سے نمٹنے کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔دھرنے کی وجہ سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچا،کشمیر آج بھی پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں میڈیا سے درخواست ہے کشمیر سے نظر مٹ ہٹائیں۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر ایک خطہ کا نہیں بلکہ عالمی مسئلہ بن چکا ہے،کشمیر میں کرفیو اور کالے قوانین کے نفاذ کو4ماہ ہونے کو ہیں ہم کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی اصولی جدوجہد میں ان کی معاونت جاری رکھیں گے۔

ملک بھر کی طرح جنوبی پنجاب میں بھی پیپلز پارٹی کے 52ویں یوم تاسیس کی مناسبت سے تقاریب منعقد کی گئیں اور جیالوں نے کیک کاٹے۔سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے رکن صوبائی اسمبلی علی حید رگیلانی نے شعبہ خواتین ملتان شہر کی یوم تاسیس کے حوالے سے منعقد تقریب سے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی غریب کو طاقتور بنانے کیلئے بنائی گئی اور عوام کی حکمرانی چاہتی ہے،اس لئے جب بھی پی پی کو اقتدار ملا اس نے غریب کسانوں،خواتین اور کچلے ہوئے محروم طبقات کیلئے عملی اقدامات کئے جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی صورت میں آج بھی موجود ہے۔اس کے علاوہ ملتان ڈسٹرکٹ بار میں بھی پیپلز لائرز فورم کے زیر اہتمام یوم تاسیس کا کیک کاٹا گیاجس میں وکلاء رہنماؤں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1